ایک نظر میں
- کردار
- واعظ · writer
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
عمرو محمد حلمی خالد مصر کے مسلمان مبلغ اور ٹیلی ویژن پیش کار ہیں، جو 5 ستمبر 1967 کو اسکندریہ میں پیدا ہوئے۔ عربی بولنے والے ناظرین انہیں سیٹلائٹ ٹیلی ویژن کے ذریعے جانتے ہیں، اور ان کی شہرت یورپ اور شمالی امریکہ کی مسلم برادریوں تک پہنچی۔ نیویارک ٹائمز میگزین نے 2006 میں انہیں انگریزی بولنے والے ممالک میں «دنیا کا سب سے مشہور اور سب سے بااثر مسلم ٹیلی ویژن مبلغ» کہا، اور ٹائم میگزین نے 2007 میں انہیں دنیا کی 100 سب سے بااثر شخصیات میں شامل کیا۔ 1 2
ان کا پیغام، جیسا کہ ماخذ بیان کرتے ہیں، بنیادی طور پر پندرہ سے پینتیس برس کے عرب نوجوانوں سے ہے۔ اس میں روزمرہ کی زبان، اکثر مزاح کے ساتھ، اور «ایمان کے ساتھ ترقی» کا تصور شامل ہے، یعنی لوگ اپنے معاشرے اور ملک ایمان کے جذبے اور رہنمائی کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ 1
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ اسکندریہ میں پیدا ہوئے۔ 1988 میں انہوں نے جامعہ قاہرہ سے تجارت (اکاؤنٹنگ) میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی، اور اسی سال وہ کلیۂ تجارت کی طلبہ یونین کے صدر اور یونیورسٹی کے کلیات کی فیڈریشن کے نائب صدر تھے۔ 1985 میں وہ مصری کلب الاہلی کی نوجوانوں کی ٹیم میں کھیلے۔ 3 4
انہوں نے سات برس ایک اکاؤنٹنگ دفتر میں کام کیا، پھر قاہرہ میں اپنا اکاؤنٹنگ دفتر کھولا۔ 2001 میں انہوں نے گیزا کے میت عقبہ میں اعلیٰ اسلامی علوم کے ادارے سے اسلامی علوم میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ 3 4
19 مئی 2010 کو انہیں یونیورسٹی آف ویلز، لیمپیٹر (یونیورسٹی آف ویلز ٹرنٹی سینٹ ڈیوڈ کا ایک کیمپس) سے شریعت میں ڈاکٹریٹ ملی۔ عربی مضمون میں ان کے مقالے کا عنوان «اسلام اور مغرب کے ساتھ بقائے باہمی» بتایا گیا ہے۔ 1 3 4
دعوت کا آغاز
انہوں نے 1990 میں، ابھی محاسب کے طور پر کام کرتے ہوئے، مساجد میں درس دینا شروع کیا، اور 1998 میں مکمل طور پر تبلیغ کے لیے وقف ہو گئے، جس میں بنیادی طور پر سیٹلائٹ ٹیلی ویژن پر کام ہوا۔ 1
ان کے ابتدائی دروس قاہرہ کے ڈوکّی کے نادیِ صید میں ہوتے تھے، پھر العجوزہ کی مسجد الحصری، پھر العجوزہ کی مسجد المغفرة میں۔ جب حاضرین مسجد کے لیے بہت زیادہ ہو گئے تو وہ 6 اکتوبر شہر کی مسجد الحصری منتقل ہو گئے، جہاں ان کی شہرت بڑھی اور دور دراز سے نوجوان ان کے درس میں آنے لگے۔ عرب دنیا میں ان کی شہرت سیٹلائٹ چینل اقرأ کے ذریعے پھیلی، جس کے لیکچر نائل سیٹ پر نشر ہوتے، اور انٹرنیٹ اور آڈیو و ویڈیو کیسٹوں پر بھی تقسیم ہوتے۔ 3 1
2000 سے 2002 کے درمیان انہوں نے مصر میں عوامی لیکچر اور ملاقاتیں کیں۔ عربی مضمون کے مطابق حاضرین کی تعداد تقریباً 35,000 تک پہنچی۔ اس نے مارچ 2003 میں بیروت میں چالیس سے زائد عرب میڈیا پیشہ وروں کے لیے خصوصی کورسز کا بھی ذکر کیا ہے۔ مضمون ان اعداد و شمار کی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں کرتا۔ 3
مصر سے باہر رہائش اور واپسی
انہوں نے 30 اکتوبر 2002 کو مصر چھوڑا۔ مضمون بتاتا ہے کہ مصری حکام نے انہیں یہ انتخاب دیا کہ یا تو تبلیغ بند کریں یا ملک چھوڑ دیں۔ وہ فروری 2005 تک بیروت میں رہے، یعنی سابق لبنانی وزیرِ اعظم رفیق حریری کے قتل تک، جس کے بعد انہیں لبنان غیر محفوظ محسوس ہوا، اور پھر وہ برطانیہ منتقل ہو گئے۔ 3
بعد میں وہ قاہرہ واپس آئے۔ مضمون بتاتا ہے کہ مئی 2009 میں مصری حکومت نے حکم دیا کہ ان کے پروگرام مصر سے نشر نہ ہوں، اور جون 2009 میں انہیں دوسری بار مصر سے نکال دیا گیا۔ غیر اعلان شدہ فیصلے کے بارے میں خبریں متضاد تھیں۔ مضمون نے ان کی اس تردید کو بھی درج کیا ہے کہ انہیں سیکیورٹی اداروں کی طرف سے کوئی سرکاری ہدایت یا طلبی موصول نہیں ہوئی۔ اس میں آزاد روزنامے «المصری الیوم» کا حوالہ بھی ہے، جس نے اس معاملے کو ان کے «انسان» منصوبے پر حکمران جماعت کے ساتھ اختلاف سے جوڑا۔ 3
ٹیلی ویژن پروگرام
ان کے پروگرام 2001 سے شروع ہوئے۔ ماخذ جس ترتیب سے انہیں بیان کرتے ہیں، ان میں شامل ہیں:
- «ونلقی الأحبة» (ہم محبوب سے ملتے ہیں؛ اقرأ، 2001–2003)، جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ کی زندگی اور ان کے فیصلہ کن لمحات پر تھا۔ 3
- «صناع الحياة» (زندگی کے معمار؛ اقرأ، 2004–2005)، اس دور کا ان کا سب سے مشہور پروگرام، جس میں عرب اور مسلم نوجوانوں سے کہا گیا کہ وہ کام کریں اور ایسے منصوبوں میں شریک ہوں جو ملک کو آگے بڑھائیں۔ 1 3
- «على خطى الحبيب» (رمضان 2005)، سیرتِ نبوی کا بیان، جو ابتدائی دعوت کی مشکلات اور آج ان سے سبق پر مرکوز ہے۔ 1
- «باسمك نحيا» (رمضان 2006)، اللہ کے اسمائے حسنیٰ پر، جس میں ہر رات ایک نام کو چار پہلوؤں سے دیکھا جاتا: نفس، معاشرہ، کائنات اور اللہ۔ 1 3
- «دعوة للتعايش» (2007)، سنی اسلام کے چار اماموں (ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور احمد بن حنبل) کی زندگی پر، اور مغرب اور سب لوگوں کے ساتھ بقائے باہمی کی دعوت۔ 1 3
- «الجنة في بيوتنا» (رمضان 2007)، خاندانی زندگی اور گھریلو مسائل کے حل پر، جس میں کئی ماہرین تعلیم اور رضاکاروں نے حصہ لیا۔ 3
- «قصص القرآن» (رمضان 2008)، اور دوسرا حصہ (رمضان 2009)، جس میں حضرت موسیٰ کا قصہ ولادت، فرعون کے گھر پرورش، مدین کی طرف ہجرت اور مصر واپسی سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک بیان کیا گیا۔ 1 3
- «رحلة للسعادة» (رمضان 2010)، خوشی پر، جسے کئی باہم مربوط اجزاء کا مجموعہ قرار دیا گیا۔ 3
- «بكره أحلى» (2011)، جو قاہرہ کی سڑکوں پر فلمایا گیا۔ 1
- «عمر صانع حضارة» (رمضان 2012)، دوسرے خلیفہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ پر۔ 1
- «قصة الأندلس» (رمضان 2013)۔ 3
- «مجددون» (تجدید کار)، ایک ریئلٹی ٹیلی ویژن فارمیٹ جس میں کئی عرب ممالک کے نوجوانوں کو ترقیاتی، سماجی اور میڈیا کے کام دیے جاتے ہیں، مرحلہ وار چھانٹی ہوتی ہے، اور فاتح ایک ترقیاتی منصوبہ چلانے کے مالی انعام کا حقدار ہوتا ہے۔ 3
منصوبے اور اقدامات
- «إنسان» منصوبہ۔ انہوں نے غربت اور تعلیم سے بچے کے اسکول چھوڑنے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اس کا اعلان کیا۔ انہوں نے مصر میں 7,000 غریب خاندانوں کی مدد کے لیے 35,000 رضاکار طلب کیے، اور پھر یہ منصوبہ یمن، اردن اور سوڈان تک پھیلا۔ نومبر 2008 میں انہوں نے اعلان کیا کہ یہ مصر میں رُک گیا ہے مگر دوسرے ممالک میں جاری رہے گا۔ «صناع الحياة» گروپ کے ارکان نے کہا کہ وجہ سیکیورٹی دباؤ تھا، جس کی کسی سرکاری ادارے نے تصدیق نہیں کی۔ 3
- «حماية» مہم (2008)۔ پانچ ہزار عرب منشیات کے عادی افراد کو علاج کا پروگرام شروع کرنے پر آمادہ کرنے کی مہم، جو پروگرام «الجنة في بيوتنا» کے تحت چلی۔ اقوامِ متحدہ اور دبئی پولیس اس میں شریک ہوئیں۔ مضمون بتاتا ہے کہ خود مہم کے اندازے کے مطابق تقریباً پچاس لاکھ نوجوانوں نے اس کے ذریعے «مثبت قدم» اٹھایا۔ 3
- «صناع الحياة» بطور خیراتی ادارہ۔ مضمون کے مطابق ٹیلی ویژن پروگرام ایک منصوبے میں بدلا، جس کا مقصد مسلمان نوجوانوں کی توانائی بیدار کرنا تھا، اور پھر مصر کے غریب خاندانوں کی مدد کرنے والی خیراتی تنظیم بن گیا۔ اس دعوے پر مضمون میں «حوالہ جات درکار ہیں» کا نوٹس ہے، اور ہمیں اس کی کوئی آزاد ماخذ سے تصدیق نہیں ملی، اس لیے اسے ثابت شدہ حقیقت کے بجائے ایک «سرخ اشارہ» (lead) کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ 3
- «العلم قوة» (2011)۔ جنوری 2011 کے انقلاب کے بعد مصر میں پانچ برس کے اندر ناخواندگی ختم کرنے کے لیے شروع کیا گیا۔ رضاکار جانچے جاتے ہیں، منتخب ہوتے ہیں اور کلاسوں میں بھیجے جاتے ہیں۔ مضمون نوٹ کرتا ہے کہ ناخواندہ لوگوں تک پہنچنا اور انہیں کلاس میں آنے پر آمادہ کرنا اس اقدام کی بڑی مشکل ہے۔ 3
- مہم «إوعى» (2012 کی بہار)۔ منشیات کے خلاف آگاہی مہم۔ 3
سیاست
25 جنوری 2011 کے انقلاب کے بعد انہوں نے ایک سیاسی جماعت کے قیام میں حصہ لیا، جسے انگریزی مضمون «Egypt Party» (حزبِ مصر) کہتا ہے۔ وہ اس کے صدر منتخب ہوئے، اور 2013 کی فوجی بغاوت کے ایک دن بعد استعفیٰ دے دیا۔ عربی مضمون جماعت کا نام «حزب مصر المستقبل» بتاتا ہے اور اس کے قیام کا سال 2012۔ دونوں ناموں کو کسی دوسرے ماخذ سے تصدیق کی ضرورت ہے۔ 1 3
انگریزی مضمون کے مطابق بغاوت کے بعد انہوں نے استحکام کی علامت کے طور پر صدر عبدالفتاح السیسی کی حمایت کی۔ 1
صحافی عمرو أديب کے پروگرام میں جب ان سے صدارتی انتخاب لڑنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ لڑنا نہیں چاہتے، کیونکہ تبلیغ اور ترقیاتی کام انہیں اپنے سامعین کے زیادہ قریب رکھتے ہیں۔ انہوں نے مستقبل میں امیدوار بننے کے امکان کو رد نہیں کیا۔ 3
اعزازات اور پہچان
- ٹائم (2007)۔ انہیں ٹائم کی دنیا کی 100 سب سے بااثر شخصیات میں «نئے مفکرین» کے گروپ میں شامل کیا گیا۔ وہ تقریب میں شریک ہوئے اور مختصر تقریر کی۔ 2 3
- فارن پالیسی اور پروسپیکٹ (2008)۔ آن لائن رائے شماری میں دنیا کے سو سب سے اہم عوامی دانشوروں میں وہ چھٹے نمبر پر رہے۔ 1
- نیوزویک (اپریل 2008)۔ ان کا نام نیوزویک کی «Superclass» فہرست میں شامل ہوا۔ 3
- شاہی اسلامی اسٹرٹیجک مطالعات کا مرکز (2009)۔ پانچ سو سے زیادہ بااثر مسلم شخصیات کی فہرست سے 50 شخصیات میں وہ چودھویں نمبر پر رہے۔ یہ مرکز اردن کا سرکاری تحقیقی ادارہ ہے۔ 3
- یمن (دسمبر 2010)۔ بی بی سی نیوز نائٹ کے مطابق صدر علی عبداللہ صالح نے انہیں القاعدہ اور دوسرے انتہا پسند گروہوں کے بڑھتے اثر کا مقابلہ کرنے کے لیے یمن سے تبلیغ اور نشریات کی دعوت دی۔ 5 1
آمدنی اور مالی معاملات
2008 میں فوربز عربی نے رپورٹ کیا کہ 2007 میں ان کی خالص آمدنی تقریباً ڈھائی ملین ڈالر تھی۔ بی بی سی عربی نے یہ خبر نقل کی۔ انہوں نے اس رقم کی تردید کی، اور کہا کہ یہ ان کے پروگراموں کے اندر اشتہارات کی آمدنی ہے جس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اور اسے میگزین کی تحریف قرار دیا۔ 6 3
مضمون بتاتا ہے کہ وہ اپنے دینی پروگراموں کا معاوضہ نہیں لیتے۔ وہ اقرأ چینل سے چینل میں ایک انتظامی عہدے کی تنخواہ لیتے ہیں، اور لیکچرز، کانفرنسوں یا دینی سیمینارز کا کوئی معاوضہ نہیں لیتے۔ 3
آرا اور تنقید
یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے۔ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔ انگریزی اور عربی مضامین یہ مواقف نقل کرتے ہیں؛ ان کے اصل بیانات ابھی جانچے نہیں گئے، اور یہ بات قاری کے سامنے رکھی گئی ہے تاکہ وہ خود رائے قائم کر سکے۔
حامی۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کا پیغام نوجوانوں کے قریب ہے، تشدد اور فرقہ واریت کو رد کرتا ہے اور بقائے باہمی کی دعوت دیتا ہے۔ ٹائم اور فارن پالیسی دونوں نے ان کے اثر کے اس پہلو کا حوالہ دیا۔ 2 1
ناقدین۔ یوسف القرضاوی نے ان کی تبلیغ کی اہلیت پر سوال اٹھایا۔ 2003 کے لی موند ڈپلومیٹیک کے ایک مضمون نے ان کی دعوت کو «ایئر کنڈیشنڈ اسلام» کہا، جس میں حجاب فیشن کی خریداری بن جاتا ہے اور داعی کامیابی و دولت کی بات کرتا ہے، جو روایتی اسلام سے زیادہ امریکی ٹیلی ویژن مبلغین سے ملتا جلتا ہے۔ 1
عربی مضمون ان علماء اور داعیوں کی فہرست دیتا ہے جنہوں نے ان پر تنقید کی: ابو اسحاق الحوینی، محمد حسان، وجدی غنیم، محمد حسین یعقوب، فتحی غریب، عبداللہ بدر، محسن عفیفی، محمد عبد المقصود، اور محمد مسعد یاقوت۔ مضمون بتاتا ہے کہ وجدی غنیم نے برطانیہ میں دو ملاقاتوں کے بعد ایک حتمی بیان جاری کیا، اور یہ کہ عمرو خالد نے اپنے پرانے مواد کا جائزہ لینے اور اسے نظرثانی کرنے کے لیے علماء کی کمیٹی بنانے پر رضامندی ظاہر کی۔ مضمون اس جائزے کا نتیجہ نہیں بتاتا۔ 3
دیگر تحفظات۔ سنڈے ٹائمز نے مئی 2004 میں رپورٹ کیا کہ برطانوی کابینہ کے سیکرٹری اینڈریو ٹرن بُل مسلمانوں کے بارے میں حکومت کی پالیسی میں عمرو خالد سے مدد لینا چاہتے تھے۔ انگریزی مضمون آمدنی کی مذکورہ رپورٹوں کا بھی ذکر کرتا ہے۔ 1 6
کتابیں
انہوں نے کئی کتابیں لکھیں، جنہیں عربی مضمون یوں درج کرتا ہے: «الأخلاق»، «العبادات»، «إصلاح القلوب» (أريج للنشر والتوزيع، 2004، فرانسیسی میں ترجمہ)، «الصبر والذوق»، «يوسف»، «حتى يغيروا ما بأنفسهم» (کئی زبانوں میں ترجمہ)، «قصص الأنبياء» (کئی زبانوں میں ترجمہ)، «على خطى الحبيب»، «صناع الحياة»، «الجنة في بيوتنا» (2008)، «خلفاء الرسول» (فرانسیسی میں ترجمہ)، «عبادات التفكر» (فرانسیسی میں ترجمہ)، «خواطر قرآنية»، «باسمك نحيا» (فرانسیسی میں ترجمہ)، «قصص القرآن»، «دعوة للتعايش»، «إني جاعل في الأرض خليفة» اور «الإيمان والعصر»۔ 3
انگریزی مضمون ان کے بعد کے کاموں میں 2014 کا ایک ناول «Rafi Barakat» بتاتا ہے۔ عربی مضمون اس کا ناشر «دار نہضة مصر» اور سال 2015 بتاتا ہے۔ دونوں تاریخیں مختلف ہیں اور استعمال سے پہلے جانچ کی ضرورت ہے۔ عربی مضمون مزید یہ کتابیں بھی درج کرتا ہے: «حياة الذاكرين: دليلك لتصفية الذهن والروح» (دار الرواق، 2020) اور «منازل الروح» (دار الرواق، 2021)۔ 1 3
ذاتی زندگی
وہ شادی شدہ ہیں اور ان کے دو بیٹے ہیں۔ مضمون ان کے نام نہیں لیتا، اور یہ عجائب گھر ان کے کام کو سمجھنے کے لیے ضروری حد سے زیادہ خاندانی تفصیلات شائع نہیں کرتا۔ 3
اثر و رسوخ
ماخذ بتاتے ہیں کہ ان کے پروگراموں کے ناظرین لاکھوں میں ہیں، اور ان کے یوٹیوب چینل کے ویوز کئی سو ملین ہیں۔ یہ اعداد مسلسل بدلتے ہیں، اس لیے عجائب گھر انہیں صرف تاریخ کے ساتھ درج کرتا ہے۔ 4
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Born in
- الإسكندرية
- Lived in
- القاهرة
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
احمد عصمت عبد المجید· جمال عبد الناصر· محمد مصطفی المراغی· قاسم امین· شکری القوتلی· یوسف شاہین· الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة
ماخذ
- Amr Khaled — English Wikipedia
- قائمة تايم المئة لعام 2007
- عمرو خالد — ويكيبيديا العربية
- Amr Khaled — Wikidata Q477480
- BBC Newsnight: 'Superstar Muslim preacher Amr Khaled battles Al-Qaeda' (7 Dec 2010)
- بي بي سي العربية: مجلة فوربز العربية: عمرو خالد أغنى نجوم الدعاة عربيا (24 فبراير 2008)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عمرو خالد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/amr-khaled/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.