یوسف العظمہ

يوسف العظمة

–

دمشق

شامی افسر (1883–1920)، مملکتِ سوریہ کے وزیرِ حرب اور عرب فوج کے رئیسِ ارکان، جنہوں نے معرکۂ میسلون میں فرانسیسیوں کے خلاف شامی افواج کی قیادت کی اور 24 جولائی 1920 کو وہیں مارے گئے، یوں وہ شام کے عظیم ترین قومی شہید بن گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
جرنیل · سیاست دان
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبادی بانو بیگم · عباس حلمی ثانی · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد القادر المغربي

مکان میں

دمشق

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    یوسف العظمہ (1883 – 24 جولائی 1920) ترکمان نژاد ایک شامی عسکری افسر تھا جو عرب مملکتِ شام کا وزیرِ حربیہ اور سپہ سالار رہا، اس نے تقریباً دس ہزار سپاہیوں کی فوج تیار کی، اور 24 جولائی 1920 کو معرکۂ میسلون میں شامی افواج کی قیادت کرتے ہوئے فرانسیسی قبضے کے خلاف لڑتا ہوا مارا گیا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    العظمہ دمشق میں ترکمان نژاد ایک زمیندار خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش کا سال دو طرح دیا گیا ہے: انگریزی مضمون مبیّض اور روڈیڈ کے حوالے سے 1883 دیتا ہے، جبکہ عربی مضمون ایک شامی دانشنامے کے حوالے سے درست تاریخ دیتا ہے — 9 اپریل 1884، جو وسط رجب 1301ھ کے ساتھ جوڑی گئی ہے — اور ویکیمیڈیا ڈیٹا دونوں قيمتیں رکھتا ہے۔ اس نے دمشق کے ثانوی اسکول اور پھر عثمانی عسکری اکیڈمی میں تعلیم پائی اور 1906 میں عثمانی وار کالج سے اسٹاف لیفٹیننٹ کے طور پر فارغ التحصیل ہوا۔ 1 3 4

    عثمانی خدمات

    العظمہ کو تربیت کے لیے جرمنی بھیجا گیا، وہ استنبول واپس آیا، قاہرہ میں عسکری اتاشی تعینات ہوا، اور پہلی جنگِ عظیم کے دوران پچیسویں ڈویژن کا کمانڈر رہا، انور پاشا کا نائب رہا، اور قفقاز، دمشق اور فلسطین محاذ پر لڑا۔ 30 اکتوبر 1918 کو جنگ کے خاتمے اور شام و عراق سے عثمانی افواج کے انخلا کے بعد وہ شامی قومی کانگریس کی حکومت میں شامل ہو گیا۔ 1 3

    وزیرِ حربیہ

    جنوری 1920 میں وزیرِ اعظم رضا الرکابی کے دور میں العظمہ عرب مملکتِ شام کا وزیرِ حربیہ بنا، اور 26 جنوری 1920 کو یاسین الہاشمی کے بعد عرب فوج کا سپہ سالار (چیف آف جنرل اسٹاف) مقرر ہوا۔ شاہ فیصل کے ماتحت خدمات انجام دیتے ہوئے اس نے تقریباً دس ہزار سپاہیوں کی عرب فوج تیار کی، جو فرانسیسی و برطانوی توپ خانے، بھاری بندوقوں، پہلی جنگِ عظیم سے بچے ٹینکوں اور عثمانی و جرمن فضائی اکیڈمیوں کے طیاروں سے لیس تھی۔ فرانسیسیوں کے وزیرِ خزانہ کی گرفتاری اور 14 جولائی 1920 کے اس الٹی میٹم کے بعد جس میں فوج توڑنے کا حکم تھا، شاہ نے الٹی میٹم قبول کر لیا اور خان میسلون کی افواج کو واپسی کا حکم دیا؛ مگر عوام نے منتشر ہونے سے انکار کیا، اور العظمہ نے اپنا مورچہ چھوڑنے سے انکار کر کے موت تک لڑنے کی قسم کھائی۔ 1 3

    میسلون اور شہادت

    العظمہ نے فوج نہ توڑنے کا فیصلہ کیا اور 24 جولائی 1920 کو معرکۂ میسلون میں عرب افواج کی قیادت کی۔ اس نے وادی القرن میں بارودی سرنگیں بچھانے کا حکم دیا، اپنی افواج کو صبح سویرے اگلے مورچوں پر پہنچایا، اور فوج کو تین کالموں میں تقسیم کر کے وسطی کالم کی کمان خود سنبھالی؛ عرب جوابی حملے اور پرانا ترک توپ خانہ فرانسیسیوں کے لیے سنگین خطرہ بنے رہے یہاں تک کہ دونوں بازوؤں کے کمانڈر آگے بڑھ گئے اور اسے بے سہارا چھوڑ گئے۔ وہ صبح تقریباً ساڑھے دس بجے زخموں کی تاب نہ لا کر مارا گیا؛ ایک عوامی روایت کے مطابق اس نے گھوڑے پر سوار ہو کر ایک فرانسیسی ٹینک پر حملہ کیا اور اس کے عملے نے اسے مار دیا۔ وہ میسلون کے شہداء قبرستان میں مدفون ہے، جہاں عربی مضمون کے مطابق اس کی قبر پر ہر سال یادگاری تقریب منعقد ہوتی ہے۔ 1 3

    ورثہ

    العظمہ ایک شامی ہیرو اور شہید ہے: دمشق کے المہاجرین محلے کی ایک مرکزی چوک میں، جو اسی کے نام سے منسوب ہے، اس کا مجسمہ نصب ہے، دمشق میں فوج کے سابق صدر دفتر پر اس کے نام کا ایک عجائب گھر ہے، اور مدینہ منورہ کی ایک سڑک اس کے نام پر ہے۔ 1 3

    اس کے مذہب پر ایک نوٹ

    کوئی مضمون اور کوئی آزاد ماخذ العظمہ کے لیے ذاتی طور پر کوئی مذہب بیان نہیں کرتا: انگریزی مضمون کا متن اس بارے میں خاموش ہے، اور ویکیمیڈیا ڈیٹا کا مذہبی خانہ صرف عام اسلام دیتا ہے۔ انگریزی مضمون کی درجہ بندیاں، جو اسے «شامی سنی مسلمانوں» اور «عثمانی سنی مسلمانوں» میں رکھتی ہیں، محض انتظامی فائلنگ ہیں، انتماء کی شہادت نہیں۔ جو ایک مخصوص قدر موجود ہے وہ صرف عربی مضمون کا معلوماتی خانہ ہے: سنی مسلم (اہل السنہ والجماعہ)۔ ایک واحد معلوماتی خانے کی قدر میوزیم کے اس اصول کے تحت انتماء ثابت نہیں کر سکتی جس میں دو آزاد ماخذ کا ذاتی طور پر انتماء بیان کرنا ضروری ہے، اس لیے اس کے ریکارڈ میں قدر نامعلوم رکھی گئی ہے اور خانے کی قدر جیسی ہے ویسی درج ہے۔ 1 3 2 4

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دمشق

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الكهف بقاسيون (كهف جبريل)· قصر هرقل (شمس الملوك)· الجامع الأموي بدمشق· فتنة الحافظ عبد الغني بدمشق سنة 595· حصر الأفضل دمشق وعوده عنها· استيلاء العادل على دمشق· قدوم الغزالي دمشق متزهداً سنة 488· ملك الملك الأشرف مدينة دمشق

    ماخذ

    1. Yusuf al-Azma — English Wikipedia
    2. Yusuf al-Azma — Urdu Wikipedia
    3. Yusuf al-Azma — Arabic Wikipedia
    4. Yusuf al-Azma — Wikidata Q1745687
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “یوسف العظمہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/yusuf-al-azma/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الكهف بقاسيون (كهف جبريل)

    The mosque raised inside the cave of Mount Qasyun by Abu al-Faraj Muhammad ibn Abd Allah ibn al-Mu'allim beginning in 370, after a dream in which Jibril bade him build a mosque where God's name would be remembered — he called it Jibril's Cave; a broad prayer-hall floored in white marble, its columns all marble, never empty of the pious at remembrance.