ایک نظر میں
- کردار
- عالم · writer · teacher · activist
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
تعلیم اور تصوف کا راستہ
عربی سوانح کے مطابق انھوں نے شیخ عبد الباقی فرنگی محلی سے پڑھا، حرمین اور بغداد کا سفر کیا جہاں حدیث و فقہ کی تعلیم حاصل کی، اور 1916ء میں پونے میں اسسٹنٹ پروفیسر رہے 1۔ اردو سوانح بتاتی ہے کہ وہ شاہ عبد الرزاق ہانسوی کے مرید ہو کر سلسلہ قادریہ میں داخل ہوئے اور تمام سلاسل میں اجازت و خلافت پائی، اور حاجی وارث علی شاہ کے قریبی دوستوں میں سے تھے 2۔
سیاست
پہلی جنگ عظیم کے دوران انھوں نے سلطان ترکی سے کہا کہ برطانیہ کی حمایت کریں یا جنگ سے باہر رہیں؛ 26 جنوری 1919ء کو لکھنؤ میں مسلمانوں کے بارے میں برطانوی رویے کے خلاف احتجاجی اجلاس کی صدارت کی، اور تحریک خلافت میں نہایت سرگرم رہے 3۔ اردو سوانح کے مطابق انھوں نے برطانوی حکومت کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا، اور صحابہ و بزرگان دین کی قبروں کی مسماری کے خلاف آواز اٹھائی 2۔ انھوں نے ہندو مسلم اتحاد کی دعوت دی، خاص طور پر خلافت تحریک کے دوران، مہاتما گاندھی کے رفیق رہے، اور دیگر مواقع پر مسلمانوں کو ہندوؤں کے احترام میں گائے کی قربانی نہ کرنے کی تلقین کی 3۔
ادارے اور کتابیں
مغربی تعلیم کی مخالفت میں انھوں نے لکھنؤ میں مدرسہ نظامیہ قائم کیا؛ 1914ء میں مسلم مقامات مقدسہ کی بے حرمتی روکنے کے لیے انجمن خدام کعبہ بنائی؛ اور دار المصنفین شبلی اکیڈمی (1915ء–1916ء) اور 1920ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی ارکان میں سے تھے 31۔ ان کی 111 کتابیں حدیث، تفسیر، فقہ، اصول فقہ، فرائض، منطق، فلسفہ، نحو، سیرت اور تصوف پر محیط تھیں 2۔
مسلک جیسا کہ ذرائع گواہی دیتے ہیں
کوئی پڑھا ہوا مضمون عبد الباری کے لیے ذاتی طور پر کوئی فقہی مکتب نام نہیں لیتا: انگریزی مضمون کا معلوماتی خانہ ان کا مذہب صرف اسلام دیتا ہے 3، عربی مضمون انھیں مسلم عالم کہتا ہے 1، اور وکی ڈیٹا بھی صرف اسلام دیتا ہے 4۔ شاہ عبد الرزاق ہانسوی سے ان کی صوفی بیعت کی گواہی اردو مضمون کے متن میں ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا 2۔ میوزیم ان کا مسلک دو ماخذ کی حد پر غیر مشہود درج کرتا ہے اور بیعت کی گواہی ڈیٹا ریکارڈ میں محفوظ رکھتا ہے۔
19 جنوری 1926ء کو انتقال ہوا، یہ تاریخ اردو سوانح 4 رجب 1344ھ کے ساتھ جوڑتی ہے 2؛ انگریزی مضمون اور وکی ڈیٹا صرف سال دیتے ہیں 3۔
مآخذ
- اوپر مذکور متعین ماخذی وجودات،
data/source/میں درج۔ - اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کا ماخذ نام لینا چاہیے۔
ماخذ
- Abdul Bari Firangi Mahali — Arabic Wikipedia
- Abdul Bari Firangi Mahali — Urdu Wikipedia
- Abdul Bari Firangi Mahali — English Wikipedia
- Abdul Bari Firangi Mahali — Wikidata Q4665305
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الباری فرنگی محلی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdul-bari-firangi-mahali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.