سلطان الاطرش

سلطان الأطرش

–

شامی قومی رہنما (1891–1982) اور جبل الدروز کے سربراہ، جنہوں نے فرانسیسی مینڈیٹ کے خلاف عظیم شامی بغاوت (1925–1927) کی عمومی قیادت کی؛ شام کی آزادی کے بعد انہوں نے ہر سیاسی عہدہ ٹھکرا دیا اور اپنے نعرے «دین اللہ کے لیے، وطن سب کے لیے» سے مشہور ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
جرنیل · activist
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: حامد الأيتاج · حسنین محمد مخلوف · محمد ادریس سنوسی · خان عبد الغفار خان · عزير كول البشاوري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سلطان الاطرش (5 مارچ 1891 – 26 مارچ 1982)، جو سلطان پاشا الاطرش کے نام سے مشہور ہے، ایک شامی قوم پرست انقلابی تھا جس نے شام میں فرانسیسی استعماری انتظامیہ کے خلاف عظیم شامی بغاوت (1925–1927) کی قیادت کی۔ وہ شامی اور دروز تاریخ کی بااثر ترین شخصیات میں سے ایک تھا اور جبل الدروز اور مجموعی طور پر شام کی تقدیر کے فیصلے میں اس کا بڑا کردار رہا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور خاندان

    سلطان الاطرش السویداء سے بیس کلومیٹر جنوب میں واقع گاؤں القریا میں الاطرش کے مشہور دروز خاندان میں پیدا ہوا، جو 1879 سے برائے نام اس خطے پر حکمران تھا۔ اس کی پیدائش کا دن اور مہینہ (5 مارچ) تمام مضامین میں متفق ہے، مگر سال میں اختلاف ہے: انگریزی مضمون، عربی مضمون کا معلوماتی خانہ اور ویکیمیڈیا ڈیٹا 1891 دیتے ہیں، جبکہ عربی مضمون کا متن اور اردو مضمون کا آغاز 1888 دیتا ہے، اور اردو مضمون ایک خاندانی ویب سائٹ کا حوالہ دیتا ہے۔ اس کے والد ذوقان نے 1910 میں الکفر کے قریب سامی پاشا الفاروقی کی افواج کے خلاف عثمانیوں سے سخت معرکہ لڑا؛ وہ گرفتار ہوا اور 1911 میں پھانسی پا گیا۔ 1 3 2 4

    سلطان عثمانی فوج کا بھرتی سپاہی تھا اور پہلی جنگِ عظیم سے پہلے بلقان میں خدمات انجام دیں۔ عرب بغاوت شروع ہوئی تو اس نے اس کا جھنڈا صلخد کے قلعے اور اپنے گھر پر لہرایا، ایک ہزار آدمی اس میں شامل ہونے بھیجے اور خود بھی ان کے پیچھے گیا؛ اس کی افواج سب سے پہلے دمشق میں داخل ہوئیں اور 29 ستمبر 1918 کو سرکاری عمارت پر عرب بغاوت کا جھنڈا لہرایا۔ امیر فیصل نے اسے امیر کا خطاب اور شامی فوج میں جنرل کا عہدہ دیا، جو پاشا کے برابر تھا۔ 1

    خنجر واقعہ اور عظیم بغاوت

    7 جولائی 1922 کو فرانسیسی سپاہیوں نے ادھم خنجر کو گرفتار کر لیا، ایک لبنانی شیعہ باغی جس نے سلطان کے گھر پناہ لی تھی اور جو جنرل غورو کے قتل کی کوشش میں مطلوب تھا۔ سلطان نے اس کی رہائی مانگی؛ فرانسیسیوں نے انکار کر دیا، اور سلطان کے آدمیوں کے ایک فرانسیسی قافلے پر حملے کے بعد فرانسیسیوں نے اس کا گھر تباہ کر دیا اور اس کی گرفتاری کا حکم دیا۔ وہ اردن فرار ہو گیا، فرانسیسی چوکیوں پر حملے کیے، اور دس ماہ بعد معافی پا کر واپس آیا۔ 1

    23 اگست 1925 کو سلطان پاشا الاطرش نے فرانس کے خلاف باضابطہ بغاوت کا اعلان کیا۔ دروز پہاڑ سے شروع ہونے والی یہ بغاوت پورے شام اور لبنان کے کچھ حصوں تک پھیل گئی؛ باغیوں نے الکفر (21 جولائی 1925)، المزرعہ (2 اگست 1925)، صلخد، المسفیرہ اور السویداء میں ابتدائی فتوحات حاصل کیں۔ فرانس نے مراکش اور سینیگال سے جدید ہتھیاروں سمیت ہزاروں فوجی بھیجے اور بہت سے شہر واپس لے لیے، اگرچہ مزاحمت 1927 کے موسمِ بہار تک جاری رہی۔ غیر حاضری میں سزائے موت پانے کے بعد سلطان شرقِ اردن فرار ہو گیا اور بالآخر معافی پا گیا؛ 1937 میں فرانکو-شامی معاہدے کے بعد وہ شام واپس آیا تو اس کا زبردست عوامی استقبال ہوا۔ 1 3

    بعد کی زندگی

    الاطرش نے مشرقِ وسطی کے اس بحران میں فعال حصہ لیا جس سے شام کی آزادی حاصل ہوئی، اور 1948 میں فلسطین کے لیے ایک متحد عرب لبریشن آرمی کے قیام کا مطالبہ کیا۔ ادیب الشیشکلی کے دور میں اس کی مخالفت کی وجہ سے اسے ہراساں کیا گیا؛ وہ دسمبر 1954 میں دروز پہاڑ سے اردن چلا گیا اور اس نظام کے خاتمے پر واپس آیا۔ اس نے 1958 میں مصر و شام کے اتحاد کی حمایت کی اور 1961 کی علیحدگی کی سخت مخالفت کی۔ صدر جمال عبد الناصر نے اسے متحدہ عرب جمہوریہ کا اعلیٰ ترین تمغہ دیا، اور 1970 میں صدر حافظ الاسد نے شامی انقلاب میں اس کے تاریخی کردار پر اسے اعزاز دیا۔ اس نے 1946 میں آزادی کے بعد کوئی سیاسی عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ 1

    دروز اسے حب الوطنی، جرأت اور سیکولرزم کی علامت سمجھتے ہیں: انقلاب کی قیادت کرتے ہوئے اس کا نعرہ تھا «دین اللہ کے لیے، وطن سب کے لیے»، اس کی تقریروں اور مطبوعات میں مذہبی علامات بالکل نہیں تھیں، اس نے دروز پہاڑ کی الگ آزادی کی فرانسیسی پیشکش کو شامی قومی وحدت کے حق میں سختی سے مسترد کیا، اور وہ سادگی اور انکسار کے لیے مشہور تھا۔ 1

    وفات

    سلطان پاشا الاطرش 26 مارچ 1982 کو القریا میں 91 برس کی عمر میں وفات پا گیا؛ انگریزی مضمون اس کی وجہ دل کا دورہ بتاتا ہے۔ اس کے جنازے میں دس لاکھ سے زائد لوگ شریک ہوئے، اور صدر حافظ الاسد نے اسے عظیم شامی بغاوت کا جنرل کمانڈر قرار دیتے ہوئے تعزیتی خط جاری کیا۔ 1 3

    اس کی برادری پر ایک نوٹ

    ماخذ سلطان الاطرش کی دروز برادری کو پوری طرح درج کرتے ہیں: انگریزی مضمون کہتا ہے کہ وہ الاطرش کے مشہور دروز خاندان میں پیدا ہوا، اسے شامی اور دروز تاریخ کی بااثر ترین شخصیات میں شمار کرتا ہے، اور اسے «شامی دروز شخصیات» میں درج کرتا ہے؛ عربی مضمون کا آغاز اسے دروز طائفے (موحدین) سے تعلق رکھنے والا شامی رہنما بتاتا ہے اور اس کا متن کہتا ہے کہ وہ مشہور دروز الاطرش خاندان میں پیدا ہوا؛ اردو مضمون انگریزی کی پیروی کرتا ہے۔ یہ اقوال اس کی دروز برادری میں پیدائش اور اس کی قیادت کو ثابت کرتے ہیں — ایک اجتماعی شناخت اور کردار — اور کوئی ماخذ اس سے الگ اس کے ذاتی ایمان کا اقرار درج نہیں کرتا؛ ویکیمیڈیا ڈیٹا میں اس کی کوئی مذہبی قدر نہیں۔ میوزیم کی ایمانی اقدار کی فہرست میں دروزیت کی کوئی قدر موجود ہی نہیں، اور کوئی زبردستی مطابقت نہیں بنائی جاتی، اس لیے اس کے ریکارڈ میں برادری یہیں درج ہے اور قدر نامعلوم رکھی گئی ہے۔ 1 3 2 4

    ماخذ

    1. Sultan al-Atrash — English Wikipedia
    2. Sultan al-Atrash — Urdu Wikipedia
    3. Sultan al-Atrash — Arabic Wikipedia
    4. Sultan al-Atrash — Wikidata Q403646
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سلطان الاطرش”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sultan-al-atrash/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔