مصطفى طلاس

مصطفى طلاس

–

شامی افسر اور سیاست دان جنہوں نے 1972 سے 2004 تک حافظ الاسد اور پھر بشار الاسد کے دور میں وزیر دفاع کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ مصنف اور ناشر بھی تھے اور ان کی بعض کتابوں اور بیانات نے شدید تنازع کھڑا کیا۔ وہ منحرف جنرل مناف طلاس کے والد ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
جرنیل · سیاست دان · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · شیخ احمد لیمو · علی حسن موینی · علي يافعي · باجی قائد السبسی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    تعارف

    مصطفى عبد القادر طلاس (11 مئی 1932 – 27 جون 2017) شامی افسر اور سیاست دان تھے جنہوں نے 1972 سے 2004 تک وزیر دفاع کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ حافظ الاسد کے قریب ترین وفاداروں میں سے تھے اور بشار الاسد کے دور کے ابتدائی برسوں تک اپنے عہدے پر رہے۔ وہ مصنف اور ایک اشاعتی ادارے کے بانی بھی تھے، اور منحرف جنرل مناف طلاس کے والد تھے۔ 1

    ابتدائی زندگی اور کیریئر

    وہ حمص کے قریب الرستن میں پیدا ہوئے، پندرہ برس کی عمر میں بعث پارٹی میں شامل ہوئے اور 1952 میں حمص ملٹری اکیڈمی میں داخل ہوئے، جہاں حافظ الاسد سے ان کی قریبی دوستی شروع ہوئی۔ 1968 میں وہ چیف آف اسٹاف بنے اور 1972 میں وزیر دفاع مقرر ہوئے، اور تین دہائیوں سے زیادہ اس عہدے پر رہے۔ 1 2

    بعد از اسد

    2000 میں حافظ الاسد کی وفات کے بعد وہ عبوری کمیٹی کے رکن تھے اور بشار الاسد کی جانشینی کی راہ ہموار کرنے والی آئینی ترمیم کی نگرانی کی۔ 2004 میں حسن ترکمانی ان کے جانشین بنے۔ 2011 کی بغاوت کے آغاز کے بعد وہ علاج کی غرض سے فرانس چلے گئے اور 27 جون 2017 کو 85 برس کی عمر میں وفات پائی۔ 1

    تحریریں اور تنازعات

    طلاس نے شامی فوجی و سیاسی تاریخ، شاعری اور یادداشتوں پر کتابیں لکھیں، جن میں «زنوبیا» (1985) اور پانچ جلدوں پر مبنی یادداشتیں «مرآة حیاتی» شامل ہیں؛ ان کی یادداشتوں پر عرب دنیا میں تنقید اور تمسخر ہوا، جیسا کہ مضمون میں درج ہے۔ 1 مضمون میں درج ہے کہ وزیر دفاع کی حیثیت سے وہ ہر قسم کی مخالفت کو دبانے میں شریک رہے، اور نیویارک ٹائمز کے مطابق 1982 کی حماہ بغاوت کے حکومتی ردعمل سے ان کا گہرا تعلق تھا؛ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے بے شمار سزائے موت کی منظوری دی تھی۔ 1 ان کی کتاب «فطیر صہیون» (1983) نے 1840 کے دمشق واقعے سے منسوب فرية الدم (blood libel) کو دوبارہ زندہ کیا؛ مضمون اس الزام کو قدیم فرية اور جھوٹ قرار دیتا ہے اور ریکارڈ کرتا ہے کہ طلاس نے بارہا اس کتاب کا دفاع کیا۔ 1

    حوالہ جات

    • "Mustafa Tlass"، انگریزی ویکیپیڈیا، 28 جولائی 2026 کی نظرثانی۔ 1
    • «مصطفى طلاس»، عربی ویکیپیڈیا، 25 ستمبر 2026 کی نظرثانی۔ 2
    • ویکی ڈیٹا آئٹم Q403707۔ 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    مناف طلاس

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مناف طلاس

    ماخذ

    1. Mustafa Tlass — English Wikipedia
    2. مصطفى طلاس — ويكيبيديا العربية
    3. Mustafa Tlass — Wikidata Q403707
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مصطفى طلاس”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mustafa-tlass/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مناف طلاس

    شامی ریپبلکن گارڈ کے بریگیڈیئر جنرل اور سابق وزیر دفاع مصطفى طلاس کے بیٹے۔ بشار الاسد کے قریبی حلقے کے رکن تھے، جولائی 2012 میں منحرف ہو کر حزب اختلاف کی حمایت کا اعلان کیا؛ وہ ایسا کرنے والے ریپبلکن گارڈ کے پہلے کمانڈر تھے۔