ایک نظر میں
- کردار
- military · سیاست دان
- خطہ
- anatolia-balkans
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ابراہیم رفت بیلے (1881 – 3 اکتوبر 1963) ترک فوجی کمانڈر اور مدبر تھے۔ انہوں نے عثمانی فوج اور پھر ترک فوج میں خدمات انجام دیں اور جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، کئی برس گرینڈ نیشنل اسمبلی کے رکن رہے، اور انقرہ حکومت میں دو بار وزیرِ داخلہ اور وزیرِ دفاعِ ملی رہے۔ 1
تھیسالونیکی سے فلسطین تک
وہ 1881 میں تھیسالونیکی (سیلانک) میں ایک ترک خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کا خاندانی نام بیلے ان کے دادا سے آیا جو بلغاریہ کے بیالا (بیلے) سے تھے۔ خاندان اسطنبول منتقل ہوا اور پھر ان کی شیرخوارگی میں تھیسالونیکی لوٹ آیا۔ انہوں نے عثمانی عسکری کالج میں تعلیم پائی، جمعیتِ اتحاد و ترقی میں شامل ہوئے، اور اطالوی-ترک جنگ اور پہلی بلقان جنگ میں لڑے، جس میں ان کا آبائی شہر یونانیوں کے ہاتھ چلا گیا۔ پہلی جنگِ عظیم میں انہوں نے سینائی و فلسطین مہم میں حصہ لیا — رومانی، غزہ کی دوسری جنگ اور مجیدو میں — اور ڈویژن و کور کی قیادتوں تک ترقی پائی۔ 1 2
جنگِ آزادی اور جمہوریہ
ترک جنگِ آزادی میں انہوں نے مغربی محاذ پر قیادت کی، اور انقرہ حکومت میں ستمبر 1920 سے مارچ 1921 اور پھر جون سے اکتوبر 1921 تک وزیرِ داخلہ رہے، پھر اگست 1921 سے جنوری 1922 تک وزیرِ دفاعِ ملی رہے۔ انگریزی مضمون بایار (2024) اور بیوغلو (2011) کے حوالے سے درج کرتا ہے کہ وزیرِ داخلہ کی حیثیت سے انہوں نے جولائی 1921 میں نورالدین پاشا کے ان احکام کو برقرار رکھا جن کے تحت اردو سے بنطسی یونانیوں کو، عورتوں، بچوں اور بزرگوں سمیت، جلاوطن کیا گیا، حالانکہ ضلع کے منتظم نے احتجاج کیا اور 22 جولائی کو ان احکام کو مجرمانہ کہہ کر عمل درآمد سے انکار کرتے ہوئے استعفا دے دیا۔ بیلے 1920 سے 1923 تک ازمیر اور 1923 سے 1926 تک اسطنبول سے، اور پھر 1935 سے 1950 تک اسطنبول سے گرینڈ نیشنل اسمبلی کے رکن رہے۔ 1
وفات اور ان کے دین کا سوال
وہ 1963 میں اسطنبول میں انتقال کر گئے اور زینجیرلی کویو قبرستان میں دفن ہوئے؛ ترک مضمون بتاتا ہے کہ ان کی وصیت اور خاندان کی خواہش پر ان کی قبر ریاستی قبرستان منتقل نہیں کی گئی۔ مآخذ ان کی وفات میں ایک دن کا اختلاف رکھتے ہیں: انگریزی مضمون اور وکی ڈیٹا 3 اکتوبر 1963 دیتے ہیں، جبکہ ترک مضمون پارلیمان کے البم کے حوالے سے 2 اکتوبر دیتا ہے؛ یہ ریکارڈ 3 اکتوبر کو اختیار کرتا ہے اور تاریخ کو متنازع درج کرتا ہے۔ 2 3
ان کے دین کے بارے میں مآخذ کچھ بھی نہیں کہتے: انگریزی مضمون کوئی دین نام نہیں لیتا، ترک مضمون کا معلوماتی خانہ دین کی خانہ خالی چھوڑتا ہے، اور وکی ڈیٹا میں ان کے لیے کوئی دینی بیان موجود نہیں۔ اس لیے میوزیم کے دو ماخذوں کے اصول کے تحت ان کا عقیدہ نامعلوم درج کیا گیا ہے۔ 1 2 3
مآخذ
- اوپر مذکور معرف مآخذ کے اندراجات،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخہ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام لے جس نے ہر حقیقت بدلی۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا
ماخذ
- Refet Bele — English Wikipedia
- Refet Bele — Turkish Wikipedia
- Refet Bele — Wikidata Q1422996
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “رفت بیلے”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/refet-bele/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.