جامع مسجد، کوٹلہ فیروز شاہ (فیروز آباد)

نوادرات مقام

الجامع في كوتلا فيروز شاه (فيروز آباد)

دلهي

دہلی میں فیروز شاہ کے قلعے فیروز آباد کی جامع مسجد، جو 755ھ/1354ء میں دریا کے کنارے حجروں کی نچلی منزل پر بنی اور جہاں تیمور نے 1398ء میں نماز پڑھی؛ اب صرف شمالی دروازہ اور تین دیواریں باقی ہیں 1 2 3۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر المغولي وما بعده
خطہ
south-asia

وقت میں

1340عیسوی1350عیسوی1360عیسوی1370عیسوی
الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · العصر المغولي وما بعده

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

architecture

جائزہ

1353–54ء کی بنگال مہم سے لوٹ کر فیروز شاہ تغلق نے دہلی سے پانچ کوس پر گاوِن گاؤں کے قریب جمنا کے کنارے اپنا شہر فیروز آباد شروع کیا اور اس میں وہ قلعہ بنایا جو آج کوٹلہ فیروز شاہ کہلاتا ہے۔ 4 5 6 قلعے میں اس کی جامع مسجد تھی اور اس کے سامنے «منارِ زرّیں»، یعنی اشوک کی لاٹ۔ 7 مصنفہ لکھتی ہیں کہ عفیف صرف اس کا نام اور قلعے میں اس کی جگہ بتاتے ہیں؛ وہ اسے 755ھ/1354ء کی بتاتی ہیں، جو ہرم نما عمارت کے جنوب میں دریا کی طرف کی فصیل سے ملی ہوئی ہے، اور اس کی تعمیر وزیر خانِ جہاں اور ان کے بیٹے سے منسوب کرتی ہیں۔ 1

عمارت

مسجد ایک اونچی کرسی پر تھی جس میں محراب دار حجروں کی نچلی منزل (تہ خانہ) تھی، اور نماز اوپر کی منزل پر ہوتی تھی؛ اس کا ایک صحن تھا جس کے تین طرف تین تین خانوں کی گہرائی والے دالان اور مغرب میں قبلے کی طرف عبادت گاہ تھی۔ 2 مرکزی دروازہ مشرق کے بجائے شمال میں ہے کیونکہ دریا مشرقی دیوار کے قریب بہتا تھا: یہ ایک مربع گنبد دار ڈیوڑھی ہے جس کے تین بیرونی در ہیں اور اصل میں سیڑھیوں سے پہنچا جاتا تھا۔ 2 مغربی دیوار کی موٹائی میں ایک تنگ پوشیدہ راستہ ہے، اور ڈھکی ہوئی سیڑھیاں اور محل سے ملانے والا ایک پل حرم کی خواتین کو بے پردہ ہوئے اوپر اور نیچے کی گیلریوں تک لے جاتا تھا؛ مصنفہ اسے ہندوستان کی مسجدوں میں منفرد سمجھتی ہیں، اور فرینکلن نے، جس نے 1793ء میں عمارت دیکھی، محلوں سے اس پوشیدہ راستے کی تصدیق کی۔ 8 9 3 فرینکلن نے چار دالان بیان کیے جن کی گنبد دار چھتیں دو سو ساٹھ پتھر کے ستونوں پر تھیں، ہر ایک تقریباً سولہ فٹ اونچا، اور بیچ میں ایک ہشت پہلو گنبد۔ 9 10 صحن کے بیچ ایک گہرا گڑھا غالباً کنواں تھا؛ 1914–15ء میں اس کی کھدائی کی کوشش ہوئی مگر کنارے گرنے لگے تو اسے بھر دیا گیا۔ 9

تاریخ

769ھ/1367ء میں فیروز شاہ اشوک کی لاٹ فیروز آباد لائے اور اسے مسجد کے شمال میں ایک ہرم نما عمارت پر نصب کیا۔ 10 تیمور اپنے «ملفوظات» میں لکھتا ہے کہ وہ مسجدِ جامع میں گیا اور وہاں نماز پڑھی، اور فرشتہ کہتا ہے کہ اسے اس کا نقشہ اتنا پسند آیا کہ اس نے ہندوستان سے لے جائے گئے معماروں سے سمرقند میں اسی طرز کی بڑی مسجد بنوائی۔ 1 3 اکبر کے ابتدائی عہد کے زائرین نے اس کی بعض محرابوں پر تحریریں چھوڑیں، اور سفیدی کے نیچے ملی ایک تاریخ بتاتی ہے کہ 1741ء میں بھی یہاں نماز ہوتی تھی۔ 3 1847ء میں دہلی کی آثارِ قدیمہ سوسائٹی کی ایک کمیٹی نے اس کی تحقیق کی؛ اس کے نقشے 1857ء میں ضائع ہو گئے۔ 10 آج صرف شمالی دروازہ اور شمالی، جنوبی اور مغربی دیواریں باقی ہیں۔ 1 2

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Located in
دلهي
Related to
کھڑکی مسجد، دہلی· قدم شریف مسجد، دہلی
Mentioned in
فیروز شاہ تغلق کے عہد میں مسجد کی معماری

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

کھڑکی مسجد، دہلی· دلهي· بیگم پور مسجد، دہلی· کلاں مسجد، ترکمان دروازہ، دہلی· کالی مسجد، نظام الدین، دہلی· قدم شریف مسجد، دہلی· فیروز شاہ تغلق کے عہد میں مسجد کی معماری· افسر والا مقبرہ، دہلی

ماخذ

  1. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 63
  2. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 64
  3. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 68
  4. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 59
  5. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 60
  6. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 61
  7. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 62
  8. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 65
  9. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 66
  10. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 67
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “جامع مسجد، کوٹلہ فیروز شاہ (فیروز آباد)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/building/jami-masjid-firuzabad-delhi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

نوادرات

مخطوطات، فن، فن تعمیر اور دنیا بھر کے مجموعوں کے تبرکات۔
متعلقہ

کھڑکی مسجد، دہلی

جنوبی دہلی کے گاؤں کھڑکی میں دو منزلہ چار صحنوں والی مسجد، جو فیروز شاہ تغلق کے وزیر خانِ جہاں سے منسوب ہے، جس کی تاریخ 1354ء سے پہلے، 1375ء اور 1387ء مختلف بتائی گئی ہے، اور جس کا نام اس کی جالی دار پتھر کی کھڑکیوں سے پڑا ۔