ایک نظر میں
- کردار
- عالم · واعظ · writer
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
sunni-hanafi (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
شمائل احمد عبد اللہ ندوی ہندوستانی اسلامی عالم، مفتی اور مصنف ہیں، جو 7 جون 1998 کو سری نگر، جموں و کشمیر میں پیدا ہوئے اور کلکتہ میں پروان چڑھے، جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں۔ انہوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت حاصل کی، 2021 میں آن لائن «مرکز الوحیین» اور 2024 میں «وحیین فاؤنڈیشن» قائم کی، اور دسمبر 2025 میں نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں شاعر جاوید اختر کے ساتھ «کیا خدا موجود ہے؟» کے موضوع پر اپنے عوامی علمی مباحثے سے عالمی شہرت پائی، جو یوٹیوب پر نشر ہوا اور تیزی سے وائرل ہوا۔ 1 2
اردو ویکیپیڈیا کا مضمون انہیں برصغیر کے علمی حلقوں میں سنی، حنفی اور دیوبندی فکر سے وابستہ قرار دیتا ہے، اور انگریزی مضمون کے معلوماتی خانے میں ان کا مذہب سنی اسلام، فقہ حنفی اور تحریک دیوبندی و ندوی درج ہے۔ 2 1
تعلیم و تربیت
ان کی ابتدائی دینی تعلیم زیادہ تر گھر پر علماء، جن میں ابتداء عالم ندوی اور ندیم ندوی شامل ہیں، کی نگرانی میں ہوئی، اور انہوں نے نوجوانی کے اوائل میں قرآن حفظ کیا۔ انہوں نے کلکتہ کے ایک انگریزی میڈیم اسکول میں آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور بعد میں اوپن اسکولنگ کے ذریعے میٹرک پاس کیا۔ 1
2015 میں وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخل ہوئے؛ 2017 میں «العالمیہ» مکمل کیا، 2018–2019 میں تفسیر و علومِ قرآن میں تخصص کیا، اور 2019–2020 میں افتاء کی باقاعدہ تربیت حاصل کر کے مفتی کا لقب پایا۔ 2020 سے 2022 تک انہوں نے یاسر ندیم الواجدی کی نگرانی میں «تہافت الملاحدہ» نامی دو سالہ پروگرام میں مغربی فلسفے اور مذہب پر معاصر تنقید کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا میں «علم الوحی اور انسانی علوم» میں ڈاکٹریٹ کی تحقیق سے وابستہ ہوئے۔ 1 3
کام و ادارے
انہوں نے 2021 میں «مرکز الوحیین» قائم کیا، جو قرآن، حدیث اور فقہ میں آن لائن کورسز پیش کرتا ہے، اور 2024 میں کلکتہ میں غیر منفعتی «وحیین فاؤنڈیشن» قائم کی، جو میڈیا رپورٹوں کے مطابق تعلیمی سرگرمیوں اور مذہب و الحاد سے متعلق سوالات پر پروگراموں پر توجہ دیتی ہے۔ وہ کلکتہ کی کوبی باغان مسجد میں خطیب رہے، جہاں وہ خطبے اور تفسیر کے حلقے دیتے تھے۔ ان کی سرکاری ویب سائٹ فتویٰ کی خدمت، کورسز اور کتابیں پیش کرتی ہے۔ 1 4
ان کی تصانیف میں «مسئلہ غلامی اور اسلام» شامل ہے، جس کا جائزہ دسمبر 2024 میں اردو جریدے «حرا آن لائن» نے شائع کیا۔ 1
جاوید اختر سے مباحثہ
دسمبر 2025 میں نئی دہلی میں ہونے والا یہ مباحثہ صحافی سوربھ دویویدی کی نظامت میں تقریباً دو گھنٹے جاری رہا اور یوٹیوب پر نشر ہونے کے بعد چھ گھنٹوں میں پندرہ لاکھ سے زیادہ بار دیکھا گیا، میڈیا رپورٹوں کے مطابق۔ بی بی سی اردو اور ڈیکن کرانیکل نے اسے مابعدالطبیعیات، اخلاقیات، آزاد ارادے اور انسانی دکھ پر ایک علمی مکالمہ قرار دیا۔ 1
مواقف اور تنقید
یہ حصہ ذرائع میں منقول مواقف کی پیشکش ہے، ان پر میوزیم کا فیصلہ نہیں۔
«انڈین ایکسپریس» میں یوگیندر یادو نے لکھا کہ اس مکالمے کو خدا کے وجود پر مباحثے کے طور پر پیش کرنا ہندوستان کے زیادہ اہم سوالات سے توجہ ہٹا سکتا ہے، اگرچہ انہوں نے اس کی شائستگی کو سراہا؛ جبکہ گوہر رضا نے اس کی اہمیت کا دفاع کرتے ہوئے اسے شائستہ عوامی اختلاف کی مثال قرار دیا۔ دسمبر 2025 میں ان کی پرانی تقریر کا ایک غیر مؤرخ کلپ پھیلا جس میں حکمرانی اور قانون کے بارے میں ان کے مذہبی مؤقف پر بحث چھڑ گئی؛ کانگریس رہنما راجیو شکل نے کہا کہ آئین ہی سب سے بالا رہنا چاہیے، اور مسلم طلبہ تنظیم نے کہا کہ ان کے خیالات ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کا یہ بیان بھی نقل ہوا کہ پاکستان کو اسلامی ریاست نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ وہاں شریعت کا مؤثر نفاذ نہیں ہے۔ 1
اثر و رسائی
وہ یوٹیوب، انسٹاگرام اور فیس بک پر فعال ہیں؛ مؤسس کے اکتوبر 2026 کے جائزے میں ان کے یوٹیوب چینل (@muftishamail) کے سبسکرائبرز تقریباً 720 ہزار درج تھے، اور یہ پلیٹ فارم کا عدد ہے جو بدلتا رہتا ہے۔ 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
ماخذ
- Shamail Nadwi — English Wikipedia
- شمائل ندوی — اردو ویکیپیڈیا
- شمائل الندوي — ويكيبيديا العربية
- شمائل الندوي — الموقع الرسمي
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “شمائل ندوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shamail-nadwi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.