ابو الکلام آزاد

أبو الكلام آزاد

–

مكة المكرمة → دلهي

ہندوستانی عالم، مصنف اور سیاست دان (1888ء–1958ء)، مکہ میں پیدا ہوئے اور مکہ و مدینہ میں پرورش پائی، عربی، اردو، فارسی اور انگریزی پر عبور حاصل تھا۔ مجلہ «الہلال» (1912ء) جاری کیا جو اصلاحی اور سیاسی آواز کا بڑا منبر بنا، رانچی میں ساڑھے تین سال نظر بند رہے۔ 1923ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے سب سے کم عمر صدر بنے اور پھر 1940ء–1946ء صدر رہے، تقسیم ہند کی مخالفت کی، اور آزادی کے بعد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم (1947ء–1958ء) بنے اور پہلا انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن قائم کیا۔ ان کی کتابوں میں «ترجمان القرآن»، «غبار خاطر» اور «انڈیا ونس فریڈم» شامل ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · writer · سیاست دان · activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد الحمید خان بھاشانی · مولوی عبد الحق · عبد المعز

مکان میں

مكة المكرمةدلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    مکہ مکرمہ میں افغان نژاد خاندان میں پیدا ہوئے، مکہ و مدینہ کے درمیان پرورش پائی، اور کچھ عرصہ والد، عالم مولانا خیر الدین، کے ساتھ کلکتہ میں رہے 12۔ 1890ء میں خاندان کلکتہ منتقل ہو گیا؛ عربی پر عبور تھا، اور خاندان کے رکھے ہوئے اساتذہ سے حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی فقہ کے مسالک، شاذلیہ و نقشبندیہ سلاسل، ریاضی، فلسفہ اور علوم کی تعلیم حاصل کی 1۔ چودہ برس کی عمر میں ماہنامہ رسالہ چلا رہے تھے، سترہ میں اس کے مدیر تھے، اور بیس میں «امرت بازار پترکا» کے مدیر بنے؛ عربی مضمون انھیں نابغہ کہتا ہے جو عربی، اردو، فارسی اور انگریزی بولتے تھے 13۔

    «الہلال» اور نظر بندی

    1912ء میں کلکتہ سے اردو ہفت روزہ «الہلال» جاری کیا، جو اسلامی احیا اور نوآبادیات مخالف، اتحاد نواز خیالات کا بااثر منبر بن گیا 1۔ حکومت نے اسے ضبط کیا تو 1915ء میں اس کا نام «البلاغ» رکھ دیا، اور اردو سوانح کے مطابق «الہلال» کے خریدار تقریباً چھبیس ہزار تک پہنچ گئے تھے اور اس رسالے نے سوئی ہوئی قوم کو جگایا 2۔ 1916ء میں کلکتہ میں اپنے گھر میں مقید کیے گئے اور پھر اپنے خیالات کی وجہ سے رانچی، موجودہ جھارکھنڈ، میں نظر بند کر دیے گئے، جہاں 1920ء تک رہے 1۔

    کانگریس کی قیادت

    1920ء میں انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے اور 1923ء کے دہلی کے خصوصی اجلاس میں اس کے سب سے کم عمر صدر بنے؛ 1940ء سے 1946ء تک پھر صدر رہے اور 1945ء میں شملہ کانفرنس میں کانگریس کے وفد کی قیادت کی 1۔ تقسیم ہند کی مخالفت کی، اور 1946ء کی مذاکرات میں جناح اور لیگ کے دو قومی نظریے کے سخت مخالف رہے 1۔ بارہا قید ہوئے، جن میں 1942ء سے 1945ء تک «ہندوستان چھوڑ دو» تحریک پر احمد نگر قلعے میں تین سال شامل ہیں 1۔

    مسلک جیسا کہ ذرائع گواہی دیتے ہیں

    آزاد نے مسلم عالم کے طور پر لکھا: ان کا شاہکار قرآن کا ترجمہ و تفسیر تھا، اور «الہلال» اسلامی احیا کا منبر بنا 1؛ عربی مضمون کا معلوماتی خانہ ان کی جماعت اہل السنۃ والجماعۃ دیتا ہے 3، اور وکی ڈیٹا میں ان کے مذہب کی قدریں اسلام اور سنی اسلام ہیں 4۔ کوئی پڑھا ہوا متن ان کے لیے فقہی مکتب نام نہیں لیتا؛ انگریزی مضمون فقہ کے چاروں مسالک میں ان کی تربیت بیان کرتا ہے، جیسا کہ اوپر آیا 1، اور عربی مضمون کہتا ہے کہ ان کی تربیت صوفیانہ ماحول میں ہوئی 3۔ میوزیم کا ڈیٹا ریکارڈ ٹھیک ٹھیک بتاتا ہے کہ دو ماخذ کی حد پر ہر گواہی کی کیا قیمت ہے۔

    تصانیف

    «ترجمان القرآن» ان کا قرآن کا ترجمہ و تفسیر ہے؛ «تذکرہ» ان کی خود نوشت ہے جو جوانی میں لکھی گئی؛ «غبار خاطر» 1942ء سے 1945ء تک احمد نگر قلعے سے دوست مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی کو لکھے گئے خطوط کا مجموعہ ہے؛ اور «انڈیا ونس فریڈم» جدوجہد آزادی کی ان کی روایت ہے 1۔

    وزیر تعلیم اور وفات

    آزاد ہندوستان کے پہلے اور سب سے طویل عرصے تک رہنے والے وزیر تعلیم کی حیثیت سے قومی تعلیمی پالیسی کی رہنمائی کی، 1951ء میں کھڑگ پور میں پہلا انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی قائم کیا، 1953ء میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن بنایا، اور ملک کی ادب، موسیقی و فنون کی قومی اکیڈمیوں کی بنیادیں رکھیں 1۔ ان کا یوم پیدائش، 11 نومبر، ہندوستان میں قومی یوم تعلیم کے طور پر منایا جاتا ہے 1۔ 22 فروری 1958ء کو دہلی میں فالج سے انتقال ہوا — یہ تاریخ عربی مضمون 3 شعبان 1377ھ کے ساتھ جوڑتا ہے 3 — اور ان کا مزار دہلی کی جامع مسجد کے پہلو میں ہے؛ 1992ء میں بعد از وفات بھارت رتن سے نوازا گیا 1۔

    مآخذ

    • اوپر مذکور متعین ماخذی وجودات، data/source/ میں درج۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کا ماخذ نام لینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    مكة المكرمة
    Died in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    دار الندوة· الكعبة· المسجد الحرام· عبادة الأصنام في الجاهلية ومراسمها· مناصب قريش في مكة· إعادة الخطبة العباسية بالحرمين سنة 479· تدبير أبي جهل لضرب النبي بحجر وهو ساجد· أبو طالب يجمع بني هاشم وبني المطلب

    ماخذ

    1. Abul Kalam Azad — English Wikipedia
    2. Abul Kalam Azad — Urdu Wikipedia
    3. Abul Kalam Azad — Arabic Wikipedia
    4. Abul Kalam Azad — Wikidata Q196617
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ابو الکلام آزاد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abul-kalam-azad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    دار الندوة

    The council house founded by Qusayy on the north side of the mosque of the Kaaba, with its door into the mosque; Quraysh deliberated its grave matters and married off its daughters there.