ایک نظر میں
- خطہ
- persia-central-asia
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
نام
قدیم زمانے میں یہ دریا «اوکسوس» کہلاتا تھا، اور اس کی لمبائی 2,494 تا 2,540 کلومیٹر بیان کی گئی ہے۔ اس کا موجودہ فارسی نام اس قصبے آمل سے منسوب ہے، جہاں خراسان سے ماوراء النہر جانے والا راستہ ابتدائی اسلامی دور میں دریا کو عبور کرتا تھا، جو بعد میں آمو کہلایا۔ عربوں اور اسلام پذیر فارسی بولنے والوں نے، خصوصاً علمی کتابوں میں، اسے «جیحون» کہا، جو توراتی جیحون سے ماخوذ ہے، یعنی جنت کے دریاؤں میں سے ایک۔ ساسانی دور میں اسے «وہ رود» یا «بہ رود» کہا جاتا تھا۔ دریا کے شمال کے علاقے کو «ماوراء النہر» کہا گیا۔ 2
بالائی حصہ
دریا کئی تیز رفتار منبعوں سے نکلتا ہے، جن میں سب سے جنوبی «پنج» ہے جو پامیر سے نکلتا ہے؛ دائیں کنارے پر اس میں «غوند» اور «آق سو» ملتے ہیں، پھر دوسری معاون ندیاں۔ «پنج» کی سب سے اہم معاون ندی «وخشاب» ہے، جسے علی یزدی کی ظفرنامہ بالائی حصہ قرار دیتی ہے، جبکہ جدید جغرافیہ «آق سو» کو ترجیح دیتا ہے۔ عرب جغرافیہ دانوں کو منبعوں کی پوری سمجھ نہ آ سکی، اور منبعوں کے ناموں کی تعیین آج بھی اختلافی ہے؛ بارتولڈ کی تجویز، جسے مینورسکی نے قبول کیا، سب سے معقول سمجھی جاتی ہے۔ 2
علاقے جن سے یہ گزرتا ہے
بالائی علاقے میں «پنج» پر واخان، پھر دونوں کناروں پر بدخشاں، شغنان اور غارن، اور درواز ہیں۔ آمو دریا اور «وخش» کے درمیان غتلان ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں «وخش» اور «کفرنہان» کے درمیان واشجرد اور کوادھیان تھے، اور سورخان کی وادی میں صوبہ «جغانیان»؛ بائیں کنارے پر، بدخشاں کے مغرب میں، طخارستان تھا، تقریباً بلخ تک۔ 1
زیریں حصہ اور سرحدیں
یہاں دریا قراقم اور قزل قم کے درمیان صحرا میں داخل ہوتا ہے، بخارات بن کر اپنا بہت سا پانی کھو دیتا ہے، اور قدیم سغدیہ کے قریب سے گزرتا ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں یہاں بخارا اور خیوہ کی امارتیں تھیں۔ 1886–1893ء کی سرحدی تصفیے کے بعد یہ دریا تقریباً 1100 کلومیٹر تک افغانستان کی شمالی سرحد بنا؛ 1924ء سے یہ تاجکستان کی جنوبی حد ہے، اور 1936ء میں صوبائی سرحدوں پر نظرثانی کے بعد یہ ازبکستان (بشمول قراقلپاق ڈیلٹا) کو ترکمانستان سے جدا کرتا ہے۔ 3
ماخذ
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 476-477
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 476
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 477
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “نهر جيحون (آمو داريا)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/place/amu-darya/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.