ایک نظر میں
- کردار
- صحافی · سیاست دان · activist
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
توکل عبد السلام خالد کرمان یمنی صحافی، سیاست دان اور انسانی حقوق کی علمبردار ہیں، جو 7 فروری 1979 کو محافظہ تعز کے شرعب السلام میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 2005 میں «صحفیات بلا قیود» کی مشترکہ بنیاد رکھی اور 2007 سے صنعاء میں ہفتہ وار احتجاج کی قیادت کی، پھر 2011 کی یمنی بغاوت کا بین الاقوامی چہرہ بنیں۔ انہیں 2011 میں ایلن جانسن سرلیف اور لیما گبووی کے ساتھ نوبل امن انعام ملا «خواتین کی سلامتی اور امن سازی میں مکمل شرکت کے حقوق کے لیے عدم تشدد کی جدوجہد پر» — وہ یہ انعام پانے والی پہلی یمنی، پہلی عرب خاتون اور دوسری مسلم خاتون بنیں، اور اس وقت سب سے کم عمر امن انعام یافتہ تھیں۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ تعز کے قریب پلی بڑھیں اور وہیں تعلیم پائی۔ ان کے والد عبد السلام کرمان وکیل اور سیاست دان تھے، جنہوں نے علی عبد اللہ صالح کی حکومت میں قانونی امور کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں پھر استعفا دے دیا۔ انہوں نے جامعۂ علوم و ٹیکنالوجی سے تجارت میں بیچلر، جامعہ صنعاء سے سیاسیات میں فوقِ گریجویشن، اور یونیورسٹی آف میساچوسٹس لوویل سے بین الاقوامی سلامتی میں ماسٹرز کیا، اور 2012 میں کینیڈا کی جامعہ البرٹا سے بین الاقوامی قانون میں اعزازی ڈاکٹریٹ پائی۔ 2
صحافیات بلا قیود اور 2011 کی بغاوت
2005 میں انہوں نے سات دیگر خاتون صحافیوں کے ساتھ مل کر آزادیِ اظہار کے دفاع کے لیے «صحفیات بلا قیود» قائم کی۔ وزارتِ اطلاعات نے تنظیم کو اخبار اور ریڈیو کا لائسنس دینے سے انکار کیا، اور اس کی ایس ایم ایس خبر رساں خدمت واحد خدمت تھی جس کا لائسنس تجدید نہ ہوا۔ مئی 2007 سے انہوں نے صنعاء میں ہفتہ وار احتجاج منظم کیے۔ 2011 میں وہ صالح حکومت کے خلاف طلبہ ریلیوں کی قیادت کرنے لگیں؛ 22 جنوری کو انہیں سادہ لباس اہلکاروں نے گرفتار کیا اور 36 گھنٹے بعد ضمانت پر رہا کیا، اور 17 مارچ کو دوبارہ گرفتار ہوئیں۔ جون 2011 میں نیویارک ٹائمز میں ان کا مضمون «یمن کا نامکمل انقلاب» شائع ہوا، جس میں انہوں نے صالح حکومت کی امریکی و سعودی حمایت پر تنقید کی۔ 2
نوبل انعام کے بعد
2014 میں انہوں نے بلقیس ٹی وی قائم کیا، جو 2015 میں حوثی قبضے کے بعد استنبول منتقل ہوا؛ انگریزی مضمون کے مطابق نومبر کے آخر میں ایک مغربی قانونی شکایت کے بعد چینل بند کر دیا گیا۔ 2020 میں فیس بک نے انہیں اپنے مجلسِ نگرانی میں شامل کیا۔ 2019 میں انکشاف ہوا کہ متحدہ عرب امارات کے جاسوسی پروگرام «پروجیکٹ ریون» نے ان کا فون نشانہ بنایا تھا۔ فروری 2023 میں ان کی فاؤنڈیشن نے ترک آفات ادارے کے ساتھ مل کر ترکی و شام کے زلزلہ متاثرین کے لیے 50 عارضی پناہ گاہیں بنائیں۔ 2
مواقف اور تنقید
اس حصے کو ماخذ میں منقول مختلف مواقف کی رپورٹ کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کے فیصلے کے طور پر نہیں۔
انہوں نے 2004 سے نقاب چھوڑ کر چہرہ ظاہر کرنے والا رنگین حجاب اپنایا اور کہا کہ مکمل پردہ ثقافتی رسم ہے، اسلام کا حکم نہیں۔ انہوں نے سترہ سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی پر پابندی کے قوانین کی حمایت کی۔ وہ اصلاح پارٹی کی سینئر رکن تھیں، حتیٰ کہ 2018 میں سعودی قیادت والے اتحاد کو یمن پر قابض قرار دینے پر پارٹی نے ان کی رکنیت معطل کر دی۔ انہوں نے سعودی مداخلت اور امریکی ڈرون حملوں کی مذمت کی اور ساتھ ہی حوثیوں اور جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی بھی مخالفت کی۔ مصر میں انہوں نے 30 جون 2013 کے احتجاج کی حمایت کی پھر محمد مرسی کے خلاف فوجی انقلاب کی مذمت کی، جس پر مصری فوج نے انہیں ملک میں داخلے سے روک کر صنعاء واپس بھیج دیا۔ عربی مضمون کے آغاز میں ویکی لیکس کی شائع کردہ سعودی کیبلز سے منسوب یہ الزام بھی درج ہے کہ انہوں نے سعودی حکام سے خفیہ ملاقاتیں کیں؛ عجائب گھر اسے منسوب الزام کے طور پر درج کرتا ہے، ثابت شدہ واقعہ کے طور پر نہیں۔ 2 3
ذاتی زندگی
ان کی شادی محمد النہمی سے ہوئی؛ انگریزی مضمون کے متن کے مطابق ان کے تین بچے ہیں، جبکہ اس کے معلوماتی خانے میں چار درج ہیں — یہ فرق حوالہ جات میں درج ہے۔ 2012 میں انہیں ترکی کی شہریت ملی۔ حوثیوں کے صنعاء پر قبضے کے بعد وہ یمن چھوڑنے پر مجبور ہوئیں اور استنبول میں مقیم ہیں؛ دسمبر 2020 میں انہوں نے بتایا کہ حوثیوں نے ان کے گھر اور دفتر پر چھاپہ مار کر انہیں لوٹا اور ان پر قبضہ کر لیا۔ 2
حوالہ جات
- اوپر حوالہ دیے گئے ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - انگریزی مضمون کا متن تین بچے بتاتا ہے جبکہ اس کا معلوماتی خانہ چار؛ اس مضمون نے متن کا عدد (3) اپنایا ہے اور فرق یہاں درج ہے۔
- بعد کی ترمیمات اور تراجم کو واضح تواریخ کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزے کی ضرورت ہے۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
القليس (الكعبة اليمانية)· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا
ماخذ
- Tawakkol Karman — Nobel Prize facts page
- Tawakkol Karman — English Wikipedia
- توكل كرمان — ويكيبيديا العربية
- Tawakkol Karman — Wikidata Q104622
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “توکل کرمان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/tawakkol-karman/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.