زید الخیر

زيد الخير

زید الخیر وہ شخصیت ہیں جن کا ذکر شیخ عمر عبد الکافی اپنے درس میں کرتے ہیں: نبی نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا محسوس کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ خیر اور اہلِ خیر سے محبت کرتے ہیں۔ 1 شیخ اس میں اس بات کی علامت دیکھتے ہیں کہ اللہ بندے کے لیے آخرت میں بھلائی چاہتا ہے۔ 2

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
arabia
جائزہ

ethics-and-character

خلاصہ

زید الخیر وہ شخصیت ہیں جن کا ذکر شیخ عمر عبد الکافی اپنے درس میں کرتے ہیں: نبی نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا محسوس کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ خیر اور اہلِ خیر سے محبت کرتے ہیں۔ 1 شیخ اس میں اس بات کی علامت دیکھتے ہیں کہ اللہ بندے کے لیے آخرت میں بھلائی چاہتا ہے۔ 2

شیخ عمر عبد الکافی کے تفسیری درس (قسط 9)

شیخ روایت کرتے ہیں کہ زید الخیر نے، جب نبی نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا محسوس کرتے ہیں، کہا کہ وہ خیر سے محبت کرتے ہیں اور اہلِ خیر سے محبت کرتے ہیں، اور جب خیر ان سے چھوٹ جاتی ہے تو اس کے لیے تڑپ اٹھتے ہیں (needs_source) 1۔ شیخ کی رائے ہے کہ خیر اور اہلِ خیر سے محبت اس بات کی علامت ہے کہ اللہ بندے کے لیے آخرت میں بھلائی چاہتا ہے: جو خیر اور اہلِ خیر سے محبت کرے، ان سے ملنے کی کوشش کرے، علم کی مجلسوں میں، علماء کے پاس اور اس کے پاس جو اسے اللہ کی یاد دلائے محسوس کرے کہ اسلام ابھی خیر کے ساتھ ہے، اور خیر کے چھوٹنے پر تڑپے، تو یہ اللہ کے سامنے سر جھکانے کی علامات میں سے ہیں (ان کی رائے) 2۔

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

أداء الدين· أداء الشهادة· حاملِ قرآن کے آداب· کاٹنا (عض)· اذی (معمولی تکلیف: نقصان دہ چیزوں کو ہٹانا اور تکلیف نہ دینے کا حکم)· عدل اور فضل· عفو· عہد

ماخذ

  1. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Tafsir Al Quran Al Qareem، قسط 9, 00:24:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  2. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Tafsir Al Quran Al Qareem، قسط 9, 00:25:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “زید الخیر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/zayd-al-khayr/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
متعلقہ

أداء الدين

Paying a debt in the form owed is obligatory by consensus. A debt due now must be paid on demand when the debtor can pay; a deferred debt is not due before its term. Payment is made in like items, with value owed where there is no like; a better payment is allowed when unconditioned. Remission, gift, assignment, set-off and settlement take the place of payment. A solvent debtor who refuses is compelled, imprisoned and his apparent property sold; the majority hold that a bankrupt is put under interdiction and his property divided among creditors, against Abu Hanifa. The insolvent is given respite, and his debt may be paid from zakat if he borrowed for himself in a lawful matter. A dead person's debt attaches to his estate and takes precedence over bequests and inheritance.