بغداد میں کاغذ سازی کا قیام

خیالات نوادرات

توطين صناعة الورق في بغداد

عثمان ارسوئے بغداد کے178ھ/794–795ء کے کاغذ کارخانے کی تجویز فضل بن یحییٰ برمکی سے منسوب کرتے ہیں 1۔ بلوم آٹھویں صدی کے آخر کی پیداوار کی تائید کرتے مگر نام و سال کی الگ تصدیق نہیں؛ یہ صنعت کا انتقال ہے، چینی الاصل کاغذ کی ایجاد نہیں 2۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر العباسي المبكر
خطہ
levant-iraq · persia-central-asia
جدید کارگاہ میں تین کاریگر لکڑی کی میزوں پر چھال تیار کرتی ہیں، اردگرد شاخیں اور چھلکے ہیں۔ کونیگل2018ء کی سیاقی تصویر، عباسی بغداد نہیں۔
تصویر: کونیگل میں کاغذ کے لیے چھال کی تیاری،2018ء. Enric, 5 April2018, Wikimedia Commons: File:084 Molí paperer Meros (Konigil, Samarcanda), pelant les escorces de morera.jpg, CC BY-SA4.0

مختصر حقائق

شعبہ
مواد اور صنعت
قسم
عمل
پہلا ثبوت
794 اور 795 کے درمیان عیسوی · 178 ھ
دور
عباسی دور
مقام
بغداد
نسبت
منتقلی

کس نے بنایا

نسبت اور اس کی بنیاد

ٹی ڈی وی کے بیان میں بغداد کی کاغذ سازی کے لیے فضل کی تجویز؛ چینی اصل واضح ہے۔

ٹی ڈی وی تجویز کنندہ بتاتا ہے؛ بلوم صدی کی تائید کرتے ہیں، اس تقرر کی تفصیل کی نہیں۔ یہاں کارخانے کی مشین یا پیداوار ثابت نہیں۔

ماخذ: کاغذ — عثمان ارسوئے، ٹی ڈی وی · طباعت سے پہلے کاغذ — جوناتھن بلوم، ایرانیکا · برامکہ — حقی دورسون یلدز، ٹی ڈی وی · کونیگل میں چھال کی تیاری کی تصویر کے کوائف — انریک

اس سے پہلے

  • اسلام سے پہلے چینی کاغذ سازی
  • وسطی ایشیا اور سمرقند کی کاغذی صنعت

اس پر جو بنا

  • اسلامی علاقوں میں کاغذ کا وسیع استعمال اور پیداوار

یہ کیسے کام کرتی ہے

چینی کاغذ، وسطی ایشیا اور بغداد

خلاصہ

یہ ایک ہنر کو شہر میں قائم کرنے کی کہانی ہے، کاغذ کو دوبارہ ایجاد کرنے کی نہیں: اس کی چینی ابتدا اسلام سے کئی صدیاں پرانی ہے اور مغرب کی طرف اس کے سفر میں وسطی ایشیا ایک مرحلہ تھا 2۔ عثمان ارسوئے بغداد میں178ھ/794–795ء کے کاغذ کارخانے کی تجویز فضل بن یحییٰ برمکی سے منسوب کرتے ہیں، ہارون الرشید کے عہد میں 1۔ جوناتھن بلوم آٹھویں صدی کے آخر تک بغداد میں پیداوار کی تائید کرتے ہیں، مگر اس سال یا تجویز کنندہ کے نام کی الگ تصدیق نہیں دیتے 2۔ براؤزر فضل کی مخصوص انتقالی تجویز درج کرتا ہے، پہلی ورق سازی یا ایسی مشین کی ایجاد نہیں جس کی پڑھے ماخذوں میں تفصیل نہ ہو 1۔

یہ کیا ہے

کاغذ سیلولوز کے ریشوں کی تہ ہے: مواد کو پانی میں توڑ کر ریشے الگ کیے جاتے، جالی پر جمع ہوتے اور خشک ہو کر لکھنے کا ورق بنتے ہیں؛ ریشے پودوں، چیتھڑوں یا پرانی رسیوں سے آ سکتے ہیں 3۔ یہ محض لکڑی کا قتلا، جانور کی کھال کا رق یا آڑی ترچھی پٹیوں کا پپائرس نہیں؛ مواد اور بنانے کا طریقہ تحریر کی تاریخ کا حصہ ہیں 4 3۔

یہاں «کاغذ سازی کا قیام» بغداد میں پہلے سے موجود ہنر کی مقامی پیداوار ہے، صرف درآمدی کاغذ کے گٹھے پہنچنا نہیں 1۔ ماخذ تجویز، جگہ اور زمانہ بتاتا ہے، کاریگروں کے نام، عمارت کا رقبہ یا مشینوں کا نقشہ نہیں؛ اس لیے کسی خاص بغدادی پیداواری سلسلے کو یوں بیان نہیں کیا جا سکتا جیسے اس کا نقشہ باقی ہو 1۔

اس سے پہلے کی دنیا

تحریری مواد میں پتھر، لکڑی، دھات اور ہڈی کی تختیاں، پپائرس اور تیار کھالیں شامل تھیں؛ ان کی تیاری پانی میں معلق ریشوں سے کاغذ بنانے سے مختلف تھی 4۔ کاغذ آنے سے ہر پرانا مادہ یک دم ختم نہیں ہوا: بلوم کے مطابق ایرانی مسلمانوں نے پہلے اسے ریکارڈ محفوظ کرنے میں اپنایا اور پھر بتدریج کتابیں، جن میں مصاحف بھی شامل تھے، رق کی جگہ کاغذ پر نقل کیں 5۔

بلوم کے بیان میں بودھ راہب اور مبلغ اسلام سے پہلے کاغذ کو ایشیا کے مختلف علاقوں میں لے گئے اور اسلامی فتوحات سے پہلے وسطی ایشیا میں یہ معروف تھا 2۔ یوں بغداد ایک طویل انتقالی سلسلے کے اندر آتا ہے، ابتدا پر نہیں؛ ان سب علاقوں کے کاغذ کا سہرا آٹھویں صدی کے آخر کے ایک شخص کے سر نہیں باندھا جا سکتا 2۔ فضل کی مقامی کہانی مادے کی پوری تاریخ سے محدود ہے: ایک عباسی شہر میں پیداواری ادارے کی تجویز 1۔

کہانی

ٹی ڈی وی میں ارسوئے بغداد کے کارخانے کو ہارون کے عہد میں رکھتے،178ھ/794–795ء بتاتے اور کہتے ہیں کہ خراسان کے برمکی والی فضل بن یحییٰ کی تجویز پر قائم ہوا 1۔ یہ تجویز اور منتقلی کا نامزد عمل ہے؛ ہارون کے عہد کی ہر چیز کو خلیفہ کی ذاتی ایجاد قرار دینا نہیں 1۔

ایرانیکا میں بلوم آٹھویں صدی کے آخر تک بغداد کی کاغذ سازی کو وسطی ایشیا سے ایران اور دوسرے اسلامی علاقوں میں پھیلاؤ کے اندر بیان کرتے ہیں 2۔ دونوں ماخذ عمومی سیاق پر ملتے ہیں، لیکن دوسری عبارت نہ فضل کا نام دیتی ہے نہ178ھ؛ اس اتفاق کو کارخانے کی ہر تفصیل کے دو الگ گواہ نہیں کہنا چاہیے 1 2۔

اس مضمون کے لیے کارخانے کی معاصر تاسیسی دستاویز یا حسابات نہیں پڑھے گئے؛ تجویز اور تاریخ متعین جدید ماخذ سے منقول ہیں، کسی ایسی دستاویز سے نہیں جسے میوزیم خود جانچنے کا دعویٰ کرے 1۔

بنانے والے

فضل عباسی منتظم، برامکہ کے یحییٰ بن خالد کے بیٹے اور ہارون کے رضاعی بھائی تھے؛ سوانح مشرقی ولایتوں اور امین کی تربیت کی ذمہ داری کا ذکر کرتی ہے 6۔ حقی دورسون یلدز خراسان میں ان کے کام، جن میں آب پاشی کی نہریں شامل تھیں، بغداد واپسی اور خاندان کے زوال سے پہلے انتظامی حیثیت میں تبدیلی بتاتے ہیں 6۔ اس سے وہ سانچے بنانے والے کاریگر نہیں ہو جاتے؛ یہاں ان کا کردار وہ تجویز کنندہ ہے جس سے صنعت کا قیام منسوب ہے 1۔

میوزیم کا سنی سیاق اور شناخت کی بنیاد: یلدز فضل کو802ء کے حج کے قافلے میں نام سے بتاتے اور رمضان میں مساجد کی روشنی سے جوڑتے ہیں؛ یہ مسلمان شناخت کی سوانحی شہادت ہے، نام، نسب یا منصب سے قیاس نہیں 7۔ ان کے ریکارڈ میں سنی عمومی سیاق اور دلیل کی حد واضح ہے، ذاتی فقہی مسلک کا فرضی اعلان نہیں؛ یلدز کے نقل کردہ خاندانی الزامات بھی اپنائے بغیر پیش ہیں 8۔

پڑھی عبارت بغداد میں عملی کام کرنے والے کاغذ سازوں کے نام نہیں دیتی؛ اس خلا کو فرضی قیدیوں یا کاریگروں کے ناموں سے نہیں بھرا گیا 1۔

یہ کیسے کام کرتا ہے

مشترک اصول فضل کے کارخانے کی مشینیں گھڑے بغیر سمجھایا جا سکتا ہے:

  1. ریشوں کی تیاری: نباتاتی مواد یا کپڑے اور رسیوں کا بچا ہوا مادہ استعمال ہو سکتا ہے؛ بلوم چیتھڑوں اور پرانی رسیوں کو صاف طور پر ریشوں کے ذرائع میں شمار کرتے ہیں 3۔
  2. گیلے مادے کو توڑنا: اسے پانی کے ساتھ کوٹا یا پیسا جاتا ہے تاکہ ریشے پانی میں معلق ہو سکیں، کپڑا یا رسی اپنی پہلی صورت میں نہ رہے 3۔
  3. ورق بنانا: معلق مواد جالی پر جمع کر کے اتارا اور خشک کیا جاتا ہے؛ یہ ریشوں کی نئی تشکیل ہے، پپائرس کی آڑی ترچھی پٹیاں جوڑنا نہیں 3 4۔
  4. لکھنے کی سطح تیار کرنا: بلوم ایران میں نشاستے کی آہاربندی اور صیقل کا ذکر کرتے ہیں؛ ارسوئے سیاہی پھیلنے کو کم کرنے اور خطاطی کے لیے سطح بنانے کی تیاری سمجھاتے ہیں 3 9۔

ارسوئے چیتھڑوں اور رسیوں کو چونے کے پانی میں بھگونے، کوٹنے اور صنعت کی بعد کی تاریخ میں پانی سے چلنے والے پتھروں کا ذکر کرتے ہیں؛ یہ بغداد کے کارخانے کی ترتیب ثابت نہیں کرتا 10۔ لہٰذا صرف لفظ «کارخانہ» سے پانی کی کاغذی چکی یا کسی خاص پہیے کی اولین ایجاد اخذ نہیں ہوتی؛ بیان ترقی کرتے ہنر کا ہے، معلوم پرزوں والی ثابت بغدادی مشین کا نہیں 11۔

پھیلاؤ

بلوم آٹھویں صدی کے آخر تک بغداد اور نویں صدی کے آخر تک مصر میں پیداوار، جبکہ دسویں صدی کے آخر تک جزیرہ نمائے آئبیریا میں استعمال بتاتے ہیں؛ یہ مختلف افعال ہیں، «استعمال» ہر جگہ کارخانہ ثابت نہیں کرتا 2۔ ارسوئے دمشق، طرابلس، حماہ، یمن اور مصر کے بعد کے مراکز اور بارہویں صدی میں ادریسی کی بیان کردہ شاطبہ کی صنعت گنواتے ہیں 12۔

نام اور تاریخیں پھیلاؤ دکھاتے ہیں، یہ نہیں کہ ہر کارگاہ کو فضل کے ادارے سے براہ راست کاریگر یا سانچے ملے 12 2۔ طلاس سے بغداد تک قیدیوں کا راستہ بھی نامزد افراد کا ثابت سفر بنا کر نہیں کھینچا گیا؛ مقبول انتقالی کہانی کے اسی مقام پر بلوم اعتراض کرتے ہیں 2۔

اس کی بنیاد کیا تھی

پہلی بنیاد چینی کاغذ سازی ہے، جبکہ بغداد کا قریبی پس منظر وسطی ایشیا، جس میں سمرقند شامل ہے، کے کاغذ اور ہنر کی گردش ہے؛ ایسا مادی خلا نہیں جسے ایک عباسی کارخانے نے اچانک پُر کیا 2۔ بلوم حدود العالم سے سمرقند کی ایک مانوی جماعت کے برآمدی کاغذ بنانے کا بیان نقل کرتے ہیں؛ یہاں یہ ان کے مضمون کے ذریعے ہے، اصل کتاب کی وہ اشاعت نہیں جو اس مضمون کے لیے پڑھی گئی ہو 13۔

پہلی جماعتیں اور ہنر جہاں ماخذ نام دیتا ہے وہیں نام کے ساتھ رہتے ہیں؛ غیر مسلموں کا حصہ سلسلہ آسان دکھانے کے لیے مٹایا نہیں جاتا 14۔ دوسری طرف ان کا ذکر خود بخود بغداد کے کاریگروں سے براہ راست تعلق ثابت نہیں کرتا؛ یہ پڑھی عبارت کی شہادت سے زیادہ دعویٰ ہوگا 1۔

اس پر کیا بنایا گیا

کاغذ کے وسیع استعمال نے نقل، انتظام اور صفحے کی تیاری کو سہارا دیا، مگر ریکارڈ سے کتاب کی طرف پیش رفت بلوم کے ہاں تدریجی ہے 5۔ وہ361ھ/971–972ء کے کاغذی مصحف اور بعد کی ایرانی کتابوں اور نسخوں کا ذکر کرتے ہیں؛ بعد کا باقی شاہد ہر جگہ کا پہلا استعمال نہیں، نہ خود بخود فضل کے کارخانے کی پیداوار 5۔

ارسوئے الفہرست سے جعفری، طلحی اور طاہری سمیت کاغذ کی قسمیں نقل کرتے ہیں؛ کسی شخص کے نام پر قسم ہونا اس کے مادہ یا ہر تیاری مرحلے کی ایجاد ثابت نہیں کرتا 15۔ آہاربندی، صیقل، خطاطی اور تذہیب کہانی کو استعمال و تیاری کی شاخوں میں بڑھاتے ہیں، بغداد سے ہر بعد کے صفحے تک چلنے والا ایک پیٹنٹ نہیں 9۔

روزمرہ زندگی پر اثر

بلوم کے بیان میں نمایاں فرق ریکارڈ اور پھر کتابوں کے لیے کاغذ اپنانا ہے؛ مواد کاتب کے کام اور کتاب کی تیاری کی تاریخ کے اندر آتا ہے 5۔ ارسوئے اس کی فراوانی اور پھیلاؤ کو علمی و ثقافتی مراکز کی ترقی سے جوڑتے اور سمرقند کی مثال دیتے ہیں 12۔

استعمال کتاب سے باہر بھی تھا: ارسوئے ناصر خسرو سے مصر میں سامان لپیٹنے کے مواد میں کاغذ کا ذکر نقل کرتے ہیں، مختلف استعمال اور کافی پیداوار کی نشانی کے طور پر 16۔ اس سے794ء کی بغداد قیمت یا خواندگی کی شرح نہیں ملتی؛ دوسرے زمانے کی پیکنگ کی مثال کو پہلے کارخانے کا اقتصادی شمار نہیں بنایا جا سکتا 17۔

اس نے تاریخ کو کیسے بدلا

یہ کہانی علم کا مادی رخ دکھاتی ہے: ریشے اور سطح تیار کرنے کے طریقے متون کے ساتھ سفر کرتے ہیں، اور بلوم کاغذ کے پھیلاؤ کو ابھرتی اسلامی تہذیب کے لیے اہم تبدیلی قرار دیتے ہیں 2۔ مگر یہ ایک ہی سبب کی کہانی نہیں؛ پڑھے ماخذ ہر ترجمے کی تحریک، کتب خانے یا علم کو فضل کی تجویز سے شروع نہیں کرتے 1 2۔

بغداد کا یہاں خاص مقام ہے: باہر سے آنے والے مادے کی مقامی پیداوار، ایک موسوعی بیان میں نامزد تجویز کنندہ اور عمومی زمانی سیاق کی الگ تائید 1 2۔ یہ حصہ ناقل کو دنیا بھر کے کاغذ کا موجد بنائے بغیر بیان ہو سکتا ہے 2۔

اسے حقیقتاً کس نے ایجاد کیا؟

سنی ماخذ، ٹی ڈی وی کا بیان: ارسوئے ابتدا چین میں رکھتے، وسطی ایشیا کے انتقالی بیانات میں طلاس سے وابستہ قیدیوں کی خبر بھی پیش کرتے اور بغداد کی تجویز فضل سے منسوب کرتے ہیں؛ یہ تاریخی بیان کی مختلف سطحیں ہیں، کارخانے کی معاصر گواہی نہیں 18۔

علمی رائے، جوناتھن بلوم: بلوم طلاس کے قیدیوں کی کہانی پر تنقید کرتے ہیں؛ اس کے دیر سے روایت ہونے، وسطی ایشیا کی اسلام سے پہلے کاغذ سے واقفیت اور اس خاص انتقال میں چینی کاغذ سازوں کی ضرورت ثابت کرنے والی تاریخی شہادت کی عدم موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں 2۔ وہ ساسانیوں کے چینی کاغذ کے استعمال کے دہرائے دعووں کے لیے بھی مضبوط ثبوت نہیں پاتے، جبکہ ارسوئے استعمال بیان کرتے ہیں؛ فرق چھپا کر دونوں کو ایک یقینی کہانی میں نہیں ملایا گیا 2 19۔

لہٰذا ریکارڈ متعین نسبت کے ساتھ بغداد میں مقامی منتقلی کا ہے، ہر پہلے قصے کی قطعیت یا ایسے شخص کی عالمی اولینیت کا نہیں جسے ماخذ کاغذ کا موجد نہیں کہتے 1 2۔

آج

پانی سے جمع اور خشک کیے گئے ریشوں کے ورق کی تعریف مواد اور تیاری کے فرق کے باوجود کاغذ سمجھنے میں مفید ہے 3۔ یہ تصویر انریک نے2018ء میں کونیگل کے میروس میں شہتوت کی چھال تیار کرتے ہوئے لی؛ یہ جدید ہنری سیاق ہے، عباسی کارخانے کی تصویر یا اس میں چیتھڑوں کے بجائے شہتوت کے استعمال کا ثبوت نہیں 20۔

مصور، جگہ، تاریخ اور اجازت نامہ وسیط کے ریکارڈ میں درج ہیں؛ تصویر سے ان کاریگروں کا مذہب یا بغداد کے کاریگروں کی شناخت اخذ نہیں کی جاتی 20۔

باقی ماندہ شواہد

یہاں تجویز کی نسبت کی فوری شہادت جدید موسوعی متن ہے؛ پڑھے ماخذوں میں فضل کے کارخانے کی باقی عمارت یا اوزار متعین نہیں ہوئے 1۔ بلوم ایران میں ابتدائی اسلامی کاغذ سازی اور استعمال کے براہ راست شواہد کی کمی بیان کرتے، نازک نامیاتی مواد کے لیے ناموافق تحفظی حالات کا بھی ذکر کرتے ہیں 5۔

ان کے بتائے مؤرخہ اوراق اور کتابیں خاص جگہوں اور زمانوں میں استعمال دکھاتی ہیں؛ صرف باقی رہنے سے وہ بغداد کے اس ادارے کی یقینی پیداوار نہیں بنتیں 5۔

ثقافت میں

ارسوئے کاغذ کو خطاطی، تذہیب، جلد سازی اور دوسرے فنون سے جوڑتے ہیں؛ اس کی تیاری سیاہی اور آرائش وصول کرنے والی سطح کو شکل دیتی ہے 9۔ بلوم ایرانی روایت میں ہموار صیقل شدہ کاغذ پر رواں نستعلیق کا ذکر کرتے ہیں؛ یہ بعد کا فنی استعمال ہے، آٹھویں صدی کی کارگاہ سے بعد میں منسوب کی گئی آرائش نہیں 3۔

صفحے پر مواد اور محنت ملتے ہیں: پہلے ریشوں اور سطح کی تیاری، پھر کاتب یا خطاط کا استعمال؛ ماخذ نامعلوم کاریگروں کے نام گھڑے بغیر کتابی ثقافت کا یہ مادی رخ دکھاتے ہیں 21 9۔

بچوں کے لیے

پرانی رسی سوچیں: جب تک رسی ہے اس کے دھاگوں پر ایک مشترک صفحے کی طرح نہیں لکھ سکتے؛ کاغذ سازی پانی میں ریشے الگ کر کے نئی سطح میں جمع اور خشک کرتی ہے 3۔ اس لیے ورق صرف چپٹی درخت کی چھال نہیں، اگرچہ بعض ریشے چھال سے آ سکتے ہیں 3۔

«یہ کس نے بنایا؟» کے ساتھ ایک سوال اور کریں: پہلا کاغذ، یا ایک شہر میں ہنر لانا؟ یہاں پرانی ابتدا چینی ہے اور فضل کی کہانی بغداد کی پیداوار قائم کرنے کی تجویز؛ سوال کا فرق اس شخص کو کئی صدیاں پہلے شروع ہونے والے ہنر کا موجد کہنے سے بچاتا ہے 2 1۔

مراجع

  • عثمان ارسوئے، «KÂĞIT»، ٹی ڈی وی24،2001ء، ص163–166؛ مواد، تیاری، پھیلاؤ، بغداد اور سطح کی تیاری 22۔
  • جوناتھن ایم بلوم، «PAPER i»، ایرانیکا،2017ء، تازہ کاری2018ء؛ تعریف، ابتدائی تاریخ، مخطوطے اور کاغذی پیشے 23۔
  • حقی دورسون یلدز، «BERMEKÎLER»، ٹی ڈی وی5،1992ء، ص517–520؛ فضل کی سوانح، حج اور نقل کردہ الزامات 24۔
  • انریک، میروس کارگاہ کی تصویر،5 اپریل2018ء؛ کومنز کے اصل کوائف اور CC BY-SA4.0 اجازت نامہ 25۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Transmitted by
فضل بن یحییٰ برمکی

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

هلاك جعفر والبرامكة· البرامكة· يحيى بن خالد البرمكي· فضل بن یحییٰ برمکی

ماخذ

  1. کاغذ — عثمان ارسوئے، ٹی ڈی وی , Baghdad paragraph
  2. طباعت سے پہلے کاغذ — جوناتھن بلوم، ایرانیکا , early history
  3. طباعت سے پہلے کاغذ — جوناتھن بلوم، ایرانیکا , opening definition
  4. کاغذ — عثمان ارسوئے، ٹی ڈی وی , opening materials
  5. طباعت سے پہلے کاغذ — جوناتھن بلوم، ایرانیکا , early manuscripts
  6. برامکہ — حقی دورسون یلدز، ٹی ڈی وی , al-Fadl career
  7. برامکہ — حقی دورسون یلدز، ٹی ڈی وی , pilgrimage and mosque lighting
  8. برامکہ — حقی دورسون یلدز، ٹی ڈی وی , allegations discussion
  9. کاغذ — عثمان ارسوئے، ٹی ڈی وی , sizing and burnishing
  10. کاغذ — عثمان ارسوئے، ٹی ڈی وی , manufacture discussion
  11. کاغذ — عثمان ارسوئے، ٹی ڈی وی , manufacture discussion and Baghdad paragraph
  12. کاغذ — عثمان ارسوئے، ٹی ڈی وی , diffusion discussion
  13. طباعت سے پہلے کاغذ — جوناتھن بلوم، ایرانیکا , medieval paper professions
  14. طباعت سے پہلے کاغذ — جوناتھن بلوم، ایرانیکا , early history and medieval paper professions
  15. کاغذ — عثمان ارسوئے، ٹی ڈی وی , paper types paragraph
  16. کاغذ — عثمان ارسوئے، ٹی ڈی وی , Nasir Khusraw paragraph
  17. کاغذ — عثمان ارسوئے، ٹی ڈی وی , Baghdad and Nasir Khusraw paragraphs
  18. کاغذ — عثمان ارسوئے، ٹی ڈی وی , origins and Baghdad paragraphs
  19. کاغذ — عثمان ارسوئے، ٹی ڈی وی , pre-Islamic diffusion
  20. کونیگل میں چھال کی تیاری کی تصویر کے کوائف — انریک , file metadata
  21. طباعت سے پہلے کاغذ — جوناتھن بلوم، ایرانیکا , opening definition and early manuscripts
  22. کاغذ — عثمان ارسوئے، ٹی ڈی وی
  23. طباعت سے پہلے کاغذ — جوناتھن بلوم، ایرانیکا
  24. برامکہ — حقی دورسون یلدز، ٹی ڈی وی
  25. کونیگل میں چھال کی تیاری کی تصویر کے کوائف — انریک
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “بغداد میں کاغذ سازی کا قیام”. islam.museum، https://islam.museum/ur/invention/baghdad-papermaking/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-05.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

هلاك جعفر والبرامكة

In the year 187 al-Tabari reports that the reason for the downfall of Ja'far and the Barmakids was that al-Rashid could not endure being apart from Ja'far or from his sister Abbasa, daughter of al-Mahdi. According to al-Mas'udi, he sent his servant Yasir, who took Ja'far's head on Saturday night and then killed him himself, since he could not bear to look at Ja'far's killer. The span of their rule, from Harun's accession to the killing of Ja'far, was seventeen years, seven months and fifteen days. On the morning after that night, a writing was found at the gate of the palace of Ali ibn Isa ibn Mahan in Khurasan: 'The poor Barmakids, on whom the vicissitudes of time have poured; for us there is a lesson in their affair, so let the resident of this palace take heed.' Ashja' al-Sulami, Salm al-Khasir, Salih al-A'rabi, Abu Hazra, Mansur al-Nimri and Di'bil al-Khuza'i composed elegies for them. After their disgrace, al-Rashid used to recite: 'Its humiliation when it falls is as great as the height of rank it reached, and when wings show on the ant until it flies, its ruin is near'.