ایک نظر میں
- دور
- إمبراطوريات البارود · العصر الحديث
- خطہ
- anatolia-balkans · levant-iraq · arabia
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
متولّی وہ شخص تھا جو وقف کو بانی کے وقف نامے، شریعت اور قواعد کے مطابق چلانے کے لیے مقرر ہوتا تھا۔ تقرر بانی کی مرضی سے ہوتا ہے، اور اگر بانی کسی کو مقرر نہ کرے تو قاضی مقرر کرتا ہے۔ متولی وقف کی جائیداد اور عمارتیں محفوظ رکھتا، ان کی مرمت کراتا، جائیداد مارکیٹ ریٹ پر کرائے پر دیتا، عملے کی تنخواہیں دیتا اور حساب رکھتا تھا۔ اسے مقررہ تنخواہ ملتی تھی، اور خیانت یا غفلت پر معزول کیا جاتا تھا۔ 1
معنی
لفظ کا مطلب ہے کسی دوسرے کے کام کا ذمہ لینے والا۔ اصطلاح میں یہ وہ شخص ہے جو بانی کے وقف نامے اور قانون کے مطابق وقف کا انتظام سنبھالے۔ اس اختیار کو «ولایت» اور تقرر کو «تولیت» کہتے ہیں، اور عثمانی استعمال میں کام کے لیے عام طور پر «تولیت» کا لفظ آتا تھا۔ بعض ملکوں میں متولی کو «قیّم»، «متکلّم علی الوقف» یا «ناظر» بھی کہا جاتا ہے، لیکن عثمانی استعمال میں ناظر وہ تھا جو متولی کی نگرانی کرتا تھا۔ 1
تقرر
وقف نامہ متولی کا تعین کرتا ہے، اور اگر وہ نہ کرے تو قاضی۔ جسے واقف مقرر کرے وہ «متولیِ مشروط» کہلاتا ہے، اور جسے قاضی مقرر کرے وہ «متولیِ منصوب»۔ اگر واقف کسی کو متولی مقرر نہ کرے تو وہ خود وقف چلا سکتا ہے یا کسی اور کو مقرر کر سکتا ہے؛ اگر وہ فوت ہو جائے اور اپنی وصیت پر عمل کے لیے کسی وصی کو مقرر کیا ہو تو وصی متولی سمجھا جاتا ہے، جب تک وصیت میں اس کے برعکس نہ ہو۔ حنفی مسلک کے مطابق اگر واقف کے قرابت داروں میں کوئی اہل ہو تو اسے باہر کے لوگوں پر ترجیح دی جائے۔ فقہا اس پر متفق ہیں کہ تقرر کا مکمل اختیار واقف کو ہے۔ 1
قانونِ اوقاف 1936ء کے تحت تولیت کسی ایک سے زیادہ افراد کو مشترکہ طور پر یا حصوں میں نہیں دی جا سکتی۔ وقف کے اندراج کے لیے ایک اندراجی متولی مقرر کیا جا سکتا ہے، جس کا اختیار اندراج مکمل ہونے پر ختم ہو جاتا ہے۔ 1
عثمانی تقرر
عثمانی ریاست میں جب متولی کی جگہ خالی ہوتی تو پہلے قاضی اسے پُر کرتا تھا۔ تنظیمات کے بعد تولیتیں سلطانی فرامین (برات) کے ذریعے دی جانے لگیں، اور انہیں «صدقاتی تولیتیں» کہا گیا۔ نائب متولی (کائم مقامِ متولی) کا تقرر سلطان کے مجاز قاضیوں کے ذریعے ہوتا تھا۔ اس نائب کا تقرر کرنے کا اختیار رکھنے والا پہلا انتظامی ادارہ «حرمین کا تفتیش» تھا، جو 995ھ (1586ء) میں قائم ہوا۔ محمود اول کے 1143ھ (1731ء) کے فرمان نے حکم دیا کہ حرمین شریفین کے اوقاف کے کسی متولی کے تقرر سے پہلے تفتیش کے مفتش کو اطلاع دی جائے۔ 1188ھ (1775ء) میں عبدالحمید اول نے حمیدیہ اوقاف کے متولیوں کے لیے ایک دفتر قائم کیا۔ 1247ھ (1831ء) میں قائم ہونے والا اوقافِ ہمایوں کا تفتیش استنبول اور اس کے آس پاس کے اوقاف کے نائب متولی کا تقرر کرنے والا واحد ادارہ تھا۔ صوبوں میں یہ اختیار شرعی عدالتوں کے پاس رہا۔ 1
جمہوریہ
جمہوریہ ترکی میں ریاست کے زیرِ انتظام اوقاف («مضبوطہ») کو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف فاؤنڈیشنز چلاتا ہے، جو نائب متولی کے طور پر کام کرتا ہے۔ اوقاف کی کونسل، جس سے بڑے معاملات میں رائے لی جاتی ہے، ناظر کے نائب کا درجہ رکھتی ہے۔ تقریباً 334 ملحق اوقاف (مُلحَق) اب بھی قائم ہیں، اور جب ان کی تولیت خالی ہوتی ہے تو جنرل ڈائریکٹوریٹ اہلِ حقِ تولیت میں سے کمیشن کے فیصلے سے مقرر کرتا ہے، قانون نمبر 2762 اور 1936ء کے ضابطے کے تحت۔ 1
شرائط
متولی بالغ، عاقل، عادل اور امانت دار ہونا چاہیے، اور اسے وقف کے کام چلانے کا علم اور تجربہ ہو۔ مرد و عورت میں فرق نہیں۔ حنفی مسلک کے مطابق اس کا مسلمان ہونا شرط نہیں۔ جو اہل نہ ہو اسے مقرر نہیں کیا جاتا، اور جو مقرر ہو جائے اور نااہلی ظاہر ہو اسے معزول کیا جاتا ہے۔ ایک شخص ایک سے زیادہ وقف سنبھال سکتا ہے، لیکن تولیت اور نظارت ایک ہی شخص میں جمع نہیں ہو سکتیں، کیونکہ کوئی انسان نگران اور زیرِ نگرانی ایک ساتھ نہیں ہو سکتا۔ 1
فرائض اور حدود
متولی وقف کو خود چلاتا ہے، لیکن وہ کسی کو نائب مقرر کر سکتا ہے یا استعفیٰ دے سکتا ہے۔ اگر وہ نابالغ ہو، سفر میں ہو، عاجز ہو، یا اسے وقف سے قرض لینے کی ضرورت ہو، تو قاضی نائب مقرر کرتا ہے جو وقف کی نمائندگی کرے۔ متولی اپنے طور پر عمارتوں کی دیکھ بھال، عملے کے تقرر، جائیداد کا مارکیٹ ریٹ پر کرایہ، آمدنی وصول کرنے، حساب رکھنے اور سالانہ گوشوارے دینے کے کام کرتا ہے۔ وہ وقف کی جائیداد رہن نہیں رکھ سکتا، نہ اسے ہبہ کر سکتا ہے، نہ بلاعوض کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، نہ بغیر ضمانت قرض دے سکتا ہے، نہ اسے تقسیم کر سکتا ہے، اور نہ اس پر ملکیت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ جو متولی یہ کرے وہ نقصان کا ضامن ہے، خواہ یہ کام اس کے نائب نے کیا ہو۔ قرض لینے، غیر منفعت بخش جائیداد بیچنے، عملے کی تنخواہیں بڑھانے، اور جن امور کا وقف نامے میں ذکر نہ ہو ان کا فیصلہ کرنے کے لیے قاضی کی اجازت درکار ہے۔ 1
معزولی
متولی کو اس وقت تک معزول نہیں کیا جاتا جب تک خیانت ثابت نہ ہو۔ معزولی ان صورتوں میں ہوتی ہے: وقف کی جائیداد مارکیٹ ریٹ سے کم پر کرائے پر دینا، اس پر ملکیت کا دعویٰ کرنا، وقف کی آمدنی واقف کی شرائط کے خلاف اپنے کام میں خرچ کر کے دولت جمع کرنا، جن کاموں کے لیے قاضی یا سلطان کی اجازت درکار ہو انہیں بغیر پوچھے کرنا، فسق و فجور، یا وقف کی جائیداد اور خدمات میں غفلت۔ اگر متولی کی عقل ایک سال سے زیادہ خراب رہے تو اس کی ولایت ختم ہو جاتی ہے، لیکن جو متولی واقف کی شرط پر مقرر ہو وہ صحت یاب ہونے پر اسے دوبارہ حاصل کر لیتا ہے۔ 1
اجرت اور مقام
متولی کو اپنے کام اور ذمہ داری کے بدلے اجرت لینے کا حق ہے۔ مدخل حضرت عمر اور حضرت علی کے قول اور عمل کا حوالہ دیتا ہے، جنہوں نے متولی کو وقف کی آمدنی سے معروف حد تک فائدہ اٹھانے کی اجازت دی، بشرطیکہ وہ وقف کو اپنی آمدنی کا ذریعہ نہ بنائے۔ اجرت واقف یا تقرر کرنے والا قاضی طے کرتا ہے، اور یہ ایسے کام کے بازاری ریٹ کے مطابق ہونی چاہیے۔ عثمانی دور میں تولیت ایک معزز سماجی مقام تھا، کیونکہ اس میں صدقۂ جاریہ کی خدمت کا اطمینان اور ایک مقررہ آمدنی دونوں حاصل ہوتے تھے۔ 1
نگرانی
متولی اس ناظر کے تابع ہوتا ہے جو اس کی نگرانی کرتا ہے، اور ناظر قاضی کے تابع ہوتا ہے جو شریعت کے احکام اور سلطان کے قانون کے دیے ہوئے اختیارات کے مطابق کام کرتا ہے۔ متولی کو ہر مدتِ تولیت کا حساب دینا ہوتا ہے، اور وقف نامے میں حساب کی جانچ سے روکنے کی شرط کو معتبر نہیں مانا جاتا۔ قاضی ضرورت ہو تو جانچ کا حکم دے سکتا ہے، لیکن کسی منظور شدہ حساب پر سنجیدہ وجہ اور واضح شک کے بغیر دوبارہ نظر نہیں کر سکتا۔ جمہوریہ میں جنرل ڈائریکٹوریٹ ملحق اوقاف کے حسابات کی جانچ اور تصدیق کرتا ہے۔ 1
ابھی تک شامل نہیں
اس صفحے کے لیے مدخل کی کتابیات نہیں پڑھی گئیں۔ مدخل اپنے متن میں کسی تاریخی متولی کا نام نہیں لیتا، اس لیے اس دفعہ میں کوئی حامل درج نہیں۔ مدخل کی ایک تصویر کے عنوان میں دمشق کی جامع اموی کے متولی درسیام سیوطی زادہ مصطفیٰ افندی کا ذکر ہے، جنہیں محمود ثانی نے 1224ھ (1809ء) میں مقرر کیا، مگر ان کے عجائب گھر میں شخص ریکارڈ نہیں، اس لیے یہاں نہیں لکھے گئے۔ مدخل حرمین اور حمیدیہ اوقاف کے متولیوں کے نام نہیں دیتا۔
حوالہ جات
- ترکی اسلامی انسائیکلوپیڈیا (TDV)، مادہ «متولی»، جلد 32، ناظف اوزتورک، صفحات 217–220، استنبول 2006۔ 1
یہ پیشہ کس نے اختیار کیا
اس پیشے میں ابھی کسی شخص کا اندراج نہیں ہوا۔
حوالہ جات
- المتولّي — موسوعة TDV الإسلامية (ناظف أوزتورك) , p.217-220
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “متولّی (وقف کا منتظم)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/job/mutawalli/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-02.