ایک نظر میں
- کردار
- عالم · فقیہ · teacher · writer
- خطہ
- levant-iraq
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
sunni-shafii (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
وہبہ بن مصطفی الزحیلی (1932ء – 8 اگست 2015ء) ایک سوری فقیہ تھے، دمشق کے شمال میں واقع قصبے دیر عطیہ میں پیدا ہوئے۔ وہ جامعہ دمشق کے کلیہ شریعہ میں شعبہ فقہ اسلامی و مذاہب کے سربراہ رہے، دنیا کی بڑی فقہی اکیڈمیوں کے رکن تھے، اور ان کی تصانیف ایک سو ساٹھ سے زائد ہیں جن میں «الفقہ الاسلامی و ادلتہ» اور سترہ جلدوں پر مشتمل «التفسیر المنیر» مشہور ہیں۔ وہ رسالہ عمان اور دستاویز «کلمہ سواء» کے دستخط کنندگان میں سے تھے۔12
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ 1932ء میں دیر عطیہ میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد قرآن کے حافظ اور اس پر عمل کرنے والے، کسان اور تاجر تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے قصبے میں حاصل کی، پھر دمشق کے شرعی مدرسے میں چھ سال ثانوی تعلیم پائی اور 1952ء میں تمام شرعی ثانوی طلبہ میں اول رہے، اسی دوران ادبی شاخ کی عمومی ثانوی سند بھی حاصل کی۔2
جامعہ الازہر سے 1956ء میں اول پوزیشن کے ساتھ عالیہ کی سند لی اور کلیہ لغت عربیہ سے تدریس کی تخصصی اجازہ بھی حاصل کی۔ اسی دوران قانون کی تعلیم پائی: 1957ء میں جامعہ عین شمس سے امتیاز کے ساتھ قانون کی سند، 1959ء میں جامعہ قاہرہ سے ماسٹرز، اور 1963ء میں محمد سلام مدکور کی نگرانی میں «اسلامی فقہ پر جنگ کے اثرات» کے موضوع پر اولین اعزاز کے ساتھ ڈاکٹریٹ، جو آٹھوں فقہی مذاہب اور بین الاقوامی قانون کا تقابلی مطالعہ تھی۔23
دمشق میں ان کے اساتذہ میں محمود یاسین (حدیث)، محمود الرنکوسی (عقائد)، حسن الشطی (فرائض) اور ہاشم الخطیب (فقہ شافعی) شامل تھے؛ مصر میں شیخ الازہر محمود شلتوت، عبد الرحمن تاج، عیسی منون (فقہ مقارن)، جاد الرب رمضان اور محمود عبد الدائم (فقہ شافعی) اور محمد ابو زہرہ (فقہ مقارن و اصول فقہ کی اعلیٰ تعلیم) سے استفادہ کیا۔2
پیشہ ورانہ زندگی
1963ء سے جامعہ دمشق میں تدریس کی اور 1975ء میں پروفیسر بنے؛ کلیہ شریعہ و قانون میں فقہ اسلامی، اس کی فلسفہ اور تقابلی قانونی نظام پڑھائے اور ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں کلیہ شریعہ کا نصاب مرتب کرنے کے لیے منتخب ہوئے۔ لیبیا کی جامعہ بنغازی (1972ء–1974ء)، جامعہ الامارات (1984ء–1989ء)، جامعہ خرطوم اور ریاض کی اسلامی یونیورسٹی میں مہمان استاد رہے، اور سوڈان و پاکستان سمیت کئی ملکوں میں اعلیٰ تعلیم کے طلبہ کو قانونی تحریر و ادلہ پڑھائے۔3
وہ عمان میں شاہی مجمع برائے تحقیقات تہذیب اسلامی (آل البیت فاؤنڈیشن)، سوری مجلس افتاء، اور جدہ، امریکہ، بھارت و سوڈان کی فقہی اکیڈمیوں کے رکن، اسلامی مالیاتی اداروں کے تحقیقی ادارے کے سربراہ اور اسلامی مالیاتی کمپنیوں کے شرعی مشیر رہے۔ 2008ء میں پتراجایا میں ملائیشیا حکومت کی طرف سے بہترین اسلامی شخصیت کا اعزاز ملا اور «ذا مسلم 500» کی فہرست میں شامل ہوئے۔23
وہ دمشق کی جامع عثمان میں امام و خطیب اور دیر عطیہ کی جامع بدر میں موسم گرما کے خطیب رہے، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور عرب صحافت میں کثرت سے نمودار ہوتے۔3
آراء
اپنے فتاویٰ میں انھوں نے اشعری و ماتریدی عقائد کو اہل سنت کا عقیدہ قرار دے کر ان کا دفاع کیا، عام آدمی کے لیے کسی مسلک کی پیروی کے اختیار کا دفاع کیا، تاہم کہا کہ چاروں مذاہب میں سے کسی ایک کی پیروی بذات خود واجب نہیں؛ واجب اہل اور مجاز مفتی کی پیروی ہے۔ میلاد النبی کے جشن کو شرائط کے ساتھ جائز کہا، انبیاء و صالحین کے وسیلے سے دعا (توسل) کو اہل سنت کے نزدیک جائز قرار دیا، اور تصوف کی دو قسمیں بتائیں: محمود جو قرآن و سنت کے مطابق ہو، اور مذموم جس میں غلو و بدعات ہوں۔ وہابیت و سلفیت پر بعض مقامات پر تنقید کی، تشبیہ میں پڑنے کو واضح غلطی کہا اور تشدد کی دعوت دینے والے سلفیوں کی مذمت کی، مگر ساتھ ہی زور دیا کہ وہابی کافر نہیں اور ان سے بحث و جدال کو ناپسند کیا۔3
بین الاقوامی قانون میں ان کی رائے تھی کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات کی اصل صلح ہے نہ کہ جنگ؛ قتالی جہاد صرف جارحیت کے دفاع، مظلوم کی مدد یا اپنے دفاع میں جائز ہے، اور غیر مقاتلین کو قتل کرنا یا کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے کے لیے جنگ کرنا جائز نہیں۔3
تصانیف
ان کی تصانیف ایک سو ساٹھ سے زیادہ ہیں۔ مشہور ترین: «الفقہ الاسلامی و ادلتہ» آٹھ جلدوں میں، جس کا ترجمہ ترکی، اردو، ملایوی اور فارسی میں ہوا؛ «اصول الفقہ الاسلامی» اور اس کا مختصر «الواجیز»؛ «آثار الحرب فی الفقہ الاسلامی»؛ «المعاملات المالیہ المعاصرہ»؛ «العلاقات الدولیہ فی الاسلام»؛ اور «التفسیر المنیر»۔ انھوں نے چاروں مذاہب (شافعی، مالکی، حنفی، حنبلی) میں سے ہر ایک کے فقہ پر آسان مختصرات بھی لکھے۔12
اعتقاد کا ریکارڈ
متحف ان کا مسلک «سنی شافعی» بطور موثق درج کرتا ہے، مگر یہ درج متن و معلوماتی خانے کی مشترکہ تشكیل پر ہے اور یہ تشكیل ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں نمایاں طور پر درج ہے: اردو مضمون کا متن صراحت سے کہتا ہے کہ وہ فقہ شافعی کے پیرو تھے، اور انگریزی، عربی و اردو معلوماتی خانے سب ان کا فقہ یا مذہب شافعی بتاتے ہیں۔ عربی و انگریزی متون اپنے سیاق میں ان کا مذہب نام لے کر نہیں بتاتے۔ ان کا اشعری عقیدہ، جو انگریزی معلوماتی خانے اور درجہ بندیوں میں آیا ہے، صرف ڈیٹا کی توضیح میں درج ہے۔132
وفات
مصادر
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین مصدری ادارے، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مقالے کی بعد کی ترجموں و ترمیموں کی تاریخ اور ہر تبدیلی کے مصدر کا نام درج ہونا ضروری ہے۔
تعلقات
- Died in
- دمشق
- Lived in
- دمشق
- Studied under
- محمود شلتوت· محمد أبو زهرة
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الكهف بقاسيون (كهف جبريل)· قصر هرقل (شمس الملوك)· الجامع الأموي بدمشق· فتنة الحافظ عبد الغني بدمشق سنة 595· حصر الأفضل دمشق وعوده عنها· استيلاء العادل على دمشق· قدوم الغزالي دمشق متزهداً سنة 488· ملك الملك الأشرف مدينة دمشق
ماخذ
- Wahbah al-Zuhayli — Urdu Wikipedia
- Wahbah al-Zuhayli — Arabic Wikipedia
- Wahbah al-Zuhayli — English Wikipedia
- Wahbah al-Zuhayli — Wikidata Q4115989
- Wahbah al-Zuhayli — French Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “وہبہ زحیلی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/wahba-zuhayli/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.