ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · economist · academic
- خطہ
- persia-central-asia
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
محمد اشرف غنی احمدزئی (پیدائش: 19 مئی 1949ء) افغان سیاست دان، ماہر انسانیات اور ماہر معاشیات ہیں، جو 29 ستمبر 2014ء سے 15 اگست 2021ء تک افغانستان کے صدر رہے، جب طالبان کے کابل پر قبضے پر وہ ملک چھوڑ گئے۔ اس سے قبل وہ عالمی بنک کے سرکردہ ماہر انسانیات، افغانستان کے وزیر خزانہ (2002ء–2004ء) اور جامعہ کابل کے چانسلر (2004ء–2008ء) رہے۔ 1 2
تعلیم اور علمی زندگی
غنی صوبہ لوگر میں احمدزئی پشتون قبیلے میں پیدا ہوئے، کابل میں ثانوی تعلیم حاصل کی اور تدریسی سال 1966ء–1967ء اوریگن میں تبادلے کے طالب علم کے طور پر گزارا۔ انھوں نے 1973ء میں امریکی یونیورسٹی بیروت سے بیچلر کیا، جامعہ کابل اور آرہوس میں پڑھایا، اور کولمبیا یونیورسٹی سے ثقافتی انسانیات میں ماسٹرز (1977ء) اور ڈاکٹریٹ (1983ء) مکمل کی۔ پھر برکلے اور جانز ہاپکنز میں پڑھایا اور 1991ء میں عالمی بنک سے وابستہ ہو کر اس کے سرکردہ ماہر انسانیات بنے۔ 1
واپسی: وزارت خزانہ اور چانسلری
غنی چوبیس برس کی غیر حاضری کے بعد دسمبر 2001ء میں افغانستان واپس آئے، عبوری انتظامیہ کے مشیر رہے، اور 2 جون 2002ء کو وزیر خزانہ بن کر کرنسی، خزانے اور محصولات میں وسیع اصلاحات کیں۔ دسمبر 2004ء میں انھوں نے کابینہ کا عہدہ لینے کے بجائے جامعہ کابل کی چانسلری قبول کی اور 2008ء تک اس عہدے پر رہے؛ کلیئر لوک ہارٹ کے ساتھ انھوں نے انسٹی ٹیوٹ فار اسٹیٹ ایفیکٹیونیس قائم کیا اور «ناکام ریاستوں کی اصلاح» (2008ء) تصنیف کی۔ 2009ء کے صدارتی انتخاب میں وہ تقریباً تین فیصد ووٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے۔ 1 3
صدارت
غنی نے 2014ء کے متنازع صدارتی انتخاب میں اپنے حریف عبد اللہ عبد اللہ کے ساتھ امریکی ثالثی میں قومی اتحاد کے معاہدے کے بعد کامیابی پائی، جو چیف ایگزیکٹو بنے؛ 2019ء کے انتخاب کے مؤخر اعلان کے بعد وہ دوبارہ منتخب ہوئے۔ صدر کی حیثیت سے وہ پرجوش تکنوکریٹک عزائم کے لیے معروف تھے، اور انگریزی مضمون درج کرتا ہے کہ ان کے بہت سے وعدے — بدعنوانی کا خاتمہ اور ملک کو تجارتی مرکز بنانا — ادھورے رہے، اور 2021ء میں طالبان کے حملے سمیت ان پر الگ تھلگ رہنے کی تنقید ہوئی۔ 1
کابل کا سقوط
15 اگست 2021ء کو، جب طالبان کابل میں داخل ہوئے، غنی اپنی اہلیہ اور دو قریبی ساتھیوں کے ساتھ افغانستان چھوڑ گئے؛ متحدہ عرب امارات نے 18 اگست کو تصدیق کی کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کی اور ان کے خاندان کی میزبانی کر رہا ہے۔ غنی کا کہنا تھا کہ وہ خون خرابہ روکنے اور پھانسی سے بچنے کے لیے گئے، اور انھوں نے کبھی واپسی کا وعدہ کیا۔ انگریزی مضمون درج کرتا ہے کہ مختلف حلقوں میں ان پر افغانستان کو طالبان کے حوالے کرنے کی مذمت ہوئی، احمد مسعود سمیت افغان سیاست دانوں نے ان پر ملک چھوڑنے کی تنقید کی، اور ان کے دور حکومت میں ان پر بدعنوانی کا الزام لگا؛ یہ سب یہاں مضمون کے منسوب بیانات کے طور پر پیش ہے، نہ کہ ثابت شدہ نتائج کے طور پر۔ 1
مذہبی ریکارڈ
انگریزی مضمون میں کوئی مذہبی مواد بالکل نہیں، اور عربی و اردو مضامین کے معلوماتی خانوں میں ان کا مذہب صرف عمومی طور پر اسلام درج ہے، کسی متن میں کوئی مسلک نہیں۔ عمومی اسلام کسی مسلک کا ثبوت نہیں، اور صدر کی پالیسیاں ریاستی پالیسی ہوتی ہیں۔ عجائب گھر کے دو ذرائع کے اصول کے تحت ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔ 1 3 2
Sources
- The defined source entities cited above, recorded in
data/source/. - Revisions of this article must be dated, and must name the source that changed each fact.
تعلقات
- Lived in
- كابل
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· عبد اللہ عبد اللہ· احمد شاہ مسعود· برہان الدین ربانی· فوزیہ کوفی
ماخذ
- Ashraf Ghani — English Wikipedia
- Ashraf Ghani — Urdu Wikipedia
- Ashraf Ghani — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “اشرف غنی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ashraf-ghani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.