مصطفی الکاظمی

مصطفى الكاظمي

بغداد

مصطفى عبد اللطیف مشتت الغریباوی، معروف بہ مصطفى الکاظمی (پیدائش 5 جولائی 1967ء)، ایک آزاد عراقی سیاست دان ہیں جو 7 مئی 2020ء سے 27 اکتوبر 2022ء تک عراق کے وزیرِ اعظم رہے۔ وہ 2016ء سے 2022ء تک عراقی قومی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ رہے، اس سے پہلے صحافی اور عراق میموری فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر تھے، اور نومبر 2021ء میں ڈرون قاتلانہ حملے میں بچ گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

مکان میں

بغداد

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور جلاوطنی

    الکاظمی بغداد کے علاقے کاظمیہ میں پیدا ہوئے؛ عربی مقالہ اور ویکی ڈیٹا ان کی پیدائش 5 جولائی 1967ء بتاتے ہیں، جبکہ انگریزی مقالہ 1964ء دیتا ہے اور اس کا متن و معلوماتی خانہ دن میں بھی مختلف ہیں، ایک ایسی قرأت جو ایک ہی ماخذ پر ٹکی ہے۔ ان کے والد عبد اللطیف جنوبی شہر شطرہ سے تھے اور بغداد ایئرپورٹ میں تکنیکی نگران تھے۔ صدام حسین کے نظام کے مخالف الکاظمی نے 1985ء میں عراق چھوڑا، ایران و جرمنی میں رہے اور پھر برطانیہ میں مقیم ہو کر صحافی و انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر کام کیا۔ 1 2

    میڈیا اور انٹیلی جنس

    2003ء کے بعد الکاظمی نے عراقی میڈیا نیٹ ورک کی تشکیل میں حصہ لیا اور 2003ء سے 2010ء تک عراق میموری فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر رہے، جو بعثی نظام کے جرائم کی دستاویز بندی کرتی تھی۔ وہ نیوز ویک عراق کے مدیر (2010ء–2013ء) رہے، المانیٹر کے عراقی ایڈیشن میں لکھتے رہے اور 2012ء میں التراث یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ جون 2016ء میں وہ عراقی قومی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ بنے، اس کی اصلاح کی اور داعش کے خلاف جنگ میں اس کی قیادت کی؛ ان کے دور میں اکتوبر 2021ء میں داعش کے مالی سربراہ سامی جاسم الجبوری کو گرفتار کیا گیا۔ 2020ء میں چند ہفتے وہ قائم مقام وزیرِ خارجہ بھی رہے۔ 1

    وزارتِ عظمیٰ

    2019ء کی احتجاجی تحریک نے عادل عبد المہدی کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا تو صدر برہم صالح نے 9 اپریل 2020ء کو الکاظمی کو حکومت بنانے کی دعوت دی — دس ہفتوں میں تیسرے نامزد — اور پارلیمان نے 6 مئی کو ان کی تصدیق کی؛ انہوں نے 7 مئی 2020ء کو منصب سنبھالا۔ انہوں نے «حل کی حکومت» کا وعدہ کیا، قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا، سعودی عرب و ایران کے درمیان ثالثی کی اور 6 مارچ — ار میں پوپ فرانسس کے بین المذاہب اجتماع کا دن — کو قومی یومِ رواداری و بقائے باہمی قرار دیا۔ کتائب حزب اللہ نے ان پر قاسم سلیمانی و ابو مہدی المہندس کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا الزام لگایا، جس کی انہوں نے تردید کی۔ 7 نومبر 2021ء کی صبح وہ گرین زون میں اپنی رہائش گاہ پر دھماکا خیز ڈرون حملے میں بچ گئے۔ ان کی مدت 27 اکتوبر 2022ء کو ختم ہوئی اور محمد شیاع السودانی ان کے جانشین بنے؛ جانشینی کا ربط السودانی کے ریکارڈ میں لکھا گیا ہے۔ دو برس بیرونِ ملک گزار کر وہ فروری 2025ء میں بغداد لوٹے۔ 1 2

    مذہب

    ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔ کوئی متن ان کی وابستگی نہیں بتاتا؛ ویکی ڈیٹا اسلام عمومی دیتا ہے، کوئی مکتب نہیں، اور عربی مقالے کی «عراقی شیعہ» زمرہ بندی ایک فائلنگ ہے۔ جس تحریر پر انگریزی مقالہ ان کی تاریخِ پیدائش کے لیے انحصار کرتا ہے اس کا عنوان پوچھتا ہے کہ وہ سنی ہیں یا شیعہ، مگر مقالہ خود کوئی جواب اختیار نہیں کرتا۔ 1 2 3

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔ اردو ویکیپیڈیا کا اس موضوع پر مقالہ ایک مختصر مسودہ ہے جو اپنے ہی حوالے کے مطابق انگریزی مقالے سے ماخوذ ہے؛ یہ بیان انگریزی و عربی مقالات پر بھی مبنی ہے۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Predecessor of
    محمد شیاع السودانی
    Born in
    بغداد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمد شیاع السودانی· بغداد· المدرسة النظامية ببغداد· بيت الحكمة (خزانة الحكمة)· البيمارستان العضدي· المارستان المقتدري· مارستان السيدة· دار العلم ببغداد (دار العلم السابورية)

    ماخذ

    1. Mustafa Al-Kadhimi — English Wikipedia
    2. Mustafa Al-Kadhimi — Arabic Wikipedia
    3. Mustafa Al-Kadhimi — Wikidata Q85317569
    • Mustafa Al-Kadhimi — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مصطفی الکاظمی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mustafa-al-kadhimi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمد شیاع السودانی

    محمد شیاع صبار السودانی (پیدائش 4 مارچ 1970ء) ایک عراقی سیاست دان ہیں جو 27 اکتوبر 2022ء سے 14 مئی 2026ء تک مصطفى الکاظمی کے جانشین کے طور پر عراق کے وزیرِ اعظم رہے۔ وہ زرعی انجینئر ہیں، میسان کے ایک خاندان سے ہیں جن کے والد کو 1980ء میں حزب الدعوۃ کی رکنیت پر پھانسی دی گئی؛ وہ 2009ء–2010ء میں گورنر میسان، 2010ء–2014ء میں وزیرِ انسانی حقوق اور 2014ء–2018ء میں وزیرِ محنت و سماجی امور رہے۔