علاؤالدین خان

علاء الدين خان

تقریباً 1881 عیسوی · 1298 ھ –

ہندوستانی سرود نواز اور موسیقی کے استاد (تقریباً 1881ء–1972ء)، بنگال کے شیب پور میں پیدا ہوئے اور رام پور میں وزیر خان سے تعلیم پائی؛ بعد ازاں مَیہر کے درباری موسیقار اور اس کے گھرانے کے بانی ہوئے۔ ان کے شاگردوں میں ان کے بیٹے علی اکبر خان، روی شنکر اور نکھل بنرجی جیسے نام شامل ہیں جنھوں نے ہندوستانی موسیقی کی صورت بدل دی؛ وہ پدما وبھوشن پانے والے پہلے ہندوستانی موسیقار تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
musician · teacher
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحمید خان بھاشانی · محمد الصالح بن مراد · محمد طاہر بن عاشور · حسن تقی زادہ · ساطع الحصري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی

    وہ زیادہ تر قرائن کے مطابق تقریباً 1881ء میں مشرقی بنگال کے براہمن باڑیا ضلع کے گاؤں شیب پور میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد سبدار حسین خان ستار کے شوقین نواز تھے۔ ان کی پیدائش کے سال 1862ء، 1869ء اور 1871ء بھی بیان ہوئے ہیں، لیکن مضمون دلائل کی بنیاد پر تقریباً 1881ء کو ترجیح دیتا ہے۔1 وہ بچپن سے موسیقی کی طرف مائل تھے، مقامی شیو مندر کی مذہبی و موسیقی محفلوں اور سادھوؤں کے بھجن سننے جایا کرتے، اور لگ بھگ آٹھ برس کی عمر میں گھر سے بھاگ کر جاترا منڈلی کے ساتھ ڈھاکہ جا پہنچے۔1

    تعلیم

    لگ بھگ چودہ برس کی عمر میں کلکتہ پہنچے، جہاں گلوکار گوپال چندر بھٹّاچاریہ (نولو گوپال) سے سات برس تعلیم پائی؛ استاد کی وفات کے بعد سازوں کی طرف متوجہ ہوئے اور امرتلال دتّا کے پاس سات برس گزارے۔1 احمد علی خان کا راگ ٹوڑی سن کر رو پڑے اور ان کے شاگرد ہو گئے؛ چار برس خدمت کے بعد ان کے ہمراہ رام پور گئے، جہاں چھ ماہ کی ناکام کوشش اور ایک ہمدرد مولوی کی سفارش پر نواب حامد علی خان کے ذریعے بین کار وزیر خان نے انھیں باقاعدہ شاگرد بنایا اور سرود، رباب اور سرسرنگار سکھایا۔1

    مَیہر اور تدریس

    انھیں مَیہر بلایا گیا جہاں وہ مہاراجا برج ناتھ سنگھ کے ذاتی استاد اور درباری موسیقار بنے اور 1918ء میں وہیں آباد ہو گئے؛ تدریس کی اجرت لینے سے انکار کر کے انھوں نے زمین کا ٹکڑا قبول کیا۔1 ان کی تدریس اپنی سختی کے لیے مشہور تھی: شاگرد ان کے پاس گوشہ نشینی میں رہتے، برسوں باہر کی موسیقی اور سامعین سے دور رکھے جاتے اور آلاپ جیسی صورتوں سے دہائیوں تک روکے جاتے۔1 1918ء میں انھوں نے انفلوئنزا کی وبا کے یتیم بچوں سے مَیہر بینڈ قائم کیا اور اس کے لیے نل ترنگ اور ستار بینجو جیسے ساز بنائے؛ 1935ء میں وہ اُدے شنکر کے بیلے طائفے کے ساتھ یورپ گئے۔1

    مذہب

    مذہب کے معاملے میں وہ وسیع النظر سمجھے جاتے تھے۔ وہ مَیہر کی تریکوٹا پہاڑیوں پر واقع ماں شاردا دیوی کے مندر سے گہری عقیدت رکھتے تھے؛ جب وہ اپنی روزانہ نماز ادا کرتے تو نکھل بنرجی کو اس کے کمرے میں گایتری جپ کے لیے بھیجتے، اور بنرجی کو یاد تھا کہ خان نماز پڑھتے ہوئے دیوی سرسوتی کو «ماں، ماں» کہہ کر پکارتے تھے۔1 ان کی تدفین میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے اور ماں شاردا مندر کے بڑے پجاری بھی شامل ہوئے۔1

    وفات

    انھیں 1954ء میں سنگیت ناٹک اکادمی کی فیلوشپ، 1958ء میں پدما بھوشن اور 1971ء میں پدما وبھوشن ملا — وہ یہ اعزاز پانے والے پہلے ہندوستانی موسیقار تھے۔1 علاؤالدین خان کا انتقال 6 ستمبر 1972ء کو مَیہر میں ہوا، جہاں ان کی رہائش کے احاطے میں ان کا اور ان کی اہلیہ کا مقبرہ بنایا گیا۔1

    مصادر

    ماخذ

    1. Alauddin Khan — English Wikipedia
    2. Alauddin Khan — Urdu Wikipedia
    3. Alauddin Khan — Wikidata Q2837826
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “علاؤالدین خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/alauddin-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔