فیروز شاہ تغلق کے عہد میں مسجد کی معماری

نوادرات خیالات

عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق

سیما خان کا مقالہ (علی گڑھ، 2011ء) دہلی میں فیروز شاہ تغلق کے عہد کی مسجدوں پر: فیروز آباد کی جامع مسجد، نظام الدین کی کالی مسجد، قدم شریف کی مسجد، کھڑکی مسجد، ترکمان دروازے کی کلاں مسجد، بیگم پور مسجد اور کالو سرائے مسجد 1 2۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر المغولي وما بعده
خطہ
south-asia

وقت میں

2000عیسوی2010عیسوی2020عیسوی

architecture

جائزہ

«فیروز شاہ تغلق کے عہد میں مسجد کی معماری» ایم فل کا مقالہ ہے جو سیما خان نے 2011ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی میں ڈاکٹر گلفشاں خان کی نگرانی میں پیش کیا۔ 3 یہ مشرقِ وسطیٰ میں مسجد کی معماری کے ارتقا سے سلطنتِ دہلی کی مسجدوں تک آتا ہے، پھر فیروز شاہ کی مسجدوں کی تکنیک، مسالے اور آرائش پر رکتا ہے، اور چوتھا باب ایک ایک مسجد کے بیان کے لیے رکھتا ہے۔ 1

اس کا مؤقف

مصنفہ شمس سراج عفیف کی «تاریخِ فیروز شاہی» کو سید احمد خان، ظفر حسن، کار اسٹیفن، پرسی براؤن، آر۔ ناتھ اور ابھا رانی کے بیانات کے ساتھ جمع کرتی ہیں اور مقامات کے اپنے سروے کا اضافہ کرتی ہیں۔ 4 5 6 وہ اس دور کے ملبے، چونے اور پلاستر کی وجہ دولت آباد منتقلی کے بعد ہنر مند سنگ تراشوں کے بکھر جانے اور مالی تنگی کو بتاتی ہیں، اور اس کی مستقل خصوصیات گنواتی ہیں: ڈھلوان دیواریں، کونوں پر مخروطی برج، دروازوں پر پتلے ہوتے مینار اور مربع خانوں پر چھوٹے گنبد۔ 7 8 کالی اور کھڑکی مسجد کے چار صحنوں والے نقشے کو وہ وزیر خانِ جہاں مقبول تلنگانی کی ایجاد مانتی ہیں، اسے دھوپ اور بارش سے بچاؤ قرار دیتی ہیں، اور لکھتی ہیں کہ فیروز شاہ کے بعد یہ نقشہ دہرایا نہیں گیا۔ 9 10 11 آخر میں وہ معمار کی حیثیت سے فیروز شاہ کا موازنہ مغل بادشاہ شاہ جہاں سے کرتی ہیں۔ 12

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Mentions
جامع مسجد، کوٹلہ فیروز شاہ (فیروز آباد)· کھڑکی مسجد، دہلی· کلاں مسجد، ترکمان دروازہ، دہلی· بیگم پور مسجد، دہلی· فيروز شاه تغلق

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

دلهي· جامع مسجد، کوٹلہ فیروز شاہ (فیروز آباد)· کھڑکی مسجد، دہلی· کالی مسجد، نظام الدین، دہلی· کالو سرائے مسجد، دہلی· قدم شریف مسجد، دہلی· خانِ جہاں جونان شاہ· بیگم پور مسجد، دہلی

ماخذ

  1. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , contents
  2. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 95
  3. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , title page
  4. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 59
  5. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 85
  6. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 92
  7. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 81
  8. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 84
  9. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 53
  10. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 54
  11. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 73
  12. سيما خان، «عمارة المساجد في عهد فيروز شاه تغلق»، رسالة ماجستير في الفلسفة (M.Phil.)، قسم التاريخ، جامعة عليكره الإسلامية، 2011 , p. 96
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “فیروز شاہ تغلق کے عہد میں مسجد کی معماری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/mosque-architecture-under-firuzshah-tughlaq/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

نوادرات

مخطوطات، فن، فن تعمیر اور دنیا بھر کے مجموعوں کے تبرکات۔
متعلقہ

دلهي

A city in northern India; it was the capital of the Delhi Sultanate from the thirteenth century CE and then the Mughal capital.