ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · writer · activist
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
بیگم ڈاکٹر شائستہ سہروردی اکرام اللہ (22 جولائی 1915ء – 11 دسمبر 2000ء) ایک پاکستانی سیاست دان، سفارت کار اور مصنفہ تھیں جن کا تعلق کلکتہ کے سہروردی خاندان سے تھا؛ وہ حسن سہروردی کی صاحبزادی اور حسین شہید سہروردی کی بھتیجی تھیں۔ 1 2 وہ لندن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی مسلم خاتون تھیں، 1948ء میں پاکستان کی خارجہ سروس میں شامل ہونے والی پہلی خاتون افسر تھیں، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور انسانی حقوق کے عالمی منشور پر کام کیا، اور 1964ء سے 1967ء تک مراکش میں پاکستان کی سفیر رہیں۔ 1 ان کی مشہور ترین کتاب ان کی خودنوشت «From Purdah to Parliament» (1963ء) ہے۔ 1
خاندان اور تعلیم
شائستہ اختر بانو سہروردی 22 جولائی 1915ء کو کلکتہ میں حسن سہروردی اور صاحبزادی شاہ بانو بیگم کے ہاں پیدا ہوئیں۔ 1 ان کے چچا حسین شہید سہروردی ان کے والد کے چھوٹے بھائی تھے، اور انھوں نے 1991ء میں ان کی سوانح شائع کی؛ میوزیم کے رشتوں کی فہرست میں چچا بھتیجی کا کوئی مخصوص رشتہ موجود نہیں، اس لیے یہ قرابت یہیں اور ان کے ریکارڈ میں بیان کی گئی ہے اور چچا کے ریکارڈ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ 1 انھوں نے لوریٹو کالج، کلکتہ سے تعلیم حاصل کی اور لندن یونیورسٹی سے «اردو ناول اور افسانے کی ترقی» پر پی ایچ ڈی کی، اور اس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی مسلم خاتون بنیں۔ 2 1 کسی مستند ماخذ میں ان کا کوئی مسلک مذکور نہیں: انگریزی مقالہ انھیں شناخت کے طور پر مسلم خاتون کہتا ہے، اردو مقالے کے معلوماتی خانے میں مذہب «اسلام» درج ہے، اور ویکی ڈیٹا بھی صرف اسلام دیتا ہے — یہ زیادہ سے زیادہ ایک ہی منظم ڈیٹا خاندان ہے، مسلک کی دو آزاد شہادتیں نہیں۔ 1 2 3
شادی اور ادبی و سیاسی آغاز
1933ء میں ان کی شادی مشہور سفارت کار محمد اکرام اللہ سے ہوئی، جو قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کے سیکرٹری خارجہ بنے؛ ان کے چار بچے ہوئے جن میں سلمہ سبحان اور اردن کی شہزادی ثروت الحسن شامل ہیں۔ 2 1 شادی سے پہلے وہ شائستہ اختر سہروردی کے نام سے «ہمایوں» اور «تہذیبِ نسواں» جیسے جرائد میں افسانے لکھتی تھیں، اور وہ مسلم ویمن اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور مسلم لیگ کی خواتین ذیلی کمیٹی کی رہنما رہیں؛ محمد علی جناح نے انھیں سیاست میں آنے کی ترغیب دی۔ 2 1
سیاسی و سفارتی زندگی اور تصانیف
وہ 1946ء میں دستور ساز اسمبلی ہند کے لیے منتخب ہوئیں لیکن مسلم لیگ کے بائیکاٹ کی وجہ سے رکنیت نہیں لی، اور 1947ء میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی دو خواتین ارکان میں سے ایک تھیں۔ 1 اقوامِ متحدہ میں انھوں نے انسانی حقوق کے عالمی منشور (1948ء) اور نسل کشی کے انسداد کے کنونشن (1951ء) پر کام کیا۔ 1 ان کی تصانیف میں «کوششِ ناتمام» (1950ء)، «Letters to Neena» (1951ء)، «Beyond the Veil» (1953ء)، «پردے سے پارلیمنٹ تک» (1963ء) اور ان کے چچا کی سوانح «حسین شہید سہروردی» (1991ء) شامل ہیں۔ 1 2
وفات اور اعزاز
انگریزی مقالے اور ویکی ڈیٹا کے مطابق وہ 11 دسمبر 2000ء کو کراچی میں وفات پا گئیں؛ اردو مقالہ 10 دسمبر 2000ء کو متحدہ عرب امارات میں وفات اور کراچی میں آخری آرام گاہ بتاتا ہے، اور یہ اختلاف ان کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔ 1 2 3 2002ء میں صدرِ پاکستان نے انھیں بعد از مرگ ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز نشانِ امتیاز دیا۔ 1
حوالہ جات
- مندرجہ بالا مذکور تعریف شدہ ماخذ اکائیاں، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام بتائے جس سے ہر حقیقت بدلی ہو۔
ماخذ
- Shaista Suhrawardy Ikramullah — English Wikipedia
- Shaista Suhrawardy Ikramullah — Urdu Wikipedia
- Shaista Suhrawardy Ikramullah — Wikidata Q4199082
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “شائستہ سہروردی اکرام اللہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shaista-suhrawardy-ikramullah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.