طالبِ علم
اقصیٰ
بیت المقدس میں مسجدِ اقصیٰ: تیسرا حرم، مسلمانوں کا پہلا قبلہ اور اسلامی یادداشت میں نبی کا معراج۔ امویوں نے ساتویں صدی کے آخر میں اس کی تعمیر شروع کی، عباسیوں اور فاطمیوں نے زلزلوں کے بعد اسے دوبارہ بنایا، اور صلاح الدین نے 1187 میں شہر واپس لینے کے بعد اس کی مرمت کی۔ صلیبیوں نے 1099 میں اسے لے کر محل اور اصطبل بنایا جب تک کہ اٹھاسی سال بعد وہ مسجد بنی۔ اقصیٰ حرم شریف کا دل رہی: نماز کا ہال جس میں چھ صدیوں کی اسلامی معماری اور مقدس شہر کی یادداشت ہے۔ اقصیٰ سے مسلمان سیکھتے ہیں کہ مسجد زندہ یادداشت ہے: ہر زلزلے اور آگ کے بعد پھر کھڑی ہونے والی عمارت، اور وہ نام جو قبلہ، معراج اور حرم کو ایک لفظ میں جمع کرتا ہے۔ اس کے نیچے اموی بنیادیں ہیں، اوپر عباسی گنبد، اور اس کے ساحوں میں ہر اس دور کی یاد ہے جو بیت المقدس سے گزرا — نسلوں کا مدرسہ، صرف حرم نہیں۔