ایک نظر میں
- دور
- عصر الخلفاء الراشدين · عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة · الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث
- خطہ
- arabia · levant-iraq · egypt-nile · persia-central-asia · anatolia-balkans · south-asia
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
قاضی عسکر فوج کے جھگڑوں کا فیصلہ کرتا تھا۔ عثمانی ریاست میں یہ سب سے بڑے ججوں میں تھا، دیوانِ ہمایوں کا رکن تھا، اور علمی طبقے کے کچھ تقرر، معزولی اور تربیت کا ذمہ دار تھا۔ منصب صدرِ اسلام میں فوجی قاضی کی حیثیت سے شروع ہوا، عثمانی ریاست میں باقاعدہ ادارہ بنا، اور رومیلی اور اناطولیہ کے قاضی عسکر میں تقسیم ہوا۔ 1
آغاز
ماخذ کے مطابق عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے یہ ادارہ قائم کیا: انہوں نے ابو الدرداء کو شام میں لشکر کا قاضی مقرر کیا، اور قادسیہ میں عبد الرحمن بن ربیعہ کو قاضیِ لشکر بنایا۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مصر میں سلیمان بن عنز لشکر کے قاضی تھے۔ 1
عثمانی ادارہ
انسائیکلوپیڈیا کے مطابق عثمانیوں نے یہ منصب غالباً اناطولیہ کے سلجوقیوں سے لیا۔ اس کا باقاعدہ آغاز مراد اول کے ابتدائی دور میں 762 یا 763 ہجری (1361 یا 1362ء) کے لگ بھگ مانا جاتا ہے۔ پہلا منصب دار چندرلی قرہ خلیل تھا، جو بورصہ کے قاضی سے قاضی عسکر اور پھر وزیر بنے۔ 1
تقرر اور معزولی
صدرِ اعظم کی تجویز اور سلطان کی منظوری سے تقرر ہوتا، اور سترہویں صدی سے شیخ الاسلام تجویز کرتے۔ تقرر «رُوس» کے رجسٹر میں درج ہوتا۔ سولہویں صدی کے آخر سے معزولیاں بڑھ گئیں۔ 1
تنخواہ اور مراعات
قاضی عسکر کو پہلے مخصوص زمینوں کی آمدنی ملتی تھی، اور فاتح کے ضابطے کے مطابق اسے روزانہ 500 اقچہ تنخواہ دی گئی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اسے پنشن یا جاگیر، اور کبھی بڑے اوقاف کی آمدنی ملتی تھی۔ 1
فرائض
ابتدا میں وہ فوجی تنازعات طے کرتا تھا۔ بعد میں قاضیوں اور مدرسین کے تقرر، معزولی اور تبادلے، اور ملازمت کے نظام (mülâzemet) کا ذمہ دار ہوا۔ دیوانِ ہمایوں میں وہ شرعی اور قانونی معاملات پر فیصلہ کرتا، اور بعض فوجیوں اور علماء کا مقدمہ سنتا تھا۔ 1
گھر کی عدالت
ماخذ کے مطابق قاضی عسکر ہفتے کے مقررہ دنوں میں اپنے گھر پر عدالت لگاتا تھا۔ سولہویں صدی کے آخر کے رجسٹروں میں اوقاف، ترکے، معاشی امور، تیمار اور بیت المال کے مقدمات درج ہیں، اور زیادہ تر فریق فوجی طبقے سے تھے۔ 1
تقریبات
قاضی عسکر دیوان میں وزراء اور دفتردار کے ساتھ بیٹھتا، اور صوبائی گورنروں (بیلربیکی) سے آگے رہتا۔ جمعہ کو وہ «عرف» کہلانے والی بل دار پگڑی پہنتا تھا۔ جلوس، عیدوں اور سلاطین کی نمازِ جنازہ کی تقریبات میں وہ آگے ہوتے تھے۔ 1
اختتام
1914ء میں رومیلی اور اناطولیہ کے قاضی عسکر کی عدالتیں ایک عدالت میں ملا دی گئیں، جو سلطنت کے آخر تک قائم رہی۔ ماخذ کے مطابق یہ منصب آج موجود نہیں، اور اس کے کام جدید عدالتوں میں بٹ گئے۔ 1
ابھی شامل نہیں
مقام، اوزار، رجسٹر، اجتماعات اور تصویر کے حصے ابھی نہیں لکھے گئے۔ ان کے لیے وہ ماخذ درکار ہیں جو اس ریکارڈ کے لیے نہیں پڑھے گئے۔ ماخذ میں مذکور دیگر قاضی عسکروں کو ابھی شامل نہیں کیا گیا، کیونکہ میوزیم کے پاس ان کے شخصی ریکارڈ نہیں۔
حوالہ جات
- TDV İslâm Ansiklopedisi، «KAZASKER»، Mehmet İpşirli، جلد 25، صفحات 140–143۔ 2
یہ پیشہ کس نے اختیار کیا
بغیر تاریخ کے
- أبو الدرداء عويمر عارضی منصب The DİA entry on the kazasker says Umar appointed Abu al-Darda army judge (kadılcünd) in Syria, and that he kept the post under Uthman.
- الشيخ بدر الدين السماوني عارضی منصب The DİA entry says Musa Celebi, on proclaiming himself ruler in Edirne, appointed Sheikh Badr al-Din, son of the judge of Simavna, as kazasker.
- بهاء الدين ابن شداد عارضی منصب The DİA entry says Saladin appointed Baha al-Din ibn Shaddad kazasker after keeping Ibn al-Farrash in the post.
- عبد الرحمن بن ربيعة عارضی منصب The DİA entry says Umar appointed Abd al-Rahman ibn Rabia army judge at the battle of Qadisiyya. This is the entry's account; the record's own note describes his later command at Derbent.
- قرة خليل باشا الجاندرلي اصل پیشہ The DİA entry names Candarli Kara Halil Hayreddin Pasha as the first Ottoman kazasker, appointed in the early reign of Murad I, after the judgeship of Bursa. He later became vizier.
حوالہ جات
- قاضي العسكر (كازاسكر) — موسوعة TDV الإسلامية (محمد إپشيرلي)
- قاضي العسكر (كازاسكر) — موسوعة TDV الإسلامية (محمد إپشيرلي) , p.140-143
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “قاضی عسکر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/job/kazasker/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-02.