ایک نظر میں
- دور
- عصر الخلفاء الراشدين
- خطہ
- arabia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں
خلاصہ
خلیفہ عثمان بن عفان کے مدینہ میں گھر کا محاصرہ، جو کتب سیر میں «یوم الدار» کہلاتا ہے، جمعہ 18 ذوالحجہ 35ھ کو ان کے قتل پر ختم ہوا؛ اگلی شب انہیں بقیع میں حش کوکب میں دفن کیا گیا۔ 1
زہری کی روایت میں پس منظر
سیوطی زہری سے نقل کرتے ہیں کہ عثمان نے بارہ برس حکومت کی: چھ برس ایسے کہ لوگ انہیں کچھ معایب نہیں پاتے تھے اور وہ قریش کو عمر سے زیادہ محبوب تھے؛ پھر آخری چھ میں انہوں نے اپنے عزیزوں کو منصب دیا اور مروان کے لیے افریقیہ کا خمس لکھ دیا، جس پر اہل امصار نے شکایت کی۔ 2 اسی روایت میں عثمان سے ان عمال کی شکایت کی جاتی جنہیں وہ معزول نہیں کرتے تھے، اور اہل مصر عبداللہ بن ابی سرح کی شکایت لے کر آئے — یہ ان امور میں تھا جو ان کے گھر کے محاصرے تک پہنچا۔ 3
قتل
چھوٹے زائرین کے لیے
عثمان کے عمال کے خلاف برسوں کی شکایات کے بعد معترضین نے مدینہ میں ان کا گھر گھیر لیا اور 35ھ میں انھیں قتل کر دیا — امت کی تاریخ کی پہلی بڑی فتنہ۔
محققین کے لیے
- ریکارڈ کا درج مآخذ تاریخ طبری ہے، لیکن حصاد کے طبری مجلدات سال 35 کا احاطہ نہیں کرتے؛ یہاں سیوطی کی زہری، ابن سعد وغیرہ سے روایت استعمال ہوئی ہے۔ مزید تفصیل سے پہلے طبری کے متن کی جانچ درکار ہے۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
علی بن ابی طالب· عثمان بن عفان· المدينة المنورة· علي يمتنع عن إمامة الناس والخليفة محصور
ماخذ
- تاريخ الخلفاء — السيوطي (طبعة دار المنهاج) , ص276
- تاريخ الخلفاء — السيوطي (طبعة دار المنهاج) , ص270
- تاريخ الخلفاء — السيوطي (طبعة دار المنهاج) , ص271
- تاريخ الأمم والملوك — ابن جرير الطبري
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “حصار عثمان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/event/siege-of-uthman-35/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.