علم الجبر والمقابلہ (خوارزمی کے ہاں الجبرا ایک مستقل علم کے طور پر)

علم الجبر والمقابلة (الجبر علماً مستقلاً عند الخوارزمي)

وہ فن جس سے معلوم اعداد کے ذریعے نامعلوم عدد نکالا جاتا ہے، تین قسم کے حدود (عدد، جذر یعنی «شے»، اور مال یعنی مربع) کے درمیان ایک مساوات سے، جسے الجبر اور المقابلہ کے ذریعے چھ قسموں میں لایا جاتا ہے، اور ہر قسم کا ایک قاعدۂ حل اور ہندسی ثبوت ہے۔ محمد بن موسیٰ خوارزمی نے خلیفہ مامون کے دور میں وراثت، وصیتوں، تجارت اور زمین کی پیمائش میں لوگوں کی ضرورت کے لیے اس پر ایک مختصر کتاب لکھی؛ ابن خلدون انہیں اس فن میں سب سے پہلے لکھنے والا کہتے ہیں، اور دنیا کی زبانوں میں لفظ «الجبرا» ان کی کتاب کے نام سے آیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر العباسي المبكر
خطہ
levant-iraq
ہلکے بھورے کاغذ کے دو صفحات پر کھلا ایک مخطوطہ، جن پر سیاہ نسخ خط میں قریب قریب سطریں لکھی ہیں، اور دائیں صفحے کے حاشیے میں چھوٹے ترچھے حواشی ہیں۔ ہر صفحے کے نیچے سرخ روشنائی سے ایک خاکہ ہے: ایک بڑا مربع جو لکیروں سے چھوٹے مربعوں اور مستطیلوں میں بٹا ہوا ہے، اور ان کے کونوں پر عربی حروف ہیں۔
تصویر: خوارزمی کی «الجبر والمقابلہ» کے مخطوطے کے دو صفحات (بوڈلین، ہنٹنگٹن 214). Bodleian Libraries, University of Oxford, MS. Huntington 214; public domain via Wikimedia Commons: https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Bodleian_MS._Huntington_214_roll332_frame36.jpg

مختصر حقائق

شعبہ
ریاضی اور حساب
قسم
طریقہ
پہلا ثبوت
813 اور 833 کے درمیان عیسوی (اخذ شدہ)
دور
عباسی دور
مقام
بغداد
جس میں بیان ہوئی
كتاب الجبر والمقابلة · مقدمة ابن خلدون
نسبت
بہتری

کس نے بنایا

نسبت اور اس کی بنیاد

محمد بن موسیٰ خوارزمی الجبر والمقابلہ پر لکھنے والے پہلے شخص تھے، اور انہوں نے اسے اس کے تین قسم کے حدود، چھ قسموں اور ان کے ثبوتوں کے ساتھ ایک مستقل علم بنایا۔

کتاب خود باقی ہے۔ اس میں خوارزمی بتاتے ہیں کہ الجبر والمقابلہ کے حساب میں جن اعداد کی ضرورت ہوتی ہے وہ تین قسم کے ہیں: جذر، مال اور مفرد عدد؛ پھر وہ تین سادہ قسمیں بیان کرتے ہیں جن میں ایک قسم دوسری کے برابر ہوتی ہے، اور تین مرکب قسمیں، مرکب قسموں کے حل کو مربع سطحوں سے ثابت کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ الجبر والمقابلہ سے کیا جانے والا ہر حساب لازماً چھ ابواب میں سے کسی ایک تک پہنچتا ہے۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ اس فن میں سب سے پہلے ابو عبد اللہ خوارزمی نے لکھا اور ان کے بعد ابو کامل شجاع بن اسلم نے۔ لیکن مساوات حل کرنا ان سے پرانا ہے: قاہرہ کے محققین مصر اور بابل میں مساواتوں، یونانیوں کے ہاں ہندسی حلوں، ہیرون اور دیوفانتوس کے ہاں تحلیلی حلوں، اور ہند میں برہما گپت کے قاعدے کا جائزہ لیتے ہیں۔ خوارزمی کے ہاں نیا یہ ہے کہ انہوں نے اسے اپنے ثبوتوں کے ساتھ ایک مرتب، مستقل علم میں جمع کیا، نہ کہ مساوات کا حل عدم سے ایجاد کیا۔

ماخذ: كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد · مقدمة ابن خلدون · جبر — ٹی ڈی وی اسلامی انسائیکلوپیڈیا (احسان فضل اوغلو) · Wikimedia Commons (file pages, CC BY-SA and CC BY licences)

اس سے پہلے

  • مصری احمس (رائنڈ) پیپرس میں یک درجی مساواتیں
  • بابلی مربعوں اور مکعبوں کے جدول
  • یونانیوں کے ہندسی اور تحلیلی حل: اقلیدس، ہیرون اور دیوفانتوس
  • مساوات حل کرنے کے ہندی قاعدے: آریہ بھٹ، برہما گپت اور مہاویر

اس پر جو بنا

  • خوارزمی کی کتاب کی شرحیں: سنان بن الفتح، عبد اللہ بن الحسن صیدنانی اور ابو الوفاء بوزجانی
  • ابو کامل شجاع بن اسلم کی «کتاب الجبر والمقابلہ»
  • کرجی کا الجبرا «الفخری» میں اور سموأل کا «الباہر» میں
  • عمر خیام کی سہ درجی مساواتوں کی درجہ بندی
  • اہلِ اندلس کی شرحیں، جن میں قرشی کی شرح بھی ہے
  • رابرٹ آف چیسٹر کا لاطینی ترجمہ اور لفظ «الجبرا»

یہ کیسے کام کرتی ہے

خوارزمی کا الجبرا کس پر بنا اور اس پر کیا بنا

خلاصہ

علم الجبر والمقابلہ وہ فن ہے جس سے معلوم اعداد کے ذریعے ایک مساوات کی مدد سے نامعلوم عدد نکالا جاتا ہے۔ محمد بن موسیٰ خوارزمی نے اسے بغداد میں خلیفہ مامون کے دور میں ایک مختصر کتاب الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ میں پیش کیا، تاکہ وراثت، وصیتوں، تجارت اور زمین کی پیمائش میں لوگوں کی ضرورت پوری ہو 1۔ انہوں نے ہر مسئلے کو تین قسم کے حدود اور چھ قسم کی مساواتوں تک پہنچایا، جن میں سے ہر ایک کا ایک قاعدہ اور ایک ہندسی ثبوت ہے 2۔ ابن خلدون انہیں اس فن میں سب سے پہلے لکھنے والا قرار دیتے ہیں 3، اور دنیا کی زبانوں میں یہ علم آج بھی ان کی کتاب کا نام رکھتا ہے 4۔

یہ کیا ہے

ابن خلدون الجبر والمقابلہ کو علم العدد کی شاخوں میں شمار کرتے ہیں: ایک فن جس سے نامعلوم عدد معلوم کی بنیاد پر نکالا جاتا ہے جب ان کے درمیان کوئی ایسی نسبت ہو جو اس کا تقاضا کرے۔ اس کے حدود عدد، «شے» یعنی جذر، اور «مال» یعنی مربع ہیں، اور ان کے درمیان مساواتیں چھ مسائل پر ختم ہوتی ہیں 3۔

خوارزمی بھی اپنی کتاب اسی طرح شروع کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ الجبر والمقابلہ کے حساب میں جن اعداد کی ضرورت ہوتی ہے وہ تین قسم کے ہیں: جذر، مال، اور مفرد عدد جو نہ جذر سے منسوب ہو نہ مال سے 5۔ اس علم کا نام دو عملوں سے بنا ہے۔ الجبر، یعنی «پورا کرنا»، کسی طرف سے منفی مقدار کو دونوں طرف اضافہ کر کے ہٹا دیتا ہے؛ اور المقابلہ، یعنی «برابر کرنا»، دونوں طرف موجود ایک جیسے حدود کو ساقط کر دیتا ہے۔ ٹی ڈی وی ان میں رد، یعنی دونوں طرف کو مال کے عدد پر تقسیم کرنا، اور اکمال، یعنی مال کو پورا مال بنانا، کا اضافہ کرتا ہے 6۔ کتاب کے حل شدہ مسائل میں جبر کا عمل بار بار آتا ہے: «دس شے کم» والی مقدار کو پورا کیا جاتا ہے اور دس شے دوسری طرف بڑھا دی جاتی ہیں 7۔

اس سے پہلے کی دنیا

لوگ خوارزمی سے بہت پہلے مساواتیں حل کرتے تھے، اور قاہرہ ایڈیشن کے محققین اپنا مقدمہ اسی تاریخ سے شروع کرتے ہیں۔ مصری احمس پیپرس میں، جو تقریباً 1700 قبل مسیح کا ہے اور سب سے پرانی باقی ماندہ درسی کتاب ہے، ایک نامعلوم والی یک درجی مساوات موجود ہے جس کے نامعلوم کی ایک خاص علامت ہے 8۔ بابلیوں نے مربعوں اور مکعبوں کے جدول بنائے، اور اقلیدس کے ہاں ایسے مسائل ہیں جو دراصل دو درجی مساواتوں کے ہندسی حل ہیں 9۔ اسکندریہ کے ہیرون کے ہاں پہلا ایسا تحلیلی حل ملتا ہے جس پر یقین کیا جا سکتا ہے 10، اور دیوفانتوس مثبت ضریبوں والی دو درجی مساواتوں کا حل جانتے تھے، لیکن انہوں نے ان کی قسموں کو اس ترتیب سے نہیں رکھا جیسے خوارزمی نے رکھا 11۔

ہندوستان میں آریہ بھٹ یقیناً دو درجی مساوات کا حل جانتے تھے، برہما گپت نے ساتویں صدی میں اسے حل کرنے کا قاعدہ الفاظ میں دیا، اور مہاویر نے بھی، جو خوارزمی کے ہم عصر تھے، قاعدے دیے 12۔ ٹی ڈی وی کے مطابق دوہرے فرضی مقام کا طریقہ، الٹی طرف سے کام کرنے کا طریقہ اور کچھ لفظی مسائل ہندی کتابوں سے اسلامی الجبرا میں آئے، اور قسطا بن لوقا نے دیوفانتوس کی «ارثماطیقی» کا عربی ترجمہ «صناعۃ الجبر» کے نام سے کیا 6۔

کہانی

نویں صدی عیسوی کے آغاز میں مامون نے بغداد میں علما کو جمع کیا۔ قاہرہ کے محققین ابن ندیم کی الفہرست سے نقل کرتے ہیں کہ خوارزمی مامون کے خزانۂ حکمت سے وابستہ رہے، علم ہیئت کے ماہرین میں تھے، اور «سند ہند» کے نام سے مشہور دو زیجوں کے مصنف تھے 13۔

خوارزمی اپنے مقدمے میں اللہ کی حمد کرتے ہیں اور نبی محمد پر درود بھیجتے ہیں، پھر بتاتے ہیں کہ انہیں لکھنے پر کس چیز نے آمادہ کیا: امام مامون امیر المؤمنین علم سے محبت رکھتے، اہلِ علم کو قریب رکھتے اور جو کچھ مبہم تھا اسے واضح کرنے میں ان کی مدد کرتے، اسی سے انہیں الجبر والمقابلہ کے حساب پر ایک مختصر کتاب لکھنے کا حوصلہ ملا 14۔ انہوں نے اسے حساب کے لطیف اور اہم حصے تک محدود رکھا، اور اس تک جس کی لوگوں کو ہمیشہ ضرورت رہتی ہے: وراثت، وصیتیں، ترکے کی تقسیم، فیصلے، تجارت اور باہمی معاملات، زمین کی پیمائش، نہریں کھودنا، ہندسہ اور دوسرے امور 5۔ کتاب میں سنِ تصنیف درج نہیں، لیکن مامون نے 813 سے 833 عیسوی تک حکومت کی 13، اس لیے یہ انہی برسوں میں لکھی گئی۔

اس کا ایک نسخہ آکسفورڈ کی بوڈلین لائبریری میں محفوظ ہے، جو قاہرہ میں محرم 743 ہجری میں لکھا گیا۔ فریڈرک روزن نے اسے 1831 میں لندن میں انگریزی ترجمے کے ساتھ شائع کیا، اور 1939 کا قاہرہ ایڈیشن اسی نسخے سے تیار ہوا 15۔

بنانے والے

ابو عبد اللہ، یا ابو جعفر، محمد بن موسیٰ خوارزمی بغداد میں مامون کے دربار کے ماہرِ فلکیات اور ریاضی دان تھے۔ قاہرہ کے محققین انہیں حساب، جغرافیہ اور فلکیات میں ماہر بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں بجا طور پر علم الجبر کا بانی سمجھا جاتا ہے 16۔ اپنی کتاب کے مقدمے میں وہ ایک مسلمان کی حیثیت سے لکھتے ہیں: اللہ کی حمد کرتے ہیں، نبی اور ان سے پہلے کے انبیا پر درود بھیجتے ہیں، اور مامون کو امام امیر المؤمنین کہتے ہیں 14۔

یہ کیسے کام کرتا ہے

خوارزمی پہلے تین سادہ قسمیں بیان کرتے ہیں جن میں ایک قسم دوسری کے برابر ہوتی ہے: مال جذروں کے برابر، مال عدد کے برابر، اور جذر عدد کے برابر۔ پھر تین مرکب قسمیں: مال اور جذر عدد کے برابر، مال اور عدد جذروں کے برابر، اور جذر اور عدد مال کے برابر 17۔

ان کی سب سے مشہور مثال ہے «ایک مال اور اس کے دس جذر انتالیس درہم کے برابر ہیں»۔ قاعدہ یہ ہے: جذروں کو آدھا کرو تو پانچ ہوئے؛ اسے اسی سے ضرب دو تو پچیس؛ اسے انتالیس میں جمع کرو تو چونسٹھ؛ اس کا جذر لو تو آٹھ؛ اس میں سے جذروں کا آدھا یعنی پانچ گھٹاؤ تو تین بچے۔ یہی مال کا جذر ہے، اور مال نو ہے 18۔ پھر وہ اس قاعدے کو ایک شکل سے ثابت کرتے ہیں: ایک مربع سطح مال ہے، اس کے پہلوؤں پر سطحیں دس جذر ہیں، اور بڑے مربع کو پورا کرنے کے لیے پانچ ضرب پانچ یعنی پچیس کا مربع بچتا ہے، تو پوری سطح چونسٹھ ہوتی ہے اور اس کا ضلع آٹھ 19۔

وہ اس صورت کا بھی ذکر کرتے ہیں جس کا کوئی حل نہیں: جب جذروں کے آدھے کا مربع مال کے ساتھ ملے ہوئے عدد سے کم ہو تو «مسئلہ مستحیل ہے»۔ محققین بتاتے ہیں کہ یہ نام ریاضی دانوں میں اٹھارہویں صدی کے آخر تک باقی رہا، جب خیالی مقداروں پر تحقیق شروع ہوئی 20۔ ان کا الجبرا پورا کا پورا الفاظ میں تھا، کوئی علامت نہ تھی، اور یہ صرف مثبت جذر قبول کرتا تھا 6۔ وہ نظریے کو پوری کتاب کے قاعدے پر ختم کرتے ہیں: الجبر والمقابلہ سے کیا جانے والا ہر حساب لازماً چھ ابواب میں سے کسی ایک تک پہنچتا ہے 21۔

پھیلاؤ

یہ کتاب پوری اسلامی دنیا میں پڑھی گئی، اس کی شرحیں لکھی گئیں اور اس پر مزید کام ہوا۔ الفہرست کم از کم تین ایسے لوگوں کا ذکر کرتی ہے جنہوں نے اس کی شرح لکھی 22۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ اہلِ اندلس میں سے بہت سوں نے اس کی اچھی شرحیں لکھیں، اور ان میں سب سے بہتر قرشی کی شرح ہے 23۔ رابرٹ آف چیسٹر نے اس کا لاطینی ترجمہ کیا، اور ایل سی کارپنسکی نے 1915 میں اس لاطینی ترجمے کا انگریزی ترجمہ شائع کیا 15۔

اس کی بنیاد کیا تھی

خوارزمی کا الجبرا مساواتیں حل کرنے کی ایک لمبی تاریخ پر قائم تھا: احمس پیپرس میں یک درجی مساواتیں، بابلی جدول، یونانیوں کے ہندسی اور تحلیلی حل، اور ہندیوں کے لفظی قاعدے 24۔ ٹی ڈی وی بھی اس کے طریقوں اور لفظی مسائل پر ہندی اثر کا ذکر کرتا ہے 6۔ خوارزمی نے جو اضافہ کیا وہ ترتیب تھی: تین قسم کے حدود، چھ قسمیں، اور ہر قسم کا ایک قاعدہ اور ایک ثبوت۔

اس پر کیا بنایا گیا

ابو کامل شجاع بن اسلم، تقریباً 925 عیسوی، خوارزمی کو واضح طور پر اپنے مآخذ میں شمار کرتے ہیں 16۔ ابن خلدون انہیں خوارزمی کے بعد دوسرے نمبر پر رکھتے ہیں 3، اور ٹی ڈی وی کے مطابق انہوں نے الجبرا کو اقلیدسی ہندسے پر قائم کیا، غیر ناطق اعداد استعمال کیے اور ہندسی مسائل کو الجبرا سے حل کیا۔ پھر کرجی نے الجبرا کو حسابی بنایا اور اسے ہندسے سے آزاد کیا، اور (x + 1) کی قوت n کے پھیلاؤ پر کام کیا۔ ان کے طریقے کے پیرو سموأل مغربی نے اعداد اور مقداروں کو حروف سے ایک تجریدی انداز میں لکھا۔ عمر خیام نے سہ درجی مساواتوں کے لیے وہی کیا جو خوارزمی نے یک درجی اور دو درجی کے لیے کیا تھا: انہیں تیرہ قسموں میں تقسیم کیا اور مخروطی قطعوں سے حل کیا 6۔ قاہرہ کے محققین مزید کہتے ہیں کہ خیام ابن موسیٰ سے نام لیے بغیر اقتباس کرتے ہیں 16۔ ابن خلدون تک یہ خبر پہنچی کہ مشرق کے ایک ریاضی دان نے مساواتوں کو چھ قسموں سے آگے بیس سے زیادہ تک پہنچایا، ہندسی ثبوتوں کے ساتھ 25۔

روزمرہ زندگی پر اثر

یہ کتاب روزمرہ ضرورتوں کے لیے لکھی گئی تھی۔ خوارزمی کہتے ہیں کہ یہ وراثت، وصیتوں، ترکے کی تقسیم، تجارت، زمین کی پیمائش اور نہریں کھودنے کے لیے ہے 5۔ اسی کتاب میں ایک طویل «کتاب الوصایا» بھی ہے، جو تصویری نسخے کے صفحہ 83 سے شروع ہوتی ہے اور اس کے قاعدوں کو ترکوں اور وصیتوں کے حصوں پر لاگو کرتی ہے 26۔

اس نے تاریخ کو کیسے بدلا

عددی مسائل کا حل ایک علم بن گیا، جس کے اپنے حدود، ابواب اور ثبوت تھے: ہر مسئلہ الجبر والمقابلہ سے چھ قسموں میں سے کسی ایک تک لایا جاتا ہے 21۔ قاہرہ کے محققین لکھتے ہیں کہ ان کی مساواتیں، جیسے «ایک مال اور دس جذر انتالیس کے برابر»، ان کے زمانے سے جدید دور کے آغاز تک الجبرا کی ہر کتاب میں دہرائی گئیں، اور ان میں سے کچھ آج بھی الجبرا کی کتابوں میں ملتی ہیں 16۔

اسے حقیقتاً کس نے ایجاد کیا؟

عجائب گھر خوارزمی کے کام کو ایک بہتری کے طور پر درج کرتا ہے: انہوں نے مساوات کا حل ایجاد نہیں کیا، جو ان سے پرانا ہے، لیکن وہ پہلے معلوم مصنف ہیں جنہوں نے اسے ایک مستقل علم بنایا۔

سنی نقطۂ نظر (ابن خلدون)۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ اس فن میں سب سے پہلے ابو عبد اللہ خوارزمی نے لکھا، اور ان کے بعد ابو کامل شجاع بن اسلم نے۔ وہ خوارزمی کی چھ مسائل والی کتاب کو اس موضوع کی بہترین کتابوں میں شمار کرتے ہیں، اور بتاتے ہیں کہ اہلِ اندلس میں سے بہت سوں نے اس کی شرحیں لکھیں 23۔

علمی نقطۂ نظر (ٹی ڈی وی)۔ ٹی ڈی وی مؤرخین کے عمومی اتفاق کا ذکر کرتا ہے کہ الجبرا خوارزمی کے ساتھ ایک مستقل علم بنا، اور بعد کے ریاضی دانوں جیسے سنان بن الفتح نے ان کی اولیت تسلیم کی۔ ان کے زمانے میں واحد مخالف ابو برزہ تھے، جنہوں نے یہ اعزاز اپنے دادا عبد الحمید بن واسع بن ترک کے لیے مانگا، اور ابو کامل نے سختی سے ان کا رد کیا۔ ٹی ڈی وی یہ بھی بتاتا ہے کہ بعض جدید مؤرخین کو کتاب کے پہلی ہونے میں کیوں شک ہے: یہ خود کو مختصر کہتی ہے، خوارزمی اولیت کا دعویٰ نہیں کرتے، اس کی اصطلاحات پختہ ہیں، اور اس موضوع پر ابن ترک کی ایک کتاب اور سند بن علی کی ایک گم شدہ کتاب موجود تھی 6۔

دونوں نقطۂ نظر اس پر متفق ہیں کہ ان کی کتاب وہ قدیم ترین باقی ماندہ تصنیف ہے جو الجبرا کو ایک مستقل علم کے طور پر پیش کرتی ہے۔

آج

الجبرا آج ریاضی کی ایک بنیادی شاخ ہے جو اسکولوں میں پڑھائی جاتی ہے، اور یہ مساواتیں علامتوں میں لکھتا ہے۔ خوارزمی کا الجبرا پورا کا پورا الفاظ میں تھا اور صرف مثبت جذر قبول کرتا تھا؛ بعد میں سموأل نے اعداد اور مقداروں کو حروف سے لکھنا شروع کیا 6۔ دنیا کی تمام زبانوں میں اس علم کا نام عربی لفظ «الجبر» سے نکلا ہے جسے خوارزمی نے اپنی کتاب کا نام بنایا، اور خود ان کے نام سے لاطینی «الگوریزمس» اور انگریزی «الگورتھم» بنے 4۔

باقی ماندہ شواہد

یہ کتاب آکسفورڈ کی بوڈلین لائبریری کے ایک مخطوطے میں محفوظ ہے، جو قاہرہ میں محرم 743 ہجری میں نقل کیا گیا 15۔ اس صفحے کی تصویر بوڈلین لائبریری میں اس کتاب کے ایک مخطوطے کے دو صفحے دکھاتی ہے، جن میں اس کے ثبوت سرخ روشنائی سے مربعوں کی صورت میں بنے ہیں 27۔

ثقافت میں

خوارزمی کا نام اور ان کی کتاب کا نام دنیا کی زبانوں میں داخل ہوئے۔ مسلمانوں میں ابن خلدون انہیں الجبرا پر سب سے پہلے لکھنے والا کہتے ہیں، اور زکریا قزوینی لکھتے ہیں کہ انہوں نے سب سے پہلے علم الجبر مسلمانوں تک پہنچایا۔ انگریزی میں ان کا نام «الگورتھم» بنا، یعنی مسائل حل کرنے کا مقررہ طریقہ، اور شاعر چاسر نے صفر کے لیے «آگرم» کا لفظ استعمال کیا۔ اٹھارہویں صدی کے آغاز تک لاطینی میں اعداد کو «الگوریزمس» کہا جاتا تھا، اور ہسپانوی میں ہندسے کے لیے لفظ «گواریزمو» ہے۔ ان کی کتاب کا نام «الجبرا» بن گیا 4۔

بچوں کے لیے

تقریباً بارہ سو سال پہلے بغداد کے ایک عالم خوارزمی نے ایک کتاب لکھی جو لوگوں کو سکھاتی تھی کہ وہ نامعلوم عدد کیسے معلوم کریں، تاکہ وہ وراثت تقسیم کر سکیں، زمین ناپ سکیں اور تجارت کا حساب کر سکیں۔ انہوں نے مسائل کو چھ قسموں میں ترتیب دیا اور ہر قسم کو مربعوں کی شکلوں سے سمجھایا۔ ان کی کتاب کے نام «الجبر» سے لفظ «الجبرا» بنا جو دنیا بھر کے طالب علم سیکھتے ہیں 28 4۔

مراجع

  • محمد بن موسیٰ خوارزمی، کتاب الجبر والمقابلہ، تحقیق علی مصطفیٰ مشرفہ و محمد مرسی احمد، قاہرہ 1939: محققین کا مقدمہ، تصویری صفحات 13–26؛ مصنف کا مقدمہ اور متن، تصویری صفحات 29–43 اور 51–53۔ 29
  • عبد الرحمٰن بن خلدون، المقدمہ، ص 495–496، فصل «الجبر والمقابلہ»۔ 23
  • احسان فضل اوغلو، «CEBİR»، ٹی ڈی وی اسلامی انسائیکلوپیڈیا، جلد 7 (1993)، ص 195–201، آن لائن ایڈیشن۔ 6
  • ویکی میڈیا کامنز، «Bodleian MS. Huntington 214 roll332 frame36.jpg»، پبلک ڈومین، بوڈلین لائبریریز۔ 27

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Invented by
الخوارزمي
Described by
كتاب الجبر والمقابلة· مقدمة ابن خلدون

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

عبد اللہ المامون بن ہارون الرشید· أبو كامل شجاع بن أسلم· علي مصطفى مشرفة· الضروب الستة (أنواع المعادلات عند الخوارزمي)· علم الجبر· حساب الدور· علم المساحة· وَصِيَّة

ماخذ

  1. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , pp. 29–30
  2. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , pp. 30–43
  3. مقدمة ابن خلدون , p. 495
  4. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , p. 25
  5. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , p. 30
  6. جبر — ٹی ڈی وی اسلامی انسائیکلوپیڈیا (احسان فضل اوغلو) , pp. 195–201
  7. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , pp. 51–53
  8. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , p. 14
  9. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , p. 16
  10. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , pp. 16–17
  11. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , pp. 17–19
  12. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , pp. 19–20
  13. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , p. 22
  14. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , p. 29
  15. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , p. 26
  16. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , p. 24
  17. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , pp. 31–32
  18. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , pp. 32–33
  19. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , pp. 35–37
  20. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , p. 35
  21. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , p. 43
  22. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , p. 23
  23. مقدمة ابن خلدون , pp. 495–496
  24. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , pp. 13–21
  25. مقدمة ابن خلدون , p. 496
  26. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , p. 83
  27. Wikimedia Commons (file pages, CC BY-SA and CC BY licences)
  28. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , pp. 29–32
  29. كتاب الجبر والمقابلة — الخوارزمي، تقديم وتعليق علي مصطفى مشرفة ومحمد مرسي أحمد , pp. 13–53
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “علم الجبر والمقابلہ (خوارزمی کے ہاں الجبرا ایک مستقل علم کے طور پر)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/invention/algebra/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-05.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

عبد اللہ المامون بن ہارون الرشید

Abbasid caliph, given the oath of allegiance at Baghdad after the deposition of his brother al-Amin in 196 AH; he died in 218 AH. Al-Tabari also records the mihna over the Qur'an in his reign. According to al-Suyuti, he was born on the night of Saturday, fourteen days before the end of Rabi' I 170, the night his paternal uncle al-Hadi died and his father's accession was made; there was no other night in all time in which one caliph died, another rose, and a child was born, except this one. Also according to al-Suyuti, in 204 he set out and entered Baghdad in Safar, where the Abbasids asked him to return to black, the Abbasid colour, and he agreed; in 218 people were tested on the doctrine that the Qur'an was created. He alone, after Uthman ibn Affan, is said to have memorised the Qur'an among the caliphs, and his seal bore the inscription 'Abd Allah ibn Ubayd Allah'. A woman asked him about the division of an inheritance of 600 dinars; he reckoned it out: two daughters take two-thirds, a mother a sixth, a wife an eighth, and twelve brothers received two dinars each while she received one dinar, and it came out as he had said. Also according to al-Suyuti, a Kharijite came to him and asked what had moved him to oppose them; he answered with a verse of God's Book, and when asked whether he knew it was revealed he said yes, and when asked for proof he gave the consensus of the community. The Kharijite replied: 'As you accepted their consensus on the revelation, accept their consensus on the interpretation.' The Kharijite said, 'You have spoken truly,' and addressed him as Commander of the Faithful. The first hadith he transmitted from a pulpit set up for him was, through Hushaym, Abu al-Jahm, al-Zuhri, Abu Salama and Abu Hurayra: 'Imru' al-Qays, banner-bearer of the poets, to the Fire'. According to al-Mas'udi, at the start of his career, while al-Fadl ibn Sahl dominated him, al-Ma'mun engaged in judging by the stars, followed the ways of the Sasanian kings such as Ardashir ibn Babak, and laboured at reading ancient books. When he came to Iraq he gave this up, professed divine unity and the promise and the threat, sat with the theologians, and favoured the disputatious ones such as Abu al-Hudhayl al-Allaf and Ibrahim ibn Sayyar al-Nazzam. He kept jurists and men of letters attending his council and paid them stipends, so that each party wrote books defending its school. He was the most forgiving of people, the most patient, and the most generous with money. Also according to al-Mas'udi, al-Rashid said of him: 'I recognise in Abd Allah the firmness of al-Mansur, the piety of al-Mahdi, and the dignity of al-Hadi.' After al-Asma'i had recited to them, a prophecy was made concerning the two of them, that their word would be scattered, blood would be shed and the veils of women torn. Al-Rashid gave him war and the son of his own mother peace, and said: 'We fear your son for Abd Allah, and we do not fear Abd Allah for him'. His mother was from Badhghis, named Marajil. Al-Fadl ibn Sahl dominated him and pressed him over a slave-girl he wished to buy, and he killed him, though some claimed that someone had been secretly sent against him to kill him. He showed Shi'i leanings and lampooned his paternal uncle Ibrahim ibn al-Mahdi, nicknamed Ibn Shakla, in verse; Ibrahim answered him in verse. He used to say that everything could be forgiven except disparaging the kingship, disclosing secrets and violating the sanctity of women, and that the masters of people in this world are the generous and in the next the prophets. He addressed the estates of his family, citing a verse of the Qur'an. He died at al-Budandun, near Ayn al-Qushayra, in 218 AH, aged 49, and was buried at Tarsus. More remarkable still was the man who broke wind during his address: al-Ma'mun said of him, 'I have never seen a man steadier of heart,' and gave him fifty thousand dirhams. He said to Abu al-Atahiya: 'The nature of the soul is boredom and the love of novelty'. Al-Suli related from Ya'qub ibn Ja'far, as in al-Mas'udi, the reason for his wearing green and then black: the Hashimites gathered before Zaynab bint Sulayman ibn Ali, the most senior of the Abbasid line in descent, and she spoke to him. He answered her: 'O aunt of the Messenger of God, when he died Abu Bakr succeeded, then Umar, who did not go beyond the practice of those before him; then Uthman, who turned to the Umayyads; then the matter came to Ali ibn Abi Talib, who appointed Abd Allah ibn al-Abbas to Basra, Ubayd Allah ibn al-Abbas to Yemen, and Qutham to Bahrain, and he left none of them without an office. So this debt stayed upon us until his offspring sufficed us.' Then he returned to wearing black. He also had a poem fitting the theme, including the line: 'Am I to be blamed for giving thanks to the legatee, Abu al-Hasan?'.