ممتاز دولتانہ

ممتاز دولتانة

–

لاهور

پاکستانی سیاست دان (1916ء–1995ء)، احمد یار خان دولتانہ کے بیٹے اور مغربی پنجاب کے دوسرے وزیر اعلیٰ (1951ء–1953ء)، جو 1953 کے لاہور فسادات اور مارشل لا کے بعد مستعفی ہوئے، پھر چونڈریگر حکومت میں وزیر دفاع (1957ء) اور برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر (1972ء–1979ء) رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد اللطيف تشودري الفلتالي · عبد الله العلايلي · عبد الرزاق فخر الدين · آدم عبد اللہ عثمان · أحمد علي العصامي

مکان میں

لاهور

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    میاں ممتاز دولتانہ (20 فروری 1916ء – 30 جنوری 1995ء) پاکستانی سیاست دان اور تحریک آزادی کے کارکن تھے۔ وہ مغربی پنجاب کے دوسرے وزیر اعلیٰ (1951ء–1953ء) رہے اور 1953 کے لاہور فسادات اور مارشل لا کے بعد مستعفی ہوئے، پھر وزیر دفاع (1957ء) اور برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر (1972ء–1979ء) رہے۔ ان کا کوئی عربی ویکیپیڈیا مقالہ نہیں؛ یہ تعارف انگریزی اور اردو مقالوں اور وکی ڈیٹا سے لکھا گیا ہے۔ 1 2 3

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ لدن میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد احمد یار خان دولتانہ تھے، جو امیر پنجابی زمیندار اور یونینسٹ سیاست دان تھے۔ انگریزی مقالہ ان کی تاریخ پیدائش 20 فروری 1916 دیتا ہے، جبکہ وکی ڈیٹا میں 20 جنوری 1915 ہے؛ یہ اختلاف ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں محفوظ ہے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ پڑھی، پھر آکسفورڈ کے کارپس کرسٹی کالج سے ایم اے کیا اور 1939 میں مڈل ٹیمپل سے بار میں بلائے گئے۔ 1

    سیاسی زندگی

    وہ 1942 میں پنجاب مسلم لیگ میں شامل ہوئے، 1944 میں لیگ کے منشور کی تیاری میں مدد کی اور 1946 میں پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن بنے۔ 1951 کے انتخابات کے بعد وہ مغربی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے؛ ان کی حکومت نے زرعی اصلاحات متعارف کرائیں اور نوائے وقت پر پابندی لگائی۔ 1953 میں احمدیوں کے خلاف مطالبات اور لاہور کے فسادات کے دوران، جیسا کہ انگریزی مقالہ درج کرتا ہے، انہوں نے مظاہرین کی حمایت کی؛ پھر فوج بلائی گئی، مارشل لا لگایا گیا اور وہ مستعفی ہو گئے۔ ان کے بعد فیروز خان نون وزیر اعلیٰ بنے۔ یہ واقعات ایسے ہی درج ہیں جیسے ماخذ بیان کرتے ہیں۔ 1 2

    بعد کی زندگی اور وفات

    وہ اکتوبر تا دسمبر 1957 چونڈریگر حکومت میں وزیر دفاع رہے، پھر 1972 سے 1979 تک برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہے۔ ان کی وفات 30 جنوری 1995 کو لاہور میں ہوئی۔ 1 3

    حوالہ جات

    • اوپر جن تعریف شدہ ماخذوں کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام ہونا چاہیے جس نے ہر واقعہ بدلا۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    احمد یار خان دولتانہ
    Died in
    لاهور

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· اعصام الحق قریشی· الطاف حسین حالی· امین احسن اصلاحی

    ماخذ

    1. Mumtaz Daultana — English Wikipedia
    2. Mumtaz Daultana — Urdu Wikipedia
    3. Mumtaz Daultana — Wikidata Q6935509
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ممتاز دولتانہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mumtaz-daultana/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد بادشاهي

    A mosque in Lahore, dated to 1671 CE.