ایک نظر میں
- دور
- العصر النبوي · العصر الأموي · العصر العباسي المبكر · عصر تفكك الخلافة العباسية · عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة · الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · العصر المغولي وما بعده
- خطہ
- levant-iraq · andalus-europe · egypt-nile · persia-central-asia · anatolia-balkans · maghreb · south-asia
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
حاجب دربار کا وہ اہلکار تھا جو حاکم تک رسائی پر نگاہ رکھتا تھا۔ وہ عہدیداروں، وفود اور درخواست گزاروں کو حاکم کے سامنے لاتا اور تقریبات کا انتظام کرتا تھا۔ کئی ریاستوں میں یہ منصب اسے حکومت کے سب سے طاقتور لوگوں میں شامل کر دیتا تھا۔ اس کا مرتبہ ریاست کے ساتھ بدلتا رہا: عباسیوں کے ہاں وزیر سے کم، اندلس کے اموی دور میں وزیر سے زیادہ بااختیار، سامانیوں اور غزنویوں کے ہاں بڑا فوجی کمانڈر، اور مملوک ریاست میں تقریبات کا سربراہ جو کچھ مقدمات بھی سنتا تھا۔ 1
نام اور ابتدائی معنی
یہ لفظ فعل «حجب» سے ہے، یعنی روکنا یا آڑ کرنا۔ لغت میں حاجب وہ ہے جو کسی شخص کو کسی جگہ داخل ہونے سے روکے، یعنی دربان۔ 1
آغاز
مورخین اس منصب کی جڑ ساسانیوں تک لے جاتے ہیں۔ نظام الملک اسے ساسانی دور میں درج کرتے ہیں، اور ابن البلخی و راوندی اس کی اہمیت اردشیر بابکان سے منسوب کرتے ہیں۔ مدخل بتاتا ہے کہ یہ روایات دکھاتی ہیں کہ مسلمان مؤلفین چاہتے تھے کہ یہ منصب ساسانی دور سے شروع ہو۔ 1
مدخل کے مطابق ابن خلدون نے اسلام میں اس منصب کے ارتقا کے بارے میں جو لکھا وہ تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، اور وہ تاریخ سے زیادہ نظری بیان ہے۔ 1
کہا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کچھ ذاتی معاملات میں مصروف ہوتے تو ایک دربان مقرر رکھتے، اور باقی وقت لوگوں اور اپنے درمیان پردہ اٹھا دیتے۔ ابن عبد ربہ نبی کریم کے ایک دربان ابو انسہ کا ذکر کرتے ہیں۔ بعد کے مؤلفین ابوبکر اور ان کے بعد کے خلفا کے حاجب بیان کرتے ہیں: ابوبکر کے شدید، عمر کے یرفأ، عثمان کے حمران اور علی کے قنبر رضی اللہ عنہ۔ مدخل انہیں وہی بیان کرتا ہے جو مؤلفین نقل کرتے ہیں۔ 1
اموی
یہ منصب اموی دور میں اس وقت نمودار ہوا جب دربار کی زندگی بازنطینی اور ساسانی صورت اختیار کر رہی تھی۔ مدخل یہ طے نہیں کرتا کہ اسے معاویہ (661–680) نے قائم کیا یا عبدالملک (685–705) نے، اور اس دور میں اس کے وزن کے بارے میں کم معلومات ہیں۔ حاجب تقریبات کا انتظام کرتا اور لوگوں کو حاکم کے پاس لاتا تھا، اور غالباً وہ کاتبِ اعلیٰ کے قریب مرتبے پر ہوتا تھا۔ 1
عباسی
عباسی دربار میں حاجب اور وزیر دو سب سے نمایاں شخصیات تھے، مگر حاجب کا مرتبہ وزیر سے کم تھا۔ ربیع بن یونس، جو منصور اور مہدی کے حاجب تھے، نے یعقوب بن داود کو وزیر بنوانے کے لیے ایک لاکھ دینار رشوت لی۔ 1
تیسری صدی ہجری سے حاجب اور وزیر اقتدار کے لیے مقابلہ کرنے لگے۔ متوکل کے حاجب ایناک ترکی وزیر کو ہٹائے جانے کے بعد انتظامیہ کی سب سے اونچی سطح پر آ گئے۔ اس صدی کے آخر تک حاجب کا اختیار کمزور ہو گیا اور وزیر اپنے کاتبوں کے ساتھ انتظام پر قابض ہو گیا۔ سنہ 296ھ (908ء) میں حاجب سوسن نے مقتدر کے خلاف بغاوت کی کوشش کی۔ 1
معتضد کے پچیس حاجب تھے، جن میں سے زیادہ تر اس کے والد کے آزاد کردہ غلام تھے، اور ہر ایک کے نائب تھے جن کی تعداد پانچ سو تک پہنچ گئی۔ مقتدر کے دور میں محل میں سات سو حاجب تھے۔ سنہ 940ء میں حاجب الحجاب (تمام حاجبوں کا سربراہ) کا منصب قائم ہوا۔ جب ابن رائق نے سنہ 936ء میں امیر الامراء کا لقب اختیار کیا تو حاجب کا لقب بدل کر حاجب الحجاب کر دیا گیا۔ 1
اندلس اور اس کے بعد کی ریاستیں
اندلس کی اموی ریاست میں حاجب مشرق کی نسبت زیادہ بااختیار تھا۔ وہ شہری انتظامیہ کا سربراہ تھا، حاکم کے حکم سے اس کی نیابت کرتا تھا، اور کبھی «قریب ترین وزیر» بھی کہلاتا تھا۔ کچھ لوگ مختلف امیروں اور خلیفوں کے دور میں وزارت اور حجابت دونوں کے حامل رہے۔ حکم دوم نے سنہ 962ء میں جعفر بن عبدالرحمن الصقلبی کو حاجب مقرر کیا۔ ابن ابی عامر نے اپنے ولی عہد کو حاجب بنوایا، ریاست کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے، اور سنہ 981ء میں «منصور» کا لقب اختیار کر کے جمعہ کے خطبوں میں اپنا نام پڑھوایا۔ 1
اموی ریاست ٹوٹنے کے بعد چھوٹے بادشاہوں (ملوک الطوائف) نے حاجب کا لقب اختیار کیا، اور مدخل عباسی خلفا معتضد اور معتمد اور ان کے بیٹوں کو بھی اس لقب کے ساتھ درج کرتا ہے۔ فاطمیوں کے ہاں رئیسِ حجاب کو صاحب الباب یا حاجب الحجاب کہا جاتا تھا، اور اس کے ماتحت حاجب۔ 1
سامانی اور غزنوی
سامانیوں نے عباسی دربار اور انتظامیہ کا تقریباً مکمل نمونہ اپنایا۔ ان کے ہاں حاجب ایک اعلیٰ مرتبے کا امیر تھا، اور رئیسِ حجاب گھرانے کا سربراہ اور ایسی فوج کا کمانڈر انچیف تھا جو زیادہ تر ترک غلاموں پر مشتمل تھی۔ عبدالملک بن نوح کے دور میں رئیسِ حجاب الپ تگین حاکم کے بعد سب سے طاقتور شخص تھا اور جانشینی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا تھا۔ حاجب خود کو گورنر مقرر کر لیتے تھے۔ 1
غزنویوں کے ہاں حاجب ایک کمانڈر تھا، اور کبیر الحجاب فوج کی قیادت کرتا تھا۔ التونتاش، جس نے اپنا خاندان قائم کیا، فوج کے کمانڈر سے کبیر الحجاب کے مرتبے تک پہنچا۔ سلطان محمود کی وفات کے بعد علی کاریب کبیر الحجاب کے طور پر کام کرتا رہا۔ غزنی کے گورنر سبکتگین کے مقبرے پر «الحاجب الاجل» (سب سے بڑا حاجب) کے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ 1
سلجوقی اور قراخانی
عظیم سلجوقیوں کے ہاں امیر الحجاب کی اہمیت غزنویوں کی نسبت کم ہو گئی۔ حاجب دربار کا عہدیدار زیادہ اور کمانڈر کم بن گیا، اگرچہ حاجب سلطان کے ساتھ مہمات پر جاتے رہے۔ وہ سلطان کے زبانی احکام وزیر تک پہنچاتا تھا۔ حاجب دَرگاہ تقریبات میں درباریوں کے کھڑے ہونے اور حرکت کرنے کا انتظام کرتا تھا۔ 1
نظام الملک غلام کے مراتب بیان کرتے ہیں: آٹھ سال کی خدمت کے بعد وہ اوتاقباشی بنتا، پھر ہیل باشی اور حاجب، اور اس کے بعد ہی گورنری یا کمان تک پہنچتا۔ وہ کہتے ہیں کہ سب سے قابل غلام بھی پینتیس سال سے پہلے کمان نہیں پاتا تھا، اور شکایت کرتے ہیں کہ نظام بگڑ چکا ہے۔ 1
قراخانی ریاست میں حاجب حاکم اور رعایا کے درمیان کڑی تھا، اور درخواستیں اسی کے ذریعے گزرتی تھیں۔ یوسف خاص حاجب «قوتادغو بلیگ» میں کہتے ہیں کہ رئیسِ حجاب ایسا شخص ہونا چاہیے جس پر حاکم اور ملک اعتماد کر سکیں، جس کا نسب پاکیزہ اور اخلاق اچھے ہوں۔ حاجب درخواست گزاروں، خاص کر غریبوں، بیواؤں اور یتیموں سے ملتا، ان کی شکایت حاکم تک پہنچاتا، اور حق مانگنے والوں کی دیوانِ مظالم کی طرف رہنمائی کرتا۔ وہ قاصدوں کا استقبال اور ان کے تحائف کا انتظام بھی کرتا تھا۔ 1
آناطولیہ کے سلجوقیوں کے ہاں حاجب زکریا نے کیخسرو اول کی دوسری بار تخت نشینی میں بڑا کردار ادا کیا۔ ایلخانیوں کے حجاب فوجی طبقے سے تھے اور دربار میں خدمت کرتے تھے۔ 1
خوارزمشاہی
خوارزمی ریاست میں حاجب اپنے منصب کی علامت کے طور پر عصا رکھتے تھے۔ جلال الدین کے دور میں حاجبِ خاص مہمانوں کے استقبال کا انتظام کرتا، اس بات کا خیال رکھتا کہ ہر شخص پروٹوکول کے مطابق اپنی جگہ پر کھڑا ہو، قاصدوں کے لائے ہوئے تحائف حاکم کے لیے وصول کرتا، اور بعض اوقات خود سفیر بنا کر بھیجا جاتا تھا۔ جلال الدین پہلا حاکم تھا جس نے حاجبوں میں سے ایک کو وزیر مقرر کیا۔ 1
مملوک
مملوک ریاست میں پانچ حاجب تھے۔ ان میں سے دو حاجب الحجاب، یعنی رئیسِ حجاب کا لقب رکھتے تھے، اور باقی ان کے نائب تھے۔ ان کا بنیادی کام لوگوں اور وفود کو سلطان کے سامنے لانا تھا۔ بیبرس کے زمانے سے وہ سلطان یا نائب کے حکم پر تمام فوجی امور کی نگرانی کرنے لگا۔ وہ مصر میں آباد منگولوں اور ترکوں کے درمیان یاسا کے مطابق جھگڑے نمٹاتا تھا۔ الکامل شعبان کے زمانے سے وہ کچھ شہری مقدمات بھی سننے لگا، جن میں سے بعض قاضیوں کے دائرے میں آتے تھے۔ حاجبوں کے پاس اقطاع نہیں تھا، وہ عدالتی فیسوں پر گزارا کرتے تھے، اور ان کے فیصلے «حکم السیاسہ» کہلاتے تھے۔ یہ منصب سنہ 860ھ (1456ء) میں الاشرف اینال کے دور میں ختم کر دیا گیا۔ 1
مغرب اور ہندوستان
موحدین نے ریاست بڑھنے کے بعد یہ منصب قائم کیا، اور ابو یعقوب یوسف نے اپنے بھائی کو اس پر مقرر کیا، اور ناصر کے دور میں ایک ہی شخص حاجب اور وزیر دونوں تھا۔ حفصی حاجب ابن تفراگین نے اس منصب کو ریاست کا سب سے بااختیار عہدہ بنا دیا۔ ساتویں صدی ہجری کے آخر تک لقب باقی رہا مگر اختیار کم ہو گیا، اور اس کا حامل پروٹوکول کا سربراہ بن گیا۔ مرینیوں کا حاجب محل کا سربراہ اور وزیرِ خزانہ اور سلطان کا قریب ترین آدمی تھا۔ ابن خلدون ایک مرینی سلطان کے حاجب رہے۔ سعدیوں کے دور میں یہ منصب قائم رہا، اور بعد میں «المشوار» اور «قائد المشوار» کی اصطلاحات استعمال ہوئیں۔ 1
ہندوستان کی بعض ترک ریاستوں میں حاجب کی اہمیت برقرار رہی۔ خلجیوں کے حجاب پہلے امیر اور پھر ملک کہلائے۔ تغلقوں نے رئیسِ حجاب کو «سید الحجاب» کہا۔ تیموریوں، قرہ قویونلو، آق قویونلو اور صفویوں میں یہ منصب نہیں ملتا۔ 1
ابھی تک شامل نہیں
مدخل عثمانی حاجب، اس منصب کے جدید جانشینوں، اور اموی دور میں اس کے بانی کی تاریخ کو نہیں لیتا۔ مدخل میں مذکور دیگر حاجب جن کے اندراجات ابھی عجائب گھر میں نہیں، یہاں نہیں لکھے گئے۔ اس صفحے کے لیے مدخل کی کتابیات نہیں پڑھی گئیں۔
حوالہ جات
- ترکی اسلامی انسائیکلوپیڈیا (TDV)، مادہ «حاجب»، جلد 14، ایدن تانری، صفحات 508–511، استنبول 1996۔ 1
یہ پیشہ کس نے اختیار کیا
بغیر تاریخ کے
- ابن خلدون عارضی منصب The entry says Ibn Khaldun personally served as hajib to a Merinid sultan. It does not name the sultan or the dates.
- المنصور بن أبي عامر عارضی منصب The entry says Ibn Abi Amir had his son made hajib and gathered the powers of the office into his own hands, and that he took the title al-Mansur in 981. It does not record him holding the title of hajib in his own name.
حوالہ جات
- الحاجب — موسوعة TDV الإسلامية (أيدن تانري) , p.508-511
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “حاجب (درباری)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/job/hajib/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-02.