ایک نظر میں
- جائزہ
- تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
سوال
سائل نے کہا کہ عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کی ممانعت ثابت ہے، اور پوچھا کہ کیا وہ جنازوں میں شریک ہو سکتی ہیں؟ 1
جواب
اس ریکارڈ کے بارے میں
یہ جواب binbaz.org.sa پر، جو ابن باز کے علمی ورثے کی سرکاری ویب سائٹ ہے، فتویٰ نمبر 4012 کے طور پر شائع ہوا ہے۔ 1 میوزیم اس متن کو جاری کرنے والے عالم یا ادارے کی طرف منسوب ایک تاریخی دستاویز کے طور پر درج کرتا ہے، اور خود کوئی فتویٰ جاری نہیں کرتا۔
تعلقات
- About
- صلاة الجنازة· زيارة القبور
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الموطأ 606 — نعى النبي النجاشي للناس في اليوم الذي مات فيه وصلى عليه بالمصلى أربع تكبيرات· الموطأ 607 — المسكينة التي دُفنت ليلاً: ألم آمركم أن تؤذنوني بها؟ فصلى على قبرها أربع تكبيرات· الموطأ 608 — ابن شهاب فيمن فاته بعض التكبير على الجنازة: يقضي ما فاته· الموطأ 609 — أبو هريرة يصف صلاته على الجنازة: اللهم عبدك وابن عبدك وابن أمتك… لا تحرمنا أجره ولا تفتنا بعده· الموطأ 610 — سعيد بن المسيب: صليت وراء أبي هريرة على صبي فسمعته يقول: اللهم أعذه من عذاب القبر· الموطأ 611 — نافع: كان ابن عمر لا يقرأ في الصلاة على الجنازة· الموطأ 612 — جنازة زينب بنت أبي سلمة بعد الصبح: ابن عمر: إما أن تصلوا الآن وإما أن تتركوها حتى ترتفع الشمس· الموطأ 613 — ابن عمر: يصلى على الجنازة بعد العصر وبعد الصبح إذا صليتا لوقتهما
ماخذ
- موقع ابن باز , fatwa 4012
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عورتوں کا نمازِ جنازہ پڑھنا اور جنازے کے ساتھ جانا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/fatwa-binbaz-women-praying-over-the-dead/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.