مقبرۂ شمس الدین محمد اتگہ خان، دہلی

نوادرات مقام

ضريح شمس الدين محمد أتكه خان في دلهي

دلهي

دہلی میں درگاہِ نظام الدین اولیا کے قریب سنگِ مرمر کے گنبد والا چھوٹا مربع مقبرہ، 974ھ/1566–67ء میں استاد خدا قلی کی نگرانی میں بنا، کتبے باقی محمد بخاری کے لکھے؛ سفید سنگِ مرمر، پچی کاری اور کاشی کی فراوانی 1۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
إمبراطوريات البارود
خطہ
south-asia

وقت میں

1550عیسوی1560عیسوی1570عیسوی1580عیسوی
إمبراطوريات البارود

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

architecture

جائزہ

شمس الدین محمد اتگہ خان کا مقبرہ دہلی میں درگاہِ نظام الدین اولیا کے قریب ایک مربع مقبرہ ہے، اندر سے ہر ضلع 5.74 میٹر، جس پر سنگِ مرمر کا اتھلا گنبد ہے؛ داخلہ جنوب میں ہے، باقی تین اطراف کی محرابیں جالیوں سے بند ہیں، اور مغربی جانب، عہدِ سلطنت کے اکثر مربع مقبروں کی طرح، محراب نہیں۔ 2 اتگہ خان، اکبر کی ایک دایہ کے شوہر، 970ھ/1562ء میں آگرہ میں ماہم انگہ کے بیٹے ادہم خان کے ہاتھوں قتل ہوئے؛ ان کے بیٹے مرزا عزیز کوکلتاش نے 974ھ میں دہلی میں یہ مقبرہ بنوایا، اور خود عزیز کوکہ کا سفید سنگِ مرمر کا مقبرہ، چونسٹھ کھمبا، اسی قبرستان میں ہے۔ 3

عمارت اور آرائش

یہاں سفید سنگِ مرمر کسی سابقہ مقبرے سے زیادہ برتا گیا: مرکزی ستون اور محرابیں سنگِ مرمر کی ہیں، اور محرابوں کے کونوں میں سنگِ مرمر اور سبز و نیلی کاشی کی پچی کاری ہے، جو معماری آرائش میں بے نظیر امتزاج تھا۔ 1 ازاروں پر سرخ پتھر میں سفید سنگِ مرمر اور سیاہ سلیٹ کی ہندسی پچی کاری ہے، اور اندرونی حصہ گچ کاری، کندہ اور رنگین عربیسک، ہندسی اور خطاطی نقوش سے مزین تھا جو زیادہ تر مٹ چکے۔ 1 گنبد دوہرا ہے، ایک گول گردن پر جس پر سرخ پتھر میں سفید سنگِ مرمر کے ہندسی نقش ہیں؛ اندر تین قبریں ہیں۔ 1

کتبے

محرابوں کے گرد سنگِ مرمر کی تختیوں پر نسخ میں آیات ہیں؛ مغربی محراب پر ان کے آخر میں ایک عربی عبارت میں خطاط باقی محمد بخاری کا نام ہے، اور جنوبی محراب پر سنہ 974 اور ایک تاریخی عربی کتبہ ہے جو استاد خدا قلی کی نگرانی میں تعمیر درج کرتا ہے — غالباً معمار، جن کا نام بتاتا ہے کہ وہ ایران سے آئے۔ 1 احاطے کے مغرب میں ایک دیوار زرد، سبز، نیلی اور سفید کاشی سے ڈھکی ہے جس میں ہلکا زرد رنگ غالب ہے۔ 1 4 ناتھ اس مقبرے میں وہ بہت کچھ دیکھتے ہیں جو مغل طرز کا حصہ بنا: سرخ پتھر کے ساتھ سفید سنگِ مرمر، پچی کاری، ازار کا فن، اور نمایاں ترین سطحوں پر پرزور خطاطی۔ 4

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Located in
دلهي
Related to
حضرة نظام الدين درغا

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

کالی مسجد، نظام الدین، دہلی· افسر والا مقبرہ، دہلی· افسر والی مسجد، احاطۂ مقبرۂ ہمایوں، دہلی· بیگم پور مسجد، دہلی· عیسیٰ خان نیازی کی مسجد، دہلی· جامع مسجد، کوٹلہ فیروز شاہ (فیروز آباد)· کلاں مسجد، ترکمان دروازہ، دہلی· کالو سرائے مسجد، دہلی

ماخذ

  1. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 191
  2. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 190
  3. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 210
  4. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 192
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “مقبرۂ شمس الدین محمد اتگہ خان، دہلی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/building/tomb-of-atgah-khan-delhi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

نوادرات

مخطوطات، فن، فن تعمیر اور دنیا بھر کے مجموعوں کے تبرکات۔
متعلقہ

کالی مسجد، نظام الدین، دہلی

دہلی میں بستی نظام الدین کے مشرقی کنارے پر چار صحنوں والی مسجد، جو مشرقی دروازے کے کتبے کے مطابق وزیر خانِ جہاں جونان شاہ نے 772ھ/1370–71ء میں بنوائی، اور جدید دور میں بڑی حد تک ازسرِ نو تعمیر ہوئی ۔