قطب الدین شیرازی

قطب الدين الشيرازي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

شيراز → تبريز

قطب الدین محمود بن ضیاء الدین مسعود بن مصلح شیرازی (اکتوبر 1236ء – 1311ء) فارسی عالم تھے جنھوں نے فلکیات، ریاضی، طب، طبیعیات، نظریہ موسیقی، فلسفہ اور تصوف میں کام کیا۔ وہ کازرون کے ایک صوفی خاندان سے تعلق رکھتے تھے؛ والد نے دس برس کی عمر میں انھیں خرقہ عطا کیا۔ مراغہ جا کر وہ نصیر الدین طوسی کے شاگرد ہوئے، بعد میں سیواس و ملطیہ کے قاضی رہے، اور «نہایۃ الادراک» و «درۃ التاج» جیسی کتابیں لکھیں۔ وفات تبریز میں ہوئی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
ماہرِ فلکیات · mathematician · طبیب · فلسفی · شاعر · mystic
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1175عیسوی1200عیسوی1225عیسوی1250عیسوی1275عیسوی1300عیسوی1325عیسوی1350عیسوی1375عیسوی تقریباً
الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · العصر المغولي وما بعده ہم عصر: ست الوزراء التنوخية · نظام الدین اولیاء · ابن جماعة بدر الدين محمد بن إبراهيم · الدمياطي · الجعبري أبو إسحاق إبراهيم بن عمر

مکان میں

شيرازتبريز

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    قطب الدین محمود بن ضیاء الدین مسعود بن مصلح شیرازی (اکتوبر 1236ء – 1311ء) فارسی عالم تھے جنھوں نے فلکیات، ریاضی، طب، طبیعیات، نظریہ موسیقی، فلسفہ اور تصوف میں کام کیا۔ 1 وہ کازرون کے اس خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو طبیبوں کے لیے مشہور تھا؛ شیراز کے مظفری اسپتال میں والد سے طب سیکھی اور ان کے بعد وہاں ماہر چشم بنے، پھر مراغہ جا کر نصیر الدین طوسی کی نئی رصد گاہ میں کام کیا۔ 1 2 بعد میں وہ سیواس و ملطیہ کے قاضی رہے، 1282ء میں ایل خان احمد تکودار کے سفیر بن کر مملوک سلطان قلاوون کے پاس گئے، اور وفات تبریز میں ہوئی۔ 1

    خرقہ اور ان کا تصوف

    ان کے والد ضیا الدین کو خرقہ — صوفیانہ خلعت — شہاب الدین عمر سہروردی نے عطا کیا تھا، اور انھوں نے دس برس کی عمر میں بیٹے کو بطور برکت یہ خرقہ پہنایا؛ بعد میں قطب الدین نے اپنی خرقہ صوفی نجیب الدین بوزگوش شیرازی سے بھی حاصل کی۔ 1 عربی مضمون بھی لکھتا ہے کہ وہ صوفی خاندان میں پیدا ہوئے اور والد نے دس برس کی عمر میں انھیں خرقہ دیا، اور اردو مضمون والد کا سلسلہ «کازرونیہ» بتاتا ہے۔ 2 3 تین آزاد متنوں میں ثابت یہی بیعت و خلعت ان کا صوفی انتماء طے کرتی ہے؛ کسی متن میں ان کے لیے کوئی فقہی مذہب نہیں بتایا گیا، اور مالکی اصول کی کتاب پر ان کی شرح کسی کتاب پر علمی کام ہے، ان کا اپنا مذہب نہیں۔ 1 2

    ولادت، طوسی کی شاگردی اور وفات

    انگریزی مضمون انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق ان کی ولادت اکتوبر 1236ء شیراز میں بتاتا ہے؛ عربی اور اردو مضامین جائے پیدائش کازرون بتاتے ہیں، جو ان کے خاندان کا آبائی شہر تھا، اور یہ اختلاف ان کے ریکارڈ میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ 1 2 3 مراغہ میں انھوں نے نصیر الدین طوسی سے ابن سینا کی «الاشارات» اور علم ہیئت پڑھا اور نئی فلکیاتی جداول کی تکمیل میں ان کے شریک رہے۔ 1 2 وفات 1311ء میں تبریز میں ہوئی — عربی مضمون کے مطابق 710ھ — اور وہ شہر کے چرنداب قبرستان میں دفن ہوئے۔ 1 2 4

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    شيراز
    Died in
    تبريز
    Buried in
    تبريز
    Studied under
    نصير الدين الطوسي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ملك البهلوان مدينة تبريز· باقلانی بغداد سے باہر قاضی کے منصب پر اور شیراز کا دورہ، تقریباً 970–983ء· وقعة باب شيراز ٢٩٧هـ· فتح أرجان وشيراز وبلاد فارس· ملك جلال الدين أذربيجان· عود جلال الدين إلى تبريز وملكه كنجة· استيلاء الليث الصفاري على فارس وشيراز ٢٩٧هـ· شیراز میں مقدسی کا احسن التقاسیم لکھنے کا ارادہ، 375ھ/985ء

    ماخذ

    1. Qutb al-Din al-Shirazi — English Wikipedia
    2. Qutb al-Din al-Shirazi — Arabic Wikipedia
    3. Qutb al-Din al-Shirazi — Urdu Wikipedia
    4. Qutb al-Din al-Shirazi (Q729903)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “قطب الدین شیرازی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/qutb-al-din-shirazi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-02.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ملك البهلوان مدينة تبريز

    Muḥammad al-Bahlawān ibn Īldigiz took Tabrīz in Azerbaijan, succeeding his father's hold on it and its dependencies.