ایک نظر میں
- کردار
- حکمران
- خطہ
- persia-central-asia
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
نصر اللہ خان بارکزئی (1874ء – 31 مئی 1920ء) افغانستان کے شہزادے (ولی عہد) اور امیر عبد الرحمٰن خان کے دوسرے بیٹے تھے۔ بڑے بھائی حبیب اللہ خان کے قتل کے بعد وہ ایک ہفتے، 21 تا 28 فروری 1919ء، کے لیے امیر رہے، پھر بھتیجے امان اللہ نے انہیں معزول کر دیا۔ انگریزی مضمون کا متن ان کی پیدائش کا سال 1874ء دیتا ہے اور معلوماتی خانہ 7 اپریل 1875ء؛ اختلاف ڈیٹا فائل میں درج ہے۔ 1 2
ولی عہد
وہ 1874ء میں سمرقند میں پیدا ہوئے، جب ان کے والد روسی ترکستان میں جلاوطن تھے؛ وہ تین بیٹوں میں سے دوسرے تھے، اور ان کے بھائی حبیب اللہ خان اور محمد عمر خان تھے۔ جب 1880ء میں ان کے والد امیر بنے تو دونوں بھائی ولی عہد قرار پائے۔ 1895ء میں، والد کی صحت نے سفر سے روکا تو، وہ ان کی جگہ سرکاری دورے پر انگلستان گئے، ونڈسر میں ملکہ وکٹوریا نے ان کا استقبال کیا، اور انہوں نے عبد اللہ کوئلیم کے لیورپول مسلم انسٹیٹیوٹ کو 2500 پاؤنڈ کا عطیہ دیا؛ اسی سال انہیں جی سی ایم جی بنایا گیا۔ 1 3
حبیب اللہ کے عہد میں وہ فوج کے سپہ سالار اور مجلسِ ریاست کے صدر تھے، اور ان کے والد نے انہیں حبیب اللہ کے اپنے بیٹوں پر مقدم کر کے وارث نامزد کیا تھا، جس سے دربار میں ان کے طاقتور دشمن بن گئے۔ 1
امارت کا ہفتہ اور زوال
حبیب اللہ 20 فروری 1919ء کو لغمان میں شکار کے دوران قتل ہوئے۔ نصر اللہ 21 فروری کو جلال آباد میں امیر اعلان ہوئے، لیکن امان اللہ، جن کے پاس کابل، خزانہ اور اسلحہ خانہ تھا، نے بغاوت کر دی؛ نصر اللہ نے خانہ جنگی سے بچنے کے لیے ایک ہفتے بعد معزولی قبول کر لی۔ 13 اپریل 1919ء کو ایک شاہی دربار نے قتل کا مقدمہ سنا: ایک کرنل کو قتل کے الزام میں پھانسی ہوئی، اور نصر اللہ کو شرکت کے الزام میں — ایسے شواہد پر جنہیں ماخذ من گھڑت بتاتے ہیں — عمر قید کی سزا ہوئی۔ تقریباً ایک سال بعد وہ کابل کے شاہی قید خانے میں قتل کر دیے گئے اور 31 مئی 1920ء کو وفات پائی؛ وہ کابل میں کوہِ آسمائی میں دفن ہوئے۔ 1 2 3
مذہبی ریکارڈ
کوئی ماخذ ان کے مسلک کا نام نہیں لیتا۔ انگریزی مضمون انہیں گہرے مذہبی شخص کے طور پر بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ قرآن کے حافظ تھے، دربار کے مذہبی دھڑوں کی قیادت کرتے تھے اور اسلامی اصولوں سے مضبوطی سے ہم آہنگ پالیسی کے حامی تھے؛ عربی مضمون کا معلوماتی خانہ اسلام عام طور پر دیتا ہے اور اردو مضمون میں مذہب کا کوئی خانہ نہیں۔ عبادت اور پالیسی کسی مسلک کا نام نہیں، لہٰذا عجائب گھر کے دو ماخذوں کے اصول کے مطابق ریکارڈ «نامعلوم» رہتا ہے، عام شہادت والی صورت میں۔ 1 2 3
ماخذ
- اوپر جن متعین ماخذوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہوگی اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے گی۔
تعلقات
- Sibling of
- حبیب اللہ خان
- Died in
- كابل
- Buried in
- كابل
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· عبد اللہ عبد اللہ· احمد شاہ مسعود· امان اللہ خان· اشرف غنی
ماخذ
- Nasrullah Khan — English Wikipedia
- Nasrullah Khan — Arabic Wikipedia
- Nasrullah Khan — Urdu Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “نصر اللہ خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nasrullah-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.