ایک نظر میں
- کردار
- طبیب · astronaut
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
شیخ مظفر شکور المصري بن شیخ مصطفى (پیدائش 27 جولائی 1972، کوالالمپور) ملائیشیائی معالج اور خلا میں جانے والے پہلے ملائیشیائی ہیں؛ اکتوبر 2007 میں وہ انگکاساوان پروگرام کے تحت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن گئے، جہاں انہوں نے سائنسی تجربات کیے اور رمضان کے آخری دنوں کے روزے رکھ کر اسٹیشن پر عید الفطر منائی۔ 1 2
ان کی پرواز کے لیے ملائیشیا کی قومی فتویٰ کونسل نے خلا میں اسلامی عبادات کی ادائیگی کے لیے پہلی جامع رہنما کتاب تیار کی، جو اٹھارہ صفحات پر مشتمل تھی۔ 1
ابتدائی زندگی اور تعلیم
مظفر کوالالمپور میں مصری جڑوں والے ملائی والدین کے ہاں پیدا ہوئے؛ ان کے والد شیخ مصطفى بن عبد الشکور تاجر تھے، اور مالے مقالے کے مطابق وہ پانچ بھائیوں میں تیسرے ہیں۔ 1 2
انہوں نے موار کے مارا جونیئر سائنس کالج سے ثانوی تعلیم اور بھارت کے منی پال میں کسٹربا میڈیکل کالج سے طب و جراحت کی ڈگری حاصل کی۔ 1 2
طبی زندگی
انہوں نے آرتھوپیڈک میڈیکل آفیسر کے طور پر کام کیا: 1998 میں اسپتال سریمبان، 1999 میں کوالالمپور جنرل اسپتال اور 2000 سے 2001 تک اسپتال سیلایانگ میں، اور جز وقتی ماڈلنگ بھی کی؛ انگریزی مقالہ کہتا ہے کہ انہوں نے اپنی تخصص مکمل نہیں کی، جبکہ مالے مقالہ انہیں آرتھوپیڈک سرجن کہتا ہے، اور عجائب گھر دونوں وصف اپنے مصادر سے منسوب کر کے پیش کرتا ہے۔ 1 2
انگکاساوان پروگرام اور پرواز
انگکاساوان پروگرام روس سے اٹھارہ سوخوی Su-30MKM لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاہدے کے تحت وجود میں آیا، اور مالے مقالے کے مطابق اس کے لیے 11,275 امیدواروں نے اندراج کرایا؛ مظفر 2006 کے آغاز میں منتخب ہوئے، روس میں اٹھارہ ماہ کی تربیت کے بعد مرکزی عملے کے رکن بنے اور فیض خالد ان کے متبادل رہے۔ 1 2
وہ 10 اکتوبر 2007 کو سویوز TMA-11 میں یوری مالینچینکو اور پیگی وٹسن کے ساتھ روانہ ہوئے؛ اسٹیشن پر انہوں نے جگر کے سرطان اور لیوکیمیا کے خلیوں کی خصوصیات اور پروٹین و جرثوموں کی تبلّرات پر تجربات کیے، اور 21 اکتوبر 2007 کو سویوز TMA-10 میں واپس آئے، جس کی واپسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے بالسٹک مسیر اختیار کر گئی اور وہ قازقستان میں مقررہ مقام سے تقریباً 340 کلومیٹر دور اتری؛ ان کی پرواز کا دورانیہ دس دن، بیس گھنٹے اور چودہ منٹ تھا۔ 1
خلا میں دین
ان کی پرواز رمضان کے آخری حصے میں پڑی، اور چونکہ وہ مسلمان ہیں، قومی فتویٰ کونسل نے خلا میں مسلمانوں کے لیے پہلی جامع رہنما کتاب تیار کی، جس میں کم کششِ ثقل میں نماز، اسٹیشن سے مکہ کی سمت، نماز کے اوقات اور نوے منٹ کے دن رات والے مدار میں روزے کے مسائل شامل تھے۔ 1
مالے مقالہ ملائیشیا کے اسلامی ترقیاتی ادارے (جاکم) کے ایک اہلکار کا بیان نقل کرتا ہے کہ سفر میں روزہ فرض نہیں، لہٰذا مظفر کو اختیار تھا، اور روزے کی صورت میں وقت بائیکونور کے مقامی وقت کے مطابق ہوتا؛ مالے مقالہ انہیں خلا میں روزہ رکھنے اور عید الفطر منانے والا پہلا مسلمان کہتا ہے۔ 2
انہوں نے 13 اکتوبر 2007 کو اسٹیشن پر عید الفطر منائی اور عملے کے ساتھ ساتے اور بسکٹ بانٹے۔ 1
موقف اور تنقید
اس حصے کو مصادر میں منقول موقف کی نمائش کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔
ان کے لقب پر بحث ہوئی: روسی حکومت کے مہمان کی حیثیت سے روسی و ناسا دستاویزات نے انہیں «خلائی پرواز میں شریک» کہا، جبکہ ملائیشیا میں روسی سفیر الیگزینڈر کارچاوا نے انہیں «مکمل رکن خلانورد» قرار دیا اور ناسا کے ریٹائرڈ خلانورد رابرٹ گبسن نے کہا کہ وہ مکمل اہل خلانورد ہیں؛ مالے مقالہ نوٹ کرتا ہے کہ ناسا نے انہیں کبھی سرکاری طور پر خلانورد تسلیم نہیں کیا۔ 1 2
اعزازات
2008 میں انہیں نگری سمبیلان کے آرڈر آف لائلٹی کا نائٹ کمپینین (DSNS) بنایا گیا جس کے ساتھ «داتو» کا لقب ملتا ہے، اور 2008 کے آسیان یونیورسٹی گیمز کی انتظامیہ نے ان کے اعزاز میں «A1 انگکاساوان» نامی خلانورد مسکوٹ اختیار کیا۔ 1
ذاتی زندگی
مالے مقالے کے مطابق ان کی شادی 10 اکتوبر 2010 کو سریمبان میں ڈاکٹر حلیمہ محمد یونس سے ہوئی، جو اسپتال سیلایانگ میں ماہرِ تخدیر ہیں۔ 2
حوالہ جات
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین مصادر، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مقالے کے بعد کے تراجم اور ترامیم کو واضح تواریخِ تجدید کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزہ درکار ہے۔
ماخذ
- Sheikh Muszaphar Shukor — English Wikipedia
- Sheikh Muszaphar Shukor — Malay Wikipedia
- Sheikh Muszaphar Shukor — Arabic Wikipedia
- Sheikh Muszaphar Shukor — Wikidata Q313957
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “شیخ مظفر شکور”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sheikh-muszaphar-shukor/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.