جمال عبد الناصر

جمال عبد الناصر

–

الإسكندرية → القاهرة

جمال عبد الناصر (15 جنوری 1918ء – 28 ستمبر 1970ء) مصری افسر اور سیاست دان تھے جنہوں نے فری آفیسرز اور جولائی 1952ء کے انقلاب کی قیادت کی اور مصر کے دوسرے صدر بنے۔ انہوں نے 1956ء میں نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لیا، شام کے ساتھ اتحاد (1958ء–1961ء) قائم کیا، 1967ء کی جنگ ہارے، استعفیٰ دیا اور عوامی دباؤ پر واپس آئے، اور 1970ء میں دل کے دورے سے وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · military
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود · عبد الجبار الجومرد · عبد الرحمن بدوي · عبد الرزاق نوفل

مکان میں

الإسكندريةالقاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    جمال عبد الناصر حسین (15 جنوری 1918ء – 28 ستمبر 1970ء) مصری افسر اور سیاست دان تھے جنہوں نے فری آفیسرز تنظیم اور 23 جولائی 1952ء کے انقلاب کی قیادت کی اور 1970ء تک مصر پر حکومت کی۔ انہوں نے نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لیا، مصر و شام کا اتحاد قائم کیا، اور وہ عرب قوم پرستی کی مرکزی علامت بنے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ اسکندریہ کے محلے باکوس میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد بالائی مصر کے گاؤں بنی مر کے ڈاک خانے کے ملازم تھے۔ ابتدائی تعلیم اسیوط اور ثانوی تعلیم قاہرہ کے عین شمس سے حاصل کی؛ قانون کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر مصر کی شاہی عسکری اکیڈمی میں داخل ہوئے۔ 1

    انقلاب اور صدارت

    انہوں نے فوج کے اندر خفیہ «فری آفیسرز» تنظیم بنائی جس نے جولائی 1952ء میں بادشاہت کا خاتمہ کیا؛ شاہ فاروق مستعفی ہو کر ملک چھوڑ گئے۔ ناصر انقلابی کمانڈ کونسل کے سربراہ اور 1954ء میں وزیر اعظم بنے، اور 23 جون 1956ء کو رائے شماری میں مصر کے صدر منتخب ہوئے۔ 1

    26 جولائی 1956ء کو انہوں نے نہر سوئز کمپنی کی قومی ملکیت کا اعلان کیا۔ برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے جنگ چھیڑی، مگر امریکی و سوویت دباؤ پر لڑائی رکی اور حملہ آور افواج ہٹ گئیں؛ مصر میں اسے ناصر کی سیاسی فتح سمجھا گیا۔ 1958ء میں مصر و شام «متحدہ عرب جمہوریہ» میں مل گئے، یہ اتحاد 1961ء میں ٹوٹا۔ ان کی حکومت نے بینکوں اور بڑی صنعتوں کو قومی ملکیت میں لیا اور زرعی اصلاحات نافذ کیں۔ 1

    1967ء کی جنگ اور وفات

    مئی 1967ء میں انہوں نے سینائی سے اقوام متحدہ کی امن فوج کی واپسی کا مطالبہ کیا اور آبنائے تیران اسرائیلی جہاز رانی کے لیے بند کر دی۔ 5 جون کو اسرائیل نے حملہ کر کے مصر کی فضائیہ کا بیشتر حصہ تباہ کر دیا اور چھ دن میں سینائی، غزہ، مغربی کنارہ اور جولان پر قبضہ کر لیا۔ ناصر نے 9 جون کو ذمہ داری قبول کر کے استعفیٰ دیا، مگر قاہرہ میں وسیع مظاہروں کے بعد اگلے روز واپس آ گئے۔ 1

    ستمبر 1970ء کے آخر میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کے اختتام پر انہیں دل کا دورہ پڑا اور 28 ستمبر 1970ء کو انتقال ہوا؛ جنازے میں پچاس سے ساٹھ لاکھ افراد شریک ہوئے اور انہیں قاہرہ کی نصر مسجد میں دفن کیا گیا۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    الإسكندرية
    Died in
    القاهرة
    Buried in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    احمد عصمت عبد المجید· عمرو خالد· محمد مصطفی المراغی· قاسم امین· شکری القوتلی· یوسف شاہین· الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة

    ماخذ

    1. Gamal Abdel Nasser — English Wikipedia
    2. Gamal Abdel Nasser — Urdu Wikipedia
    • Gamal Abdel Nasser — Arabic Wikipedia
    • Gamal Abdel Nasser — Wikidata Q39524
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “جمال عبد الناصر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/gamal-abdel-nasser/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    احمد عصمت عبد المجید

    احمد عصمت عبد المجید (22 مارچ 1923ء – 21 دسمبر 2013ء) اسکندریہ سے تعلق رکھنے والے مصری سفارت کار تھے۔ نوجوان سفارت کار کی حیثیت سے انہوں نے 1957ء کے اس وفد میں حصہ لیا جس نے فرانس سے تعلقات کی بحالی پر مذاکرات کیے۔ وہ فرانس میں مصر کے سفیر اور پھر وزیرِ خارجہ (1984ء–1991ء) رہے، اس کے بعد عرب لیگ کے پانچویں سیکرٹری جنرل (1991ء–2001ء) بنے؛ ان کے پیش رو الشاذلی القلیبی اور جانشین عمرو موسیٰ تھے۔