یونس العیناوی

يونس العيناوي

مراکش کے سابق پیشہ ور ٹینس کھلاڑی اور کوچ، جو 1971 میں رباط میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 1990 میں پیشہ ورانہ کھیل شروع کیا، اے ٹی پی ٹور کے پانچ سنگلز خطاب جیتے، مارچ 2003 میں اپنے کیریئر کی بلند ترین درجہ بندی عالمی نمبر 14 تک پہنچے، اور 2003 کے آسٹریلین اوپن کوارٹر فائنل میں اینڈی روڈک کے خلاف پانچ سیٹوں کی طویل میراتھن کھیلی جس کا پانچواں سیٹ 21–19 پر ختم ہوا۔ شاہ محمد ششم نے انھیں طلائی تمغہ دیا، جو مراکش کا سب سے بڑا کھیل اعزاز ہے، اور 2017 میں 45 برس کی عمر میں واپسی کر کے وہ اے ٹی پی درجہ بندی رکھنے والے سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی بن گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
athlete
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    یونس العیناوی مراکش کے سابق پیشہ ور ٹینس کھلاڑی اور کوچ ہیں، جو 12 ستمبر 1971 کو رباط میں پیدا ہوئے اور 1990 میں پیشہ ور بنے۔ انھوں نے اے ٹی پی ٹور کے پانچ سنگلز خطاب جیتے اور مارچ 2003 میں اپنے کیریئر کی بلند ترین درجہ بندی عالمی نمبر 14 حاصل کی۔ 1 2

    وہ 2003 کے آسٹریلین اوپن کوارٹر فائنل میں اینڈی روڈک کے خلاف اپنی میراتھن میچ کے لیے مشہور ہیں، جس کا پانچواں سیٹ 21–19 تک گیا اور اس وقت گرینڈ سلیم کی تاریخ کا طویل ترین پانچواں سیٹ تھا۔ 1

    شاہ محمد ششم نے انھیں طلائی تمغہ دیا، جو مراکش کا سب سے بڑا کھیل اعزاز ہے، اور 2003 میں اخبار «لی اکونومسٹ» کے قارئین نے انھیں معاشرے کے لیے اپنا پسندیدہ نمونہ منتخب کیا۔ 1 3

    کیریئر

    العیناوی رباط کے حي اگدال میں پلے بڑھے؛ ان کے والد برکان سے تعلق رکھنے والے مراکشی تھے اور وزارتِ خزانہ میں ملازم تھے، جبکہ والدہ فرانسیسی تھیں۔ 1990 میں 18 برس کی عمر میں وہ فلوریڈا کی نک بولٹیری اکیڈمی گئے اور فیس کی ادائیگی کے لیے اکیڈمی کی بس چلائی، جم کی صفائی کی اور چھوٹے کھلاڑیوں کی نگرانی کی۔ 3 1

    1993 میں وہ کاسابلانکا میں اپنے پہلے بڑے فائنل تک پہنچے۔ 1996 میں ٹخنہ ٹوٹنے اور دو آپریشنوں کے بعد وہ عالمی درجہ بندی میں 444 نمبر سے واپس آئے اور 1998 میں «سال کے بہترین واپسی کرنے والے کھلاڑی» کا اعزاز پایا۔ انھوں نے 1999 میں ایمسٹرڈم، 2001 میں بخارسٹ اور 2002 میں کاسابلانکا، دوحہ اور میونخ کے خطاب جیتے۔ 1

    2003 کے آسٹریلین اوپن میں انھوں نے عالمی نمبر ایک لیٹن ہیوٹ کو ہرایا، پھر روڈک سے کوارٹر فائنل میں پانچ سیٹوں کی تاریخی جنگ ہارے۔ چوٹوں کے طویل وقفوں کے بعد 2017 میں 45 برس کی عمر میں وہ اے ٹی پی درجہ بندی رکھنے والے سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی بن گئے۔ آج وہ فرانسیسی کھلاڑی ہوگو گاستون کے کوچ ہیں، اور ان کے بیٹے نیل العیناوی اے ایس روما اور مراکش کی قومی ٹیم کے فٹ بال کھلاڑی ہیں۔ 1

    مواقف و تنقید

    یہ حصہ ماخذ میں مذکور مواقف کی پیشکش ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    مراکشی قارئین نے انھیں کھیل سے بڑھ کر ایک سماجی نمونہ سمجھا، اور جان میک اینرو نے روڈک کے خلاف ان کی 2003 کی میچ کو اپنی دیکھی ہوئی بہترین میچ قرار دیا، جیسا کہ عربی مضمون میں نقل ہے۔ دوسری طرف ماخذ کے مطابق ان کا کیریئر چوٹوں سے بار بار متاثر ہوا۔ جن ماخذ سے یہاں استفادہ کیا گیا ہے ان میں ان کا کوئی مذہب مذکور نہیں، اس لیے عجائب گھر ان کے لیے کوئی مذہب یا مسلک درج نہیں کرتا۔ ان کی تاریخِ پیدائش میں بھی اختلاف ہے: عربی مضمون 1972 لکھتا ہے جبکہ انگریزی مضمون اور وکی ڈیٹا 1971 پر متفق ہیں، اور یہی تاریخ یہاں اختیار کی گئی ہے۔ 3 1 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    ماخذ

    1. Younes El Aynaoui — English Wikipedia
    2. Younes El Aynaoui — Wikidata Q361676
    3. يونس العيناوي — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “یونس العیناوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/younes-el-aynaoui/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔