سید میر محمد عالم خان

سيد مير محمد عالم خان

–

بخارى → كابل

سید میر محمد عالم خان (1880–1944) ازبک منغود خاندان کے آخری امیرِ بخارا تھے؛ انہوں نے 1911 سے 1920 تک حکومت کی حالانکہ امارت 1873 سے روسی محمیہ تھی۔ 1920 میں سرخ فوج نے انہیں معزول کیا تو وہ دوشنبہ اور پھر کابل فرار ہوئے، جہاں 1944 میں ان کا انتقال ہوا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
emir
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد القادر المغربي · عبد العزیز ثعالبی · مولوی عبد الحق

مکان میں

بخارى

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی

    وہ 3 جنوری 1880 کو بخارا میں امیر عبد الاحد خان کے ہاں پیدا ہوئے؛ ازبک مضمون کا معلوماتی خانہ اکیلا ان کی جائے پیدائش کرمانہ بتاتا ہے، جو اس کے اپنے متن اور انگریزی و روسی مضامین کے خلاف ہے 1 2 3. تیرہ برس کی عمر میں ان کے والد نے انہیں حکومت اور جدید عسکری فنون کی تعلیم کے لیے تین سال سینٹ پیٹرزبرگ بھیجا، اور 1896 میں وہ باضابطہ ولی عہد تسلیم ہو کر وطن لوٹے 4. پھر وہ بارہ سال ناصف (قرشی) کے حاکم اور دو سال کرمانہ کے حاکم رہے، یہاں تک کہ 1910 میں والد کی وفات پر تخت نشین ہوئے 4.

    دورِ حکومت

    ان کے دور کا آغاز اصلاحی اعلانات سے ہوا: انہوں نے ذاتی تحائف قبول کرنے سے انکار کیا اور اہلکاروں پر رشوت لینا اور بے اجازت محصول عائد کرنا حرام قرار دیا 4. وقت گزرنے کے ساتھ یہ وعدے ماند پڑ گئے، اور روایت پسندوں اور اصلاح پسند نوجوان بخاریوں کی کشمکش میں روایت پسند غالب آ گئے اور اصلاح پسند ماسکو اور قازان کی طرف بھاگ گئے 1. عالم خان منغود حکمرانوں میں واحد تھے جنہوں نے اپنے نام کے ساتھ خلیفہ کا لقب جوڑا 1.

    مارچ 1918 میں نوجوان بخاریوں نے بالشویکوں کو خبر دی کہ شہر انقلاب کے لیے تیار ہے؛ جب سرخ فوج نے شہر کی سپردگی کا مطالبہ کیا تو امیر نے بالشویک وفد اور ان کے سیکڑوں روسی حامیوں کو قتل کر دیا، اور ناکافی ساز و سامان والی بالشویک فوج تاشقند کی طرف پسپا ہو گئی 4.

    معزولی اور وفات

    تاہم یہ مہلت عارضی نکلی۔ 2 ستمبر 1920 کو جنرل میخائل فرونزے کی قیادت میں سرخ فوج نے بخارا پر حملہ کیا؛ چار دن کی لڑائی کے بعد قلعہ ارک تباہ ہوا اور عالم خان پہلے دوشنبہ اور پھر کابل فرار ہو گئے 1 4. وہ 28 اپریل 1944 کو کابل میں وفات پا گئے اور شہدائے صالحین کے قبرستان میں دفن ہوئے؛ صرف روسی مضمون ان کی وفات 5 مئی 1944 بتاتا ہے 1 2 5. ان کی بیٹی شکریہ علیمی رعد ریڈیو افغانستان اور بعد میں وائس آف امریکہ کی نشریات کار رہیں 1.

    عقیدہ

    مطالعہ کی گئی پانچوں طبعات میں کوئی متن عالم خان کا مذہبی مسلک نام لے کر بیان نہیں کرتا۔ روسی مضمون کا معلوماتی خانہ ان کا دین «اسلام، حنفی مذہب» اور انگریزی مضمون کا خانہ «سنی اسلام» بتاتا ہے — یہ دونوں خانوں کی قیمتیں ہیں جن کا کوئی متن حوالہ نہیں — اور وکی ڈیٹا کی اقدار اسلام اور سنی اسلام ہیں، حنفی قدر موجود نہیں 2 1 5. ان کا تخت، مسلم ریاست پر حکومت اور خلیفہ کا لقب منصب کے امور ہیں، ذاتی شہادت نہیں، اور بخارا کا حنفی ماحول کسی فرد کے بارے میں دلیل نہیں بنتا۔ اس لیے ان کا عقیدہ «نامعلوم» درج کیا گیا ہے، تنبیہ کے ساتھ، اور حنفی و سنی قراءتیں ان کے ریکارڈ کی ملاحظہ میں محفوظ ہیں۔

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر واقعہ بدلنے والے ماخذ کا نام لینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    بخارى
    Died in
    كابل

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    البيروني يلجأ إلى بخارى· مقتل السلطان ألب أرسلان وقيام ملكشاه· فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· سعيد بن عثمان وموقف بخارا· استيلاء علاء الدين تكش على بخارى سنة 594

    ماخذ

    1. Sayyid Mir Muhammad Alim Khan — English Wikipedia
    2. Sayyid Mir Muhammad Alim Khan — Russian Wikipedia
    3. Sayyid Mir Muhammad Alim Khan — Uzbek Wikipedia
    4. Sayyid Mir Muhammad Alim Khan — Urdu Wikipedia
    5. Sayyid Mir Muhammad Alim Khan — Wikidata Q558626
    • Sayyid Mir Muhammad Alim Khan — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سید میر محمد عالم خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sayyid-mir-muhammad-alim-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    البيروني يلجأ إلى بخارى

    جب خوارزم میں تقریباً 996–998ء خانہ جنگی چھڑی تو بیرونی رعایت کے طلبگار سامانی دارالحکومت بخارا چلا گیا.