نازلی فاضل

نازلي فاضل

–

إسطنبول → القاهرة → تونس

مصر کی علوی خاندان کی شہزادی (1853-1913)، مصطفیٰ فاضل پاشا کی بیٹی۔ 1880 کی دہائی سے انہوں نے قاہرہ کے اپنے محل میں عرب دنیا کے ان پہلے ادبی صالونوں میں سے ایک قائم کیا جن کی میزبانی کوئی خاتون کرتی تھی؛ اس کے شرکا میں محمد عبدہ، سعد زغلول اور قاسم امین شامل تھے۔ 1900 میں دوسری شادی کے بعد انہوں نے تیونس کے علاقے المرسى میں دوسرا صالون قائم کیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سرپرست
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · عبد الرزاق البيطار · أكبر إلهآبادي · علی حاجی اکوشا · الطاف حسین حالی

مکان میں

إسطنبولالقاهرةتونس

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نازلی زینب ہانم (1853-1913) مصر کی علوی خاندان کی شہزادی اور مصطفیٰ فاضل پاشا کی بیٹی تھیں؛ وہ ان اولین خواتین میں سے تھیں جنہوں نے عرب دنیا میں ادبی صالون کی روایت کو ازسرنو زندہ کیا۔ 1880 کی دہائی سے وہ قاہرہ کے اپنے محل «ویلا ہنری» میں صالون منعقد کرتی تھیں، جس کے شرکا میں محمد عبدہ، سعد زغلول اور قاسم امین شامل تھے۔ 1 2

    نشو و نما اور تعلیم

    وہ 1853 میں پیدا ہوئیں؛ فرانسیسی مضمون اور ویکی ڈیٹا ان کی جائے پیدائش قسطنطینیہ بتاتے ہیں جبکہ انگریزی مضمون قاہرہ کہتا ہے۔ 1866 میں، تیرہ سال کی عمر میں، وہ والد اور خدیو اسماعیل کے درمیان اختلاف کے بعد قسطنطینیہ چلی گئیں اور وہاں اپنے زمانے کے رواج کے برخلاف وسیع تعلیم حاصل کی۔ وہ ترکی، عربی، فرانسیسی اور انگریزی بولتی تھیں، اور عربی و فرانسیسی مضامین کے مطابق اطالوی اور جرمن بھی جانتی تھیں۔ 1 2 3

    صالون اور اثر

    اکتوبر 1872 میں ان کی شادی سفیر خلیل شریف پاشا سے ہوئی؛ 1879 میں ان کی وفات کے بعد وہ قاہرہ لوٹ آئیں اور عابدین محل کے قریب «ویلا ہنری» میں سکونت اختیار کی۔ وہاں ان کا صالون مصر کی فکری و سیاسی نخبہ کا مرکز بن گیا؛ وہ پردے کے بغیر مرد مہمانوں کا استقبال کرتی تھیں، جو اس دور کے رسم و رواج کے خلاف تھا۔ ان کے اصرار پر ہی لارڈ کرومر نے 1888 میں محمد عبدہ کی جلاوطنی سے واپسی کا انتظام کیا؛ انہوں نے سعد زغلول کو اپنا قانونی مشیر مقرر کیا اور فرانسیسی سیکھنے کی ترغیب دی، اور قاسم امین — جنہوں نے پہلے حجاب کا دفاع کیا تھا — ان کے حلقے میں آنے کے بعد اپنی رائے بدل کر «تحریر المرأۃ» لکھی، جو ان کے خرچ اور ان کی سرپرستی میں چھپی۔ 1 4

    تیونس، دوسری شادی اور وفات

    1896 اور 1899 میں انہوں نے تیونس کا سفر کیا؛ فرانسیسی حکام کو شبہ تھا کہ یہ سفر سلطان عبد الحمید دوم کے لیے کام کا بہانہ ہے۔ وہاں ان کی ملاقات نوجوان اہلکار خلیل بوحاجب سے ہوئی — انگریزی مضمون شادی کی تاریخ 22 اپریل 1900 اور فرانسیسی مضمون 1898 بتاتا ہے — اور وہ المرسى میں مقیم ہو گئیں، جہاں ان کا گھر تیونسی اہلِ دانش کا مرکز بن گیا۔ 13 اکتوبر 1913 کو گرنے کے بعد وہ قاہرہ منتقل کی گئیں اور 28 دسمبر 1913 کو وفات پا گئیں (فرانسیسی مضمون 12 دسمبر اور عربی مضمون 28 جنوری 1914 بتاتا ہے)؛ وہ قاہرہ میں مسجد امام شافعی کے قریب فاضل خاندان کے مقبرے میں دفن ہوئیں۔ 1 2 4

    حوالہ جات

    • انگریزی ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 1380998170)؛ عربی ویکیپیڈیا «نازلي فاضل» (نظرثانی 74032311)؛ فرانسیسی ویکیپیڈیا (نظرثانی 238028955)؛ ویکی ڈیٹا Q7244764۔
    • درج شدہ اختلافات: جائے پیدائش (قسطنطینیہ / قاہرہ)؛ تاریخِ وفات (28 دسمبر 1913 / 12 دسمبر 1913 / 28 جنوری 1914)؛ دوسری شادی کا سال (1898 / 1900)۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    إسطنبول
    Lived in
    القاهرة· تونس
    Died in
    القاهرة
    Influenced
    الشيخ محمد عبده· قاسم امین
    Patron of
    قاسم امین

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    قاسم امین· احمد لطفی سید· علی باش حانبہ· محمد مصطفی المراغی· سعید حلیم پاشا· شرف الدین مغمومی· طہ حسین· الشيخ محمد عبده

    ماخذ

    1. Nazli Fazil — English Wikipedia
    2. Nazli Fazl — French Wikipedia
    3. Nazli Fazl — Wikidata Q7244764
    4. Nazli Fazl — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نازلی فاضل”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nazli-fazl/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    قاسم امین

    مصری قاضی اور مصنف (1863–1908)، مصری قومی تحریک اور جامعہ قاہرہ کے بانیوں میں سے ایک؛ اپنی دو کتابوں «تحریر المرأة» (1899) اور «المرأة الجديدة» (1900) کے لیے مشہور، جن میں انہوں نے خواتین کی تعلیم، حجاب کے خاتمے اور شادی و طلاق کے قوانین کی اصلاح کی دعوت دی، اور جن پر آج تک بحث جاری ہے۔