ایک نظر میں
- کردار
- writer · literary-critic · academic · سیاست دان
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
طہ حسین (14 نومبر 1889 – 28 اکتوبر 1973) مصر کے سب سے بااثر ادیبوں اور دانشوروں میں سے ایک تھے، عرب نشاۃِ ثانیہ اور عرب دنیا کی جدیدیت پسند تحریک کے رہنما، جو «عمید الأدب العربی» (عربی ادب کے عمید) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ 1 2
انگریزی مضمون کے مطابق انہیں ادب کے نوبل انعام کے لیے اکیس بار نامزد کیا گیا۔ 1
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ بالائی مصر کی محافظتِ منیا کے ایک گاؤں عزبۃ الکیلو میں پیدا ہوئے — بریٹانیکا ان کی جائے پیدائش مغاغہ بتاتی ہے — اور تیرہ بہن بھائیوں میں ساتویں تھے؛ ان کے والدین متوسط طبقے کے مسلمان تھے۔ 1 2
ماخذ ان کے یومِ ولادت میں مختلف ہیں: انگریزی مضمون کا دیباچہ 15 نومبر 1889 دیتا ہے، جبکہ اس کا معلوماتی خانہ اور بریٹانیکا 14 نومبر دیتے ہیں، اور وکی ڈیٹا دونوں تاریخیں رکھتا ہے؛ یہ ریکارڈ 14 نومبر کو اختیار کرتا ہے اور اختلاف درج کرتا ہے۔ 1 2 3
دو برس کی عمر میں آشوبِ چشم اور ایک غیر ماہر معالج کی غلط تدبیر سے ان کی بینائی چلی گئی، جس نے ان کی ساری زندگی اور خودنوشت «الایام» پر گہرا اثر ڈالا۔ 1 2
گاؤں کے مکتب میں قرآن حفظ کرنے کے بعد وہ 1902 میں الازہر میں داخل ہوئے، جہاں دین اور عربی ادب پڑھا؛ عربی مضمون ان کے اساتذہ میں سید المرصفی، مصطفی المراغی، محمد بخیت اور محمد عبدہ کے نام لیتا ہے۔ 1 4
1908 میں جب سیکولر مصری یونیورسٹی کھلی تو وہ اس کے اولین طلبہ میں تھے، اور 1914 میں انہیں یونیورسٹی کی پہلی ڈاکٹریٹ ملی، جس کا مقالہ شاعر و فلسفی ابوالعلاء المعری پر تھا۔ 1 2
فرانس اور علمی زندگی
1914 میں یونیورسٹی نے انہیں مونپیلیے بھیجا؛ پھر پیرس کی سوربون سے انہیں 1917 میں ابنِ خلدون پر دوسری ڈاکٹریٹ ملی (عربی مضمون اسے 1918 بتاتا ہے)، اور وہیں سوزان بریسو ان کی قاریہ بنیں اور بعد میں ان کی شریکِ حیات ہوئیں۔ 1 4
1919 میں مصر لوٹ کر وہ جامعہ قاہرہ میں تاریخ، پھر عربی ادب کے استاد بنے، کلیۂ آداب کے پہلے مصری عمید ہوئے، جامعہ اسکندریہ کے بانی مدیر بنے، اور بعد میں مجمع اللغۃ العربیہ کے صدر بھی رہے۔ 1 2
«فی الشعر الجاہلی» کی بحث
ان کی کتاب «فی الشعر الجاہلی» (1926) نے شہرت کے ساتھ بڑا تنازع بھی کھڑا کیا: جدید تنقیدی اصولوں سے انہوں نے کہا کہ جاہلی کہلانے والا بیشتر شعر بعد کے مسلمانوں کا گھڑا ہوا ہے، اور یہ کہ جاہلی عربوں کی دینی زندگی کا سچا آئینہ اس شعر کی بجائے قرآن ہے۔ 1 4 2
الازہر کے علماء اور روایت پسندوں نے ان پر اسلام کی توہین کا الزام لگایا؛ بریٹانیکا کے مطابق ان پر ارتداد کا مقدمہ چلا مگر وہ سزا یاب نہ ہوئے، انگریزی مضمون کے مطابق سرکاری وکیل نے ان کے خیالات کو ایک علمی محقق کی رائے قرار دے کر کارروائی سے انکار کر دیا، اور عربی مضمون کے مطابق عدالت نے انہیں بری کر دیا۔ 1931 میں انہیں یونیورسٹی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور کتاب پر پابندی لگ گئی، پھر اگلے سال یہ ترمیم کے ساتھ «فی الأدب الجاہلی» کے نام سے چھپی۔ 2 1 4
وزیرِ معارف
1950 میں وہ شاہی دور کی آخری وفدی حکومت میں وزیرِ معارف بنے، مفت تعلیم اور ہر شخص کے تعلیم کے حق کی دعوت دی، سرکاری تعلیم کو وسیع کیا اور اسکولوں کی فیسیں ختم کر دیں؛ کئی قرآنی مدارس کو پرائمری اسکولوں میں اور کئی ثانوی اسکولوں کو کالجوں میں بدلا، اور کئی نئی یونیورسٹیوں کے قیام کا سہرا بھی انہیں جاتا ہے۔ 1 2
ایمان اور تعلق
یہ حصہ ماخذ میں درج باتیں پیش کرتا ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔
کوئی ماخذ طہ حسین کے لیے کوئی فقہی مکتب بیان نہیں کرتا، اس لیے ان کے ایمان کا بند «نامعلوم» رہتا ہے اور ماخذ کی باتیں جوں کی توں درج ہیں: انگریزی مضمون بتاتا ہے کہ وہ مسلمان والدین کے ہاں پیدا ہوئے، مکتب میں قرآن حفظ کیا اور الازہر میں دین پڑھا؛ عربی مضمون حجاز کے سفر میں ان کے اپنے الفاظ نقل کرتا ہے جن میں انہوں نے خود کو ان مسلمانوں میں شمار کیا جن کے دل مکہ و مدینہ کی طرف کھنچے جاتے ہیں۔ بریٹانیکا نے الازہر کو «سنی اعلیٰ تعلیم کا اولین مرکز» کہا ہے، جو ادارے کی صفت ہے، ان کے مکتب کی نہیں، اور وکی ڈیٹا ان کا دین صرف «اسلام» لکھتا ہے؛ اس لیے عجائب گھر کے دو ماخذ والے اصول کے تحت کوئی مکتب درج نہیں ہوتا۔ 1 4 2 3
کتابیں اور وفات
انہوں نے ساٹھ سے زائد کتابیں، جن میں چھ ناول شامل ہیں، اور تقریباً 1,300 مضامین چھوڑے۔ مغرب میں وہ اپنی خودنوشت «الایام» (1929–1967، تین جلدیں) سے سب سے زیادہ جانے جاتے ہیں، جسے بریٹانیکا مغرب میں سراہا جانے والا پہلا جدید عربی ادبی کارنامہ کہتی ہے۔ ان کی نمایاں کتابوں میں «فی الشعر الجاہلی» (1926)، «مستقبل الثقافۃ فی مصر» (1938) اور «الفتنۃ الکبری» (1947) شامل ہیں۔ 1 2
عربی مضمون کے مطابق مصری حکومت نے انہیں نوبل انعام کے لیے نامزد کیا، الجزائر (1964)، پالرمو (1965) اور میڈرڈ (1968) نے انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ دیں، اور 1965 میں انہیں قلادۃ النیل ملا۔ وہ 28 اکتوبر 1973 کو قاہرہ میں تریاسی برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ 4 1
ماخذ
- انگریزی ویکیپیڈیا مضمون «Taha Hussein» (نظرثانی 1380567331)؛ عربی ویکیپیڈیا مضمون «طہ حسین» (نظرثانی 76989454)؛ اردو ویکیپیڈیا مضمون «طہ حسین» (نظرثانی 9909485)؛ وکی ڈیٹا Q328765؛ بریٹانیکا مدخل «Ṭāhā Ḥusayn» (24 اکتوبر 2026 کو تازہ)۔
- درج شدہ اختلافات: یومِ ولادت 14 نومبر (بریٹانیکا، معلوماتی خانہ) بمقابلہ 15 نومبر (دیباچہ)؛ جائے پیدائش عزبۃ الکیلو بمقابلہ مغاغہ؛ ابنِ خلدون کی ڈاکٹریٹ 1917 بمقابلہ 1918؛ 1926 کے مقدمے کی تین روایات اوپر ماخذ کے مطابق درج ہیں۔
تعلقات
- Lived in
- القاهرة
- Died in
- القاهرة
- Studied under
- الشيخ محمد عبده
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
احمد لطفی سید· محمد مصطفی المراغی· نازلی فاضل· قاسم امین· الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)
ماخذ
- Taha Hussein — English Wikipedia
- Taha Hussein — Encyclopaedia Britannica
- Taha Hussein — Wikidata Q328765
- Taha Hussein — Arabic Wikipedia
- Taha Hussein — Urdu Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “طہ حسین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/taha-hussein/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.