ایک نظر میں
- دور
- العصر العباسي المبكر
- خطہ
- levant-iraq

مختصر حقائق
- شعبہ
- ریاضی اور حساب
- قسم
- طریقہ
- پہلا ثبوت
- تقریباً 800 (تقریباً) عیسوی
- دور
- عباسی دور
- مقام
- بغداد
- نسبت
- اصل
کس نے بنایا
- کندی بیان کرنے والا
نسبت اور اس کی بنیاد
ٹی ڈی وی کے مطابق حروفی رمز کشائی کا قدیم ترین باقی بیان؛ باقی متن کی اولینیت، ہر پہلے عمل کا ثبوت نہیں۔
اصل متن گنتی اور حدیں دکھاتا ہے؛ ٹی ڈی وی پرانے اخفا اور باقی رسالے کو الگ کرتا ہے۔ مصنف کی اختلافی نسبت پیش ہے، فیصلہ نہیں۔
ماخذ: کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء · معمى — اسماعیل دورموش، ٹی ڈی وی · کندی — محمود کایا، ٹی ڈی وی
اس سے پہلے
- پہلے اخفا کے طریقے اور خلیل سے منسوب کتاب المعمى
اس پر جو بنا
- ابن عدلان، ابن دریہِم اور ابن دنینیر کے رسالے
یہ کیسے کام کرتی ہے
خلاصہ
پوشیدہ پیغام میں حروف کے نام بدل سکتے ہیں، مگر ان کی تکرار سراغ رہ سکتی ہے۔ کندی معلوم زبان کے نمونے میں حروف گننے، کثرت کے لحاظ سے ترتیب دینے اور معمى کی علامتوں سے مقابلہ کرنے کا طریقہ بیان کرتے ہیں۔ عدد آخری فیصلہ نہیں: مختصر پیغام عام استعمال سے مختلف ہو سکتا ہے اور اندازے کو حروف کے جوڑ اور سیاق سے جانچنا پڑتا ہے 1۔ ٹی ڈی وی ان کا رسالہ پیغام چھپانے اور کھولنے کے میدان کا قدیم ترین باقی رسالہ کہتا ہے، اخفا کو ان سے پرانا بھی مانتا ہے 2۔ یہاں موضوع یہی تحریری طریقہ ہے، راز داری کی ایجاد یا ہر رمز کھولنے کی فرضی صلاحیت نہیں۔
یہ کیا ہے
«استخراج المعمى» سے مراد تحریر میں پوشیدہ بات نکالنا ہے، جبکہ «تعمیہ» پیغام کو اس شخص کے لیے غیر واضح بناتا ہے جو طریقہ نہ جانتا ہو۔ ٹی ڈی وی اس علمی استعمال کو شعر میں نام چھپانے والے ادبی معما سے الگ کرتا ہے 2۔ تکرار سے مراد کسی متنی مجموعے میں حرف کے آنے کی تعداد ہے، حساب جمل کی عددی قیمت یا حروف تہجی کی جگہ نہیں۔
کندی عددی اور کیفی قرینے ملاتے ہیں: شکل کتنی بار آئی، کون سے حروف اس سے پہلے یا بعد آ سکتے ہیں، اور حاصل قرأت باقی پیغام سے میل کھاتی ہے یا نہیں؟ 1۔ یہ دھاتی مشین یا صرف یاد کیا ہوا رمزی جدول نہیں، سمجھانے اور دوبارہ جانچنے کے قابل طریقہ ہے۔ قاری دیکھ سکتا ہے کہ اندازہ کہاں شروع ہوا، کس دلیل سے مضبوط ہوا اور کہاں بدلنا چاہیے۔
اس سے پہلے کی دنیا
کلام چھپانے کی کہانی کندی سے شروع نہیں ہوتی۔ ٹی ڈی وی پرانی روایات کا ذکر اور خلیل بن احمد سے «کتاب المعمى» کی نسبت نقل کرتا ہے، پھر بعد کے مصنفین گنواتا ہے 2۔ اس پہلے کتاب کا متن یہاں نہیں پڑھا گیا؛ ماخذ میں ناموں کی ترتیب سے کسی خاص طریقے کی منتقلی ثابت نہیں کی جاتی۔
کندی کا اپنا مقدمہ کہتا ہے کہ پہلے اہل فلسفہ اور اصحاب رائے نے ایسی علامتوں میں کتابیں لکھیں جنہیں ہر قاری نہ سمجھتا تھا، اور استخراج سیکھنا ان کے فہم میں مدد دیتا ہے 3۔ یوں سیاق صرف میدان جنگ نہیں: پوشیدہ تحریر علم یا خط و کتابت لے جا سکتی تھی۔ پڑھے آغاز میں دشمن کا کوئی پکڑا ہوا خط یا جاسوسی کامیابی مذکور نہیں جسے قصہ دل چسپ بنانے کے لیے گھڑ لیا جائے۔
کہانی
رسالہ کندی کے عباسی ماحول کا ہے؛ سوانح دربار سے تعلق اور بغداد میں علمی کام بیان کرتی ہے 4۔ آغاز ابو العباس کو مخاطب کر کے معمى کتابوں کے فہم کا آسان طریقہ لکھنے کی درخواست کا جواب دیتا ہے 3۔ میوزیم مخاطب کا نام اسی طرح محفوظ رکھتا ہے؛ جدید حاشیے میں اس کی شناخت مصنف کا تاریخ دار دستخط نہیں۔
اسی لیے اندراج نویں صدی عیسوی لیتا ہے، جدید طباعت کی تاریخ یا کسی ممکنہ خلیفے کے عہد سے ایجاد کا قطعی سال نہیں بناتا۔ پڑھا متن «علم التعمية واستخراج المعمى عند العرب» کی پہلی جلد میں ہے، جس کی دمشق 1987ء کی طباعت ٹی ڈی وی بتاتا ہے 5۔ تصنیف، مخطوطے کی نقل اور جدید تدوین الگ تاریخیں اور الگ تاریخی سوال ہیں۔
بنانے والے
متن کندی کو مصنف کہتا ہے اور ٹی ڈی وی نسبت اور اس قسم کے قدیم ترین باقی رسالے کی حیثیت کی تصدیق کرتا ہے 6 2۔ اندراج میں کردار طریقے کے «بیان کنندہ» کا ہے۔ اس سے ناسخ یا جدید محقق موجد نہیں بن جاتا، نہ ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی ہر ممکن معرفت کبھی موجود ہی نہ تھی۔
نسبت شخصی صفحے پر واضح ہے۔ محمود کایا کندی کے دفاع اسلام کا ذکر کرتے اور معتزلہ سے مشترک سوالات کو وابستگی کی کافی دلیل نہیں مانتے؛ ساتھ والزر اور ڈی بور کی مختلف درجہ بندیاں نقل کر کے ان پر اعتراض کرتے ہیں 7۔ میوزیم اختلاف ظاہر رکھتے ہوئے اپنا سنی سیاق لیتا ہے، اسے خاص مکتب کا ذاتی اعلان نہیں کہتا۔ مخالف آرا کایا کے بیان سے ہیں، ان محققین کی اصل کتابوں کے مطالعے سے نہیں۔
یہ کیسے کام کرتا ہے
پہلا قدم پیغام کی زبان جاننا ہے۔ متن اسی زبان کے تقریباً ایک پوست یا اس کے آس پاس کے نمونے میں ہر قسم کے حرف کو گننے اور زیادہ سے کم کی ترتیب بنانے کو کہتا ہے 8۔ دنیا کی ہر زبان کا ایک عربی جدول سے مقابلہ نہیں، بلکہ معلوم استعمال اور اسی زبان کے پوشیدہ پیغام کا مقابلہ ہے۔
پھر معمى کی شکلوں کو الگ کر کے ہر ایک کی تعداد گنی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ آنے والی شکل نمونے کے پہلے حرف، اگلی دوسرے اور اسی طرح آگے سے ملائی جاتی ہے 8۔ ظاہری شکل بدلنا لازماً متن کے لسانی نظم کو نہیں مٹاتا۔ یہاں عدد محض اجنبی شکل کو دیکھنے سے آگے ایک قرینہ بن جاتا ہے۔
لیکن مصنف فوراً مختصر پیغام کی حد بتاتے ہیں: اس میں تمام حروف نہ ہوں، یا کسی جگہ ایک حرف غیر معمولی کثرت سے آئے؛ طویل کلام میں دوسری جگہ کی کمی اسے متوازن کر سکتی ہے 8۔ یہ الفاظ کی کسی خاص کم از کم تعداد کی ضمانت نہیں۔ تقریبی نمونہ ہر پیغام کی کامیابی کا مقرر امتحان نہیں بن جاتا۔
اس کے بعد کیفی جانچ ہے۔ دو حروف کا اندازہ ہو تو دیکھیں زبان میں وہ مل سکتے ہیں یا نہیں؛ ان کے پڑوسی اور پیغام کی دوسری جگہیں بھی پرکھیں۔ دوسرے مقامات سے تضاد ملے تو محض مناسب عددی مرتبے کی وجہ سے شناخت قطعی نہ مانیں 9۔ «من»، «عن» اور «لم» جیسے مختصر عربی جوڑ مزید سراغ دیتے ہیں 10۔
خطوط کے معروف آغاز مدد دے سکتے ہیں، مگر زیادہ مضبوط دلیل کو نہیں بدلتے: آغاز پر مبنی اندازہ مخالف ہو تو چھوڑ دیں، موافق ہو تو تصدیق بڑھے گی 11۔ شعر کے لیے قافیہ، حروف کی گنتی اور وزن بھی ہیں؛ ممکنہ حروف کو تفاعیل پر جانچ کر معنی سے ملایا جاتا ہے 12۔ یہ مسلسل جانچ اور اصلاح ہے، ہر بار درست عبارت نکالنے والا جادوئی بٹن نہیں۔
پھیلاؤ
ٹی ڈی وی ابن عدلان، ابن دریہِم، ابن دنینیر اور دوسرے مصنفین کے کام گنواتا اور دفاتر کے بڑھنے کے ساتھ سرکاری خط و کتابت کو اخفا اور حل کی ضرورت سے جوڑتا ہے 2۔ یہ ایک رسالے سے بڑے تصنیفی اور تعلیمی میدان کی شہادت ہے، کندی کا ہر قدم برتنے والے اہل کاروں کی مردم شماری نہیں۔
دمشق کی طباعت حروف کے اعداد درست کرتے ہوئے بعد کے رسالوں سے مقابلہ کرتی ہے؛ اس سے متنی روایت اور مطالعے کی شکلیں دیکھی جا سکتی ہیں 13۔ صفحہ بغداد سے ہر یورپی دارالحکومت تک تیر نہیں کھینچتا۔ پڑھے مآخذ یہاں کوئی مترجم، نقل یا اقتباس کا مسلسل راستہ متعین نہیں کرتے۔
اس کی بنیاد کیا تھی
طریقے کی بنیاد زبان کی خصوصیات ہیں: حروف کی تکرار، ممکنہ جوڑ اور نثر، شعر، بولنے اور لکھنے کا فرق 14۔ عربی کے بعض حروف کی کثرت سمجھاتے ہوئے متن ادا ہونے والی آواز اور عام خط میں الگ نہ لکھی جانے والی مختصر حرکت میں فرق کرتا ہے 15۔ گنی جانے والی چیز ایک نظام کتابت کا نشان ہے، انسان کے منہ سے نکلی ہر آواز نہیں۔
رسالہ تعمیہ کو سادہ اور مرکب اقسام میں بھی بانٹتا ہے: شکلوں کا بدل، جگہوں کی تبدیلی، بے حرف زائد نشان اور ایک سے زیادہ عمل کا مجموعہ زیر بحث ہیں 16۔ ان سب کو ایک حرف کے ایک بدل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہی تنوع بتاتا ہے کہ ایک عمل عام کرنے سے پہلے اخفا کی قسم پہچاننا کیوں ضروری ہے۔
اس پر کیا بنایا گیا
رسالہ «علم التعمية» کے محققین کے مطالعہ کردہ ذخیرے میں ابن عدلان، ابن دریہِم اور دوسرے متون کے ساتھ آیا، جیسا جلد کا عنوان اور ٹی ڈی وی کی کتابیات دکھاتے ہیں 17 5۔ یہ تدوین اور علمی تاریخ کا ثابت تعلق ہے، ہر بعد کے مصنف کے ہر قول کا کندی سے لیا جانا نہیں۔
متن توسیع کی جگہ بھی چھوڑتا ہے: مرکب تعمیہ پر مختصر بات کر کے سادہ اقسام کی معرفت کافی سمجھتا ہے، جبکہ حاشیہ اس کمی پر ابن دنینیر کا اعتراض نقل کرتا ہے 18۔ ایجاد کو بعد والوں کے محسوس کردہ نقص کے ساتھ پڑھنا، قدامت کو فن کی ہر شاخ کا کمال بنا دینے سے زیادہ درست ہے۔
روزمرہ زندگی پر اثر
ٹی ڈی وی فن کو دفتری مراسلت سے جوڑتا، پھر جدید دور میں اخفا اور حل کے علوم کا سفارت، تجارت اور کمپیوٹر تک پھیلاؤ بیان کرتا ہے 2۔ دونوں سیاقوں کے فاصلے کو ہر جدید عمل ایک کتاب کے نام کر کے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں براہ راست نکتہ یہ ہے کہ کام کی تحریری زبان منظم جانچ کا موضوع بن سکتی ہے۔
قاری دیکھتا ہے کہ علامتوں کے نام بدل دینے سے ہر نشان نہیں مٹتا؛ تعلقات پیغام کا کچھ حصہ ظاہر کر سکتے ہیں 1۔ یہ صفحہ آج کے ڈیٹا کی حفاظت کا مشورہ یا اسے توڑنے کا وعدہ نہیں۔ حل شدہ خطوط کی تعداد، مالی بچت یا جنگ کا نتیجہ نہیں دیا گیا، کیونکہ استعمال شدہ مطالعات یہ مقداریں ثابت نہیں کرتے۔
اس نے تاریخ کو کیسے بدلا
رسالہ گنتی اور زبان کو ملاتا، کئی مقامات پر جانچ اور اختلاف پر اندازہ بدلنے کا طریقہ دکھاتا ہے 19۔ باقی شہادت کی اہمیت یہ ہے کہ کام کی منطق دیکھی جا سکتی ہے، صرف کسی کے معما حل کرنے کی کہانی نہیں ماننی پڑتی۔ ٹی ڈی وی مصنف کو اس میدان کی باقی تصنیف کے آغاز پر رکھتا ہے 2۔
بقا مطلق اولینیت نہیں: پہلے کا متن ضائع ہو سکتا ہے اور ماخذ خلیل سے منسوب کتاب بتاتا بھی ہے 2۔ اندراج اس خلا کو کسی تہذیب کی دوسری پر فتح سے نہیں بھرتا۔ سامنے کی شہادت بیان ہو سکتی ہے؛ ایک رسالہ باقی ہونے سے ہر گم شدہ علم کا انجام معلوم نہیں ہو جاتا۔
اسے حقیقتاً کس نے ایجاد کیا؟
اسلامی تاریخی مرجع: ٹی ڈی وی میں اسماعیل دورموش کندی سے استبدال اور جگہ بدلنے کا واضح فرق، حروف کی کثرت، جوڑ اور معروف آغاز کا تجزیہ منسوب کرتے اور رسالے کو قدیم ترین باقی کام کہتے ہیں 2۔ یہ متن سے ملانے کے قابل خاص نسبت ہے، پہلی بار معلومات چھپانے کا دعویٰ نہیں۔
اصل متن اور حدیں: اس میں گنتی، مقابلہ اور مختصر پیغام کی تنبیہ واقعی ہیں، مگر ایجاد کا قطعی دن یا تمام پہلے زمانوں میں خیال نہ ہونے کا ثبوت نہیں 20۔ شخص کی اختلافی نسبت اس کے صفحے پر نام زد قرأتوں میں ہے؛ اس سے ریاضیاتی عمل ثابت یا رد نہیں کیا جاتا۔
آج
محقق طباعت عربی طریقے کے ساتھ اضافے اور اصلاحیں دکھانے والے حواشی دیتی ہے۔ محققین واضح کرتے ہیں کہ مربع قوسین کے عنوان ان کے اپنے ہیں 21۔ قاری مصنف کی زبان اور بیسویں صدی کی تدوینی سہولتوں میں فرق کر سکتا ہے۔
صفحہ طریقے کو پڑھانے کے قابل تاریخی علم سمجھتا ہے، ہر نظام رمز کا جامع نسخہ نہیں۔ متن میں زبان، تعمیہ کی قسم، کافی مواد اور باہمی جانچ اس کی شرطیں ہیں 22۔ ساتھ کا خاکہ ویب سائٹ کا تعلقاتی سلسلہ ہے، کندی کے لکھے قابل اجرا منصوبے کی نقل نہیں۔
باقی ماندہ شواہد
بنیادی شہادت محقق عربی متن، تصاویر اور مخطوطے کے نوٹ ہیں۔ محققین بتاتے ہیں کہ اصل میں ایک مکرر عبارت کا مقابلہ اصلاح میں مددگار ہوا 23۔ دکھائی گئی کھلی تصویر رسالے کے آغاز کی مخطوطاتی تفصیل ہے، مصنف کا چہرہ یا عددی جدول نہیں۔ صرف اس فائل سے نقل کی نئی تاریخ یا مخزن کا نمبر قائم نہیں کیا گیا۔
مصنف سات ورق سے حروف کی گنتی دیتا ہے، مگر حواشی اعداد کی اصلاح اور تین غائب حروف کی نشان دہی کرتے ہیں 24۔ اسی لیے مثال اور نقص دونوں بیان ہیں؛ اعداد کو مکمل جدید پیمائش یا ہر لکھی عربی کے مستقل احتمال کے طور پر نہیں دہرایا گیا۔
ثقافت میں
«معمى» دو میدانوں کے لیے آتا ہے: پوشیدہ خط و کتابت، اور شعر میں نام چھپانے کا فن۔ ٹی ڈی وی فرق کرتا اور دوسرے کے لفظی سراغ اور طریقے بتاتا ہے 2۔ دونوں میں پوشیدہ معنی پانے کی خوشی ہو سکتی ہے، مگر شعر میں نام مل جانا خود بخود پیغام کا شماریاتی تجزیہ نہیں۔
کندی کا مقدمہ منفعت کو اجنبی علامتوں کے پیچھے معنی پانے میں رکھتا ہے، تصویری انفرادی بہادری کی کہانی میں نہیں 3۔ اسی لیے میوزیم خود تحریر دکھاتا ہے۔ مصنف علمی ماحول کا انسان ہے، جس کی نسبت مختلف پڑھی گئی اور متن کی حدیں ہیں، خیالی چہرہ یا دلیل کی جگہ لینے والی اساطیر نہیں۔
بچوں کے لیے
ایک کھیل سوچیں جس میں ہر حرف ایک نشان سے بدلتا، مگر حرف لوٹنے پر وہی نشان آتا ہے۔ پہلے پوچھیں: کون سا نشان زیادہ دیکھا؟ یہ کندی کی گنتی جیسا آغاز ہے؛ نیا تعلیمی کھیل ہے، تاریخی جدول کی مثال نہیں۔ یاد رہے، مختصر پیغام میں کوئی خاص لفظ بار بار آ کر دھوکا دے سکتا ہے۔
کندی مختصر متن سے خبردار کرتے اور حروف کے جوڑ اور پڑوسی جانچنے کو کہتے ہیں 1۔ سبق یہ ہے کہ سراغ آخری جواب نہیں: زیادہ دلیل جمع کریں اور جو میل نہ کھائے اسے دوبارہ سوچیں۔ یہ زبان اور گنتی کا کھیل ہے، دوسروں کے نجی پیغامات پڑھنے کی دعوت نہیں۔
مراجع
- کندی، «رسالة في استخراج المعمى»، ضمن «علم التعمية واستخراج المعمى عند العرب»، جلد 1، تحقیق محمد مرایاتی، یحییٰ میر علم اور محمد حسان طیان، دمشق 1987ء؛ پڑھی حدود ماخذ کے اندراج میں ہیں۔ 25
- اسماعیل دورموش، «MUAMMA»، پہلا حصہ، ٹی ڈی وی، جلد 30، صفحات 319–320۔ 26
- محمود کایا، «KİNDÎ, Ya‘kūb b. İshak»، اختلافی نسبت کا حصہ، ٹی ڈی وی، جلد 26۔ 27
تعلقات
- Described by
- کندی
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , pp. 216–218
- معمى — اسماعیل دورموش، ٹی ڈی وی , pp. 319–320
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , pp. 213–214
- کندی — محمود کایا، ٹی ڈی وی , biography
- معمى — اسماعیل دورموش، ٹی ڈی وی , bibliography
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , p. 213
- کندی — محمود کایا، ٹی ڈی وی , Mu'tezile section
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , p. 216
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , p. 217
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , pp. 217–218
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , p. 218
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , p. 219
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , p. 236
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , pp. 215–219, 237–241
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , pp. 236–237
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , pp. 220–226
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , title page
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , p. 224
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , pp. 216–219
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , pp. 213–219
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , p. 213 note
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , pp. 216–219, 225–226
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , p. 201
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء , pp. 235–236
- کندی کا رسالہ استخراج المعمى — علم التعمية، دمشق 1987ء
- معمى — اسماعیل دورموش، ٹی ڈی وی
- کندی — محمود کایا، ٹی ڈی وی
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “کندی کا حروف کی تکرار سے رمز کشائی کا طریقہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/invention/frequency-analysis-al-kindi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-05.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON