شاہ اسماعیل دہلوی

إسماعيل بن عبد الغني الدهلوي

–

دلهي

ہندوستانی مصلح عالم (1779ء–1831ء)، شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے اور شاہ عبدالعزیز کے بھتیجے؛ سید احمد بریلوی کے ساتھ اصلاحی تحریک «طریقۂ محمدیہ» کے بانی و قائد۔ «تقویۃ الایمان» اور «صراطِ مستقیم» کے مصنف؛ سکھ سلطنت کے خلاف جہاد میں سید احمد کے ساتھ شریک رہے اور 6 مئی 1831ء کو بالاکوٹ میں ان کے ساتھ مارے گئے۔ اہلِ حدیث اور دیوبندی تحریکوں پر ان کے گہرے اثرات مانے جاتے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · فقیہ · mystic · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: الرحمتي · الشوكاني · أمير خان (زعيم البَتان، مؤسس طونك) · بہادر شاہ ظفر · بيرم الثاني محمد بن محمد

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sunni-hanafi (مستند) · sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شاہ اسماعیل دہلوی (1779ء–1831ء)، پورا نام شاہ محمد اسماعیل بن عبدالغنی دہلوی، ہندوستانی مصلح عالم، نقشبندی صوفی اور فقیہ تھے؛ شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے اور شاہ عبدالعزیز کے بھتیجے۔ سید احمد بریلوی کے ساتھ وہ اصلاحی تحریک «طریقۂ محمدیہ» کے بانی و قائد تھے، جس نے سکھ سلطنت کے خلاف جہاد کیا اور بعد کی انگریز مخالف تحریکوں کو متاثر کیا۔ اہلِ حدیث اور دیوبندی دونوں تحریکوں پر ان کے اثرات تسلیم کیے جاتے ہیں، اور پیروکار انھیں شہید مانتے ہیں۔ یہ شاہ اسماعیل اول صفوی، فارس کے صفوی بانی، سے مختلف شخص ہیں۔ 1 2 3

    تاریخِ ولادت کے دن میں اختلاف ہے: عربی و اردو مضامین اور ویکی ڈیٹا 29 اپریل 1779ء دیتے ہیں (عربی مضمون ہجری تاریخ 12 ربیع الآخر 1193ھ دیتا ہے)، جبکہ انگریزی مضمون 26 اپریل 1779ء دیتا ہے؛ ریکارڈ نے 29 اپریل لیا ہے اور دن کو اختلافی نشان زد کیا ہے۔ جائے ولادت انگریزی و عربی مضامین اور ویکی ڈیٹا کے مطابق مظفر نگر ہے، جبکہ اردو مضمون کا متن دہلی کہتا ہے۔ 4 2 1 3

    ابتدائی زندگی و تعلیم

    ان کے والد ان کے بچپن میں فوت ہوگئے، اور وہ چچا شاہ عبدالقادر کی سرپرستی میں پلے، جن سے درسی کتابیں پڑھیں؛ چچاؤں شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالعزیز سے بھی طویل استفادہ کیا، اور اردو مضمون کے مطابق حدیث کی سند شاہ عبدالعزیز سے لی۔ تعلیم دہلی کے مدرسۂ رحیمیہ میں ہوئی۔ 4 2 1

    پھر وہ سید احمد رائے بریلوی کے ساتھ ہوگئے: عربی مضمون کے مطابق وہ ان کے ہم سفر رہے، 1237ھ میں ان کے ساتھ حج کیا اور ان کے حکم سے دو سال ملک میں دعوت کا دورہ کیا؛ اردو مضمون کہتا ہے کہ انھوں نے سید احمد کے پاس سلوک کی تکمیل کی اور انھیں اپنا پیر و مرشد کہا۔ تحریک میں وہ امام کے وزیر کی مانند تھے: فوجیں منظم کرتے اور بڑی لڑائیوں میں بنفسِ نفیس شریک ہوتے۔ 4 1

    تحریک و تصانیف

    «صراطِ مستقیم» 1819ء میں سید احمد کی تعلیمات سے انھوں نے فارسی میں مرتب کی، جو بعد میں اردو میں منتقل ہوئی، اور «تقویۃ الایمان» براہِ راست اردو میں لکھی۔ باربرا میٹکاف کے مطابق دونوں کتابوں نے توحید کی مرکزیت پر زور دیا اور ان رسوم و عقائد کی مذمت کی جو اس سے ٹکراتے تھے؛ ان کے نزدیک خطرے کے تین ذرائع تھے: باطل تصوف، شیعہ عقائد و رسوم، اور عوامی رواج۔ «صراطِ مستقیم» میں انھوں نے لکھا کہ ہندوستان کا بڑا حصہ دارالحرب بن چکا ہے، چنانچہ وہاں کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہے۔ 2

    دیگر تصانیف میں سنت و بدعت کی تحقیق میں «ایضاح الحق الصریح»، نبوت و امامت پر «منصبِ امامت»، رفع الیدین پر «تنویر العینین»، حکمت و فلسفے میں «عبقات» اور منطق کی رسالے شامل ہیں۔ 4

    مذہب و تصوف

    اس عجائب گھر میں ان کا مذہب دو مستند اقدار میں درج ہے۔ تصوف کے بارے میں: انگریزی مضمون انھیں «نقشبندی صوفی مصلح» کہتا ہے اور محققین کا حوالہ دیتا ہے جن کے نزدیک سید احمد اور وہ «بالترتیب چشتی اور نقشبندی سلسلوں سے وابستہ تھے»، اور آکسفورڈ انسائیکلوپیڈیا آف ماڈرن اسلامک ورلڈ انھیں نقشبندی طریقے کی ایک شاخ سے وابستہ بتاتی ہے؛ اردو مضمون بھی آزادانہ طور پر سید احمد بریلوی کے پاس سلوک کی تکمیل درج کرتا ہے۔ فقہی مسلک کے بارے میں: انگریزی مضمون انھیں «حنفی فقیہ» کہتا ہے، مختار احمد علی کا حوالہ دیتے ہوئے کہ وہ «سختی سے حنفی مسلک کے اندر رہے»، اور م. رضا پیربھائی کا قول نقل کرتا ہے کہ وہ قانونی آراء کو محدود کرکے صرف ابو حنیفہ کے اقوال کو مانتے تھے جہاں نص صریح نہ ہو۔ مخالف قرأت ان کے ڈیٹا میں محفوظ ہے، دبائی نہیں گئی: یہی مضمون بتاتا ہے کہ انھیں کبھی حنفی اور کبھی غیر مقلد کہا گیا، یہ بھی کہا گیا کہ انھوں نے تقلید ترک کی، اور اشرف علی تھانوی نے ان کا رفع الیدین نقل کیا جو حنفی مسلک سے باہر عمل ہے۔ عجائب گھر نے حنفی قدر مضمون کے متن کی علمی شہادتوں پر درج کی اور اختلاف نوٹ میں محفوظ رکھا، بالکل جیسے سید احمد بریلوی کے معاملے میں کیا گیا۔ 2 1

    بالاکوٹ و اثرات

    1826ء میں وہ سید احمد کے ساتھ وادیِ پشاور گئے، جہاں مجاہدین نے اپنی قلیل المدت اسلامی ریاست قائم کی، اکوڑہ خٹک میں سکھوں سے لڑے اور 1830ء میں پشاور لیا، پھر قبائلی بغاوتوں اور سکھ دباؤ نے انھیں پہاڑوں کی طرف ہٹنے پر مجبور کیا۔ 6 مئی 1831ء کو شاہ اسماعیل اور سید احمد بالاکوٹ میں رنجیت سنگھ کی فوج سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔ 2 4

    مخالفین نے تحریک کے پیروکاروں کو «وہابی» کہا؛ پیروکار خود کو «طریقۂ محمدیہ» کہتے تھے۔ تحریک کی اپنی فہم میں تصوف اس کے عقیدے کا جزو تھا، وہ خود کو شاہ ولی اللہ کے مکتب اور مدرسۂ رحیمیہ کی روایت کا وارث سمجھتی تھی، اور اس کی تعلیمات اس دور کے ہندوستانی نقشبندیوں میں وسیع پیمانے پر پروان چڑھیں۔ مؤرخین اہلِ حدیث تحریک کی جڑیں شاہ اسماعیل اور سید احمد کی جہادی تحریک سے جوڑتے ہیں، اور دیوبندی علما آج بھی شاہ اسماعیل کی رسالوں سے دینی رہنمائی لیتے ہیں۔ 2

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Studied under
    شاہ عبدالعزیز دہلوی· سید احمد بریلوی
    Lived in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    سید احمد بریلوی· شاہ عبدالعزیز دہلوی· دلهي· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي

    ماخذ

    1. Shah Ismail Dehlvi — Urdu Wikipedia
    2. Shah Ismail Dehlvi — English Wikipedia
    3. Shah Ismail Dehlvi — Wikidata Q4116907
    4. Ismail ibn Abd al-Ghani al-Dehlvi — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شاہ اسماعیل دہلوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shah-ismail-dehlvi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    سید احمد بریلوی

    ہندوستانی مصلح عالم اور عسکری قائد (1786ء–1831ء)، رائے بریلی میں پیدا ہوئے اور شاہ عبدالعزیز دہلوی کے شاگرد تھے؛ اصلاحی تحریک «طریقۂ محمدیہ» کے بانی و قائد کے طور پر انہوں نے اولیاء پرستی اور شیعہ اثرات والی رسوم کے خلاف مہم چلائی۔ حج (1821ء–1823ء) کے بعد مجاہدین کو وادیِ پشاور لے گئے، جنوری 1827ء میں امام و خلیفہ قرار پائے، سکھ سلطنت سے لڑے اور 6 مئی 1831ء کو بالاکوٹ میں مارے گئے۔ انہیں شہید مانا جاتا ہے اور اہلِ حدیث و دیوبندی تحریکیں انہیں اپنا پیش رو کہتی ہیں۔