ایک نظر میں
- کردار
- reciter · teacher
- خطہ
- arabia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سعد بن سعید بن سعد الغامدی (پیدائش 7 اگست 1967) دمام سے تعلق رکھنے والے سعودی قارئِ قرآن اور امام ہیں۔ انہوں نے 1990 میں حفظِ قرآن مکمل کیا اور 1417ھ میں روایتِ حفص میں سند کے ساتھ اجازہ حاصل کیا، استاد اور تعلیمی سپروائزر رہے، پھر دمام کے محمد الفاتح پرائیویٹ اسکولز کے جنرل سپروائزر بنے؛ وہ دمام کی جامع یوسف بن احمد کانو کے امام ہیں، رمضان 1430ھ میں مسجد نبوی کی تراویح میں مہمان امام رہے، اور ان کا مرتل مصحف اور اذکار و رقیہ پر اصدارات موجود ہیں۔12
پیدائش اور تعلیم
وہ 1967 میں دمام میں پیدا ہوئے۔ عربی مقالہ 7 اگست 1967 کو 1 جمادی الاولیٰ 1387ھ کے ساتھ جوڑتا ہے، اور وکی ڈیٹا اور فرانسیسی مقالہ بھی یہی دیتے ہیں؛ انگریزی مقالے کا خانہ 19 مئی 1967 دیتا ہے، حالانکہ اس کا اپنا متن صرف سال ذکر کرتا ہے — عجائب گھر 7 اگست 1967 کو اختلاف سمیت درج کرتا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم دمام میں حاصل کی: مصعب بن عمیر ایلیمنٹری اسکول، پھر الفیصل انٹرمیڈیٹ اسکول، اور آخر میں الشاطی سیکنڈری اسکول۔234
انہوں نے الاحساء میں جامعہ امام محمد بن سعود اسلامیہ کے کلیہ شریعت سے گریجویشن کیا، جہاں وہ قرآن کا مراجعہ اور اتقان کر رہے تھے، اور 1990 میں بائیس سال کی عمر میں پورا قرآن حفظ کر لیا۔ عربی مقالہ بتاتا ہے کہ انہوں نے ثانوی دور میں 1405ھ میں نشید خوانی شروع کی تھی، «دمام اول» اور «دمام دوم» ٹیپیں ریکارڈ کیں، اور 1407ھ میں جامعہ کے ابتدائی برسوں میں نشید چھوڑ کر حفظ میں مشغول ہو گئے؛ 1417ھ میں انہیں روایتِ حفص عن عاصم میں سند کے ساتھ اجازہ ملا۔42
پیشہ اور امامت
وہ 1995 تک استاد رہے، پھر 2003 تک دمام میں اسلامی تعلیم کے تعلیمی سپروائزر رہے؛ اس وقت وہ محمد الفاتح پرائیویٹ اسکولز، دمام کے جنرل سپروائزر ہیں۔ عربی مقالہ کے مطابق وہ امام الشاطبی مرکز برائے قرآن، دمام، اور منار الہدیٰ مرکز برائے شرعی و تعلیمی کورسز کے بھی جنرل سپروائزر اور دمام کی سماجی کمیٹی کے رکن ہیں۔42
عربی مقالے کے مطابق وہ دمام کے محلہ البادیہ کی جامع شیخ علی المجدوعی کے امام و خطیب شیخ مروان بن عبد الرحمٰن القادری کی تلاوت سے متأثر ہوئے، اور 1411ھ میں انہوں نے تراویح پڑھائی — یہ تلاوت کی دنیا میں ان کا آغاز تھا — اور ان کا پہلا اصدار سورۃ الاحزاب اور سورۃ الزمر پر مشتمل تھا۔ رمضان 1430ھ میں انہوں نے مسجد نبوی میں مہمان امام کے طور پر تراویح پڑھائی۔ 2012 میں وہ دمام کی جامع یوسف بن احمد کانو کے امام بنے، اور امریکہ، برطانیہ، آسٹریا، کویت اور بحرین کی کئی مساجد میں بھی امامت کر چکے ہیں۔24
تصانیف و اصدارات
ایمانی ریکارڈ
عجائب گھر ان کا مذہب نامعلوم درج کرتا ہے۔ انگریزی مقالے کے خانہ معلومات میں ان کی فقہ «حنبلی، سلفی» درج ہے، بلا حوالہ اور بغیر فرقے کی خانہ کے؛ عربی خانہ ان کا عقیدہ «اہل السنہ والجماعہ» دیتا ہے اور فقہ کی خانہ خالی چھوڑتا ہے؛ اردو اور فرانسیسی مقالے ان کے لیے کوئی مکتب نامزد نہیں کرتے؛ وکی ڈیٹا صرف اسلام دیتا ہے۔ کوئی مقالہ متن میں ان کے لیے ذاتی طور پر کوئی مکتب ثابت نہیں کرتا۔ ایک خانہ روایت دو آزاد شہادتیں نہیں ہوتیں۔123
ماخذ
- اوپر مذکور متعین ماخذ اکائیاں،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مقالے کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہونی چاہیے اور ہر واقعہ بدلنے والے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔
ماخذ
- Saad Al-Ghamdi — Urdu Wikipedia
- Saad Al-Ghamdi — Arabic Wikipedia
- Saad Al-Ghamdi — Wikidata Q3082522
- Saad Al-Ghamdi — English Wikipedia
- Saad Al-Ghamdi — French Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سعد غامدی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/saad-al-ghamdi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.