ایک نظر میں
- کردار
- عالم · فقیہ · sufi · شاعر
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
sunni-hanafi (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ابو حامد احمد رضا خان بریلوی (10 شوال 1272ھ / 14 جون 1856ء – 28 اکتوبر 1921ء) ہندوستانی حنفی فقیہ، متکلم، محدث، شاعر اور قادری صوفی مرشد تھے، جنہیں جنوبی ایشیا میں بریلوی تحریک کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک عوامی تحریک ہے جو صوفیانہ روایت کا دفاع کرتی ہے، اور مضمون کے مطابق آج اس کے پیروکاروں کی تعداد ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ اور دنیا بھر کی جنوبی ایشیائی برادریوں میں بیس کروڑ سے زیادہ ہے۔ 1 2
انہوں نے وہابی، دیوبندی اور اہلِ حدیث تحریکوں اور احمدیہ جماعت کے خلاف اپنے عقائد کے دفاع میں بڑے پیمانے پر لکھا، اور ان کی تحریریں بریلوی تحریک کی بنیاد بنیں۔ ان کی مشہور ترین تصانیف تیس جلدوں پر مشتمل «فتاویٰ رضویہ» اور قرآن کا اردو ترجمہ «کنز الایمان» (1911ء) ہیں۔ 2 1
زندگی اور تعلیم
وہ بریلی کے محلہ جاسولی میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان بریچ پشتون قبیلے سے تھا، جس کے بزرگ قندھار سے لاہور آئے اور پھر بریلی میں آباد ہوئے۔ ان کے والد نقی علی خان عالم تھے اور فتاویٰ و تصانیف کے مصنف تھے، اور دادا رضا علی خان بریلی کے بڑے علماء میں سے تھے، پس ان کی پرورش علم و تصوف کے گھرانے میں ہوئی۔ 1 2
انہوں نے ابتدائی کتب میرزا غلام قادر بیگ سے پڑھیں، پھر اپنے والد سے تعلیم مکمل کی اور 1286ھ میں تیرہ برس کی عمر میں ان سے فارغ التحصیل ہوئے۔ والد نے انہیں افتاء کی ذمہ داری سونپی، اور وہ برسوں اپنے فتاویٰ والد کو اصلاح کے لیے دکھاتے رہے، پھر انہیں مستقل طور پر فتویٰ دینے کی اجازت ملی۔ 1294ھ (1877ء) میں وہ شاہ آلِ رسول ماریہروی کے مرید ہوئے، جنہوں نے انہیں کئی صوفی سلاسل میں خلافت عطا کی۔ 2 1
بریلوی تحریک اور آثار
ان کی کتب و سرگرمیوں سے بریلوی تحریک قائم ہوئی، جو ابتدا میں زیادہ تر دیہی تحریک تھی، پھر پاکستان و ہندوستان کے شہری تعلیم یافتہ طبقے اور دنیا بھر کی جنوبی ایشیائی برادریوں میں پھیلی۔ 1904ء میں انہوں نے بریلی میں مدرسہ «منظر الاسلام» قائم کیا، اور 17 دسمبر 1920ء کو «جماعت رضاے مصطفیٰ» کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد اہلِ سنت و جماعت کی ترقی، اتحاد اور دینی تعلیم تھا۔ 1
انہوں نے عربی، فارسی اور اردو میں سینکڑوں کتب و رسائل لکھے۔ «فتاویٰ رضویہ» ان کی سب سے بڑی تصنیف ہے: تیس جلدیں اور تقریباً 22,000 صفحات، جن میں دین سے تجارت اور جنگ سے شادی تک کے مسائل کے جوابات ہیں۔ «حسام الحرمین» (1906ء) میں انہوں نے دیوبندی، اہلِ حدیث اور احمدیہ تحریکوں کے بانیوں پر کفر کا فتویٰ دیا، جس کی تائید میں جنوبی ایشیا کے 268 علماء اور مکہ و مدینہ کے بعض علماء کے دستخط حاصل کیے۔ ان کے نعتیہ دیوان «حدائقِ بخشش» کی نظم «مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام» دنیا بھر کی مساجد میں پڑھی جاتی ہے۔ 1
ان کے مخالفین، خصوصاً دیوبندی علماء، کا کہنا ہے کہ حجاز کے علماء کو پیش کیے گئے شواہد من گھڑت تھے اور ان پر تکفیر ناانصافی تھی؛ اس کے بعد بریلوی اور دیوبندی علماء کے درمیان فتاویٰ کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ یہ مواقف ماخذوں کی نقل ہیں، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔ 1
وفات و ورثہ
وہ 28 اکتوبر 1921ء (25 صفر 1340ھ) کو 65 برس کی عمر میں وفات پا گئے اور بریلی شریف درگاہ میں دفن ہیں، جہاں ان کے پیروکار ہر سال صفر کے مہینے میں ان کے عرس پر جمع ہوتے ہیں۔ ان کے بعد ان کے بیٹے حامد رضا خان اور پھر مصطفیٰ رضا خان ان کے جانشین ہوئے۔ برصغیر میں ہزاروں مدارس ان کے مکتبِ فکر کی تعلیم دیتے ہیں، اور حکومتِ ہند نے 31 دسمبر 1995ء کو ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Taught
- عبد العلیم صدیقی
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
قادریہ طریقہ· شاہ احمد نورانی· المدينة المنورة· عبد العلیم صدیقی
ماخذ
- Ahmed Raza Khan Barelvi — English Wikipedia
- أحمد رضا خان — ويكيبيديا العربية
- Ahmed Raza Khan Barelvi — Wikidata Q3629485
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “احمد رضا خان بریلوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-raza-khan-barelvi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.