عبد العلیم صدیقی

عبد العليم صديقي

–

المدينة المنورة

عالم اور مبلغ (1892ء–1954ء)، میرٹھ میں پیدا ہوئے اور مدینہ منورہ میں وصال ہوا، جنت البقیع میں مدفون ہیں۔ احمد رضا خان بریلوی کے شاگرد اور سلسلہ قادریہ رضویہ میں ان کے خلیفہ تھے؛ چالیس برس دنیا بھر میں تبلیغ کی، 1932ء میں آل ملایا مسلم مشنری سوسائٹی (سنگاپور) اور 1950ء میں ٹرینیڈاڈ میں ورلڈ اسلامک مشن کی بنیاد رکھی۔ مولانا شاہ احمد نورانی کے والد تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · واعظ · mystic
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس محمود العقاد · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد القادر حاج علی

مکان میں

المدينة المنورة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد عبد العلیم صدیقی قادری (3 اپریل 1892ء – 22 اگست 1954ء) ایک محدث اور عالم دین ہیں اور مولانا شاہ احمد نورانی کے والد ہیں۔1 انگریزی مضمون کے مطابق ان کا تعلق بریلوی مکتبِ فکر سے تھا، وہ قادری طریقے کے روحانی پیشوا اور احمد رضا خان بریلوی کے شاگرد تھے۔2 ان کے بیٹے شاہ احمد نورانی کا فی الحال عجائب گھر میں کوئی ریکارڈ نہیں، اس لیے اس رشتے کا ذکر صرف متن میں کیا گیا ہے۔

    ابتدائی زندگی و تعلیم

    حافظ محمد عبد العلیم صدیقی میرٹھی 15 رمضان 1310ھ بمطابق 3 اپریل 1892ء کو میرٹھ (یوپی) میں پیدا ہوئے، اردو مضمون یہی دیتا ہے۔1 تاہم یہ ہجری اقتران شمار سے مطابقت نہیں رکھتا: 3 اپریل 1892ء رمضان 1309ھ میں پڑتا ہے، اور عربی مضمون کا زمرہ بھی سنہ ولادت 1309ھ ہی دیتا ہے۔3 ان کے والد مولانا عبد الحکیم صدیقی اپنے وقت کے مجتہد مانے جاتے تھے؛ عبد العلیم صدیقی نے ابتدائی تعلیم میرٹھ میں حاصل کی، درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد میرٹھ کالج سے قانون اور تقابلِ ادیان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اور تیرہ زبانوں پر عبور حاصل کیا۔12

    بیعت و خلافت

    محمد عبد العلیم صدیقی قادری بہت کم عمری میں احمد رضا خان بریلوی کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو گئے اور ان سے خلافت حاصل کی۔1 انگریزی مضمون کے مطابق وہ سلسلہ قادریہ رضویہ میں ان کے مرید ہوئے اور ان سے خلافت ملی، اور سید ظفر الدین شاہ بہاری اور مفتی دیدار علی شاہ الوری سے بھی مختلف سلاسل کی خلافت حاصل کی۔2

    تصانیف

    ان کی بعض تصانیف «احکام شریعت»، «تحفہ مدینہ»، «ظفر الدین» (930 صفحات)، «برکات شریعت» حصہ اول و دوم، «معراج نامہ»، «نالہ درد» (نعتیہ دیوان)، «ذکر حبیب» (نعتیہ دیوان)، «کلام رضا» (مجموعہ نعت) اور «ہدیہ و تحفۂ وابیہ» (330 صفحات) ہیں۔1

    دعوتی سرگرمیاں

    انھوں نے 1918ء میں مشرقی اور جنوبی افریقہ کا سفر کیا، 1932ء میں ملایا مسلم مشنری سوسائٹی کی بنیاد ڈالی اور سنگاپور میں پہلی مسجد (عبد العلیم صدیق مسجد) بنوائی؛ 1933ء اور 1950ء میں ٹرینیڈاڈ گئے، 1939ء میں کینیڈا پہنچے اور 1948ء میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر میں عالمی مسلم کانگریس کے نمائندہ وفد میں شریک ہوئے، اور 1950ء میں ٹرینیڈاڈ میں عالمی مسلم مشن کا آغاز کیا۔13

    وصال

    ان کا انتقال 22 اگست 1954ء بروز اتوار کو مدینہ منورہ میں ہوا اور انھیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔1 عربی مضمون کے مطابق وفات 22 ذی الحجہ 1373ھ کو ہوئی اور تدفین بقیع میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور امہات المؤمنین کی قبروں کے قریب ہوئی۔3

    حوالہ جات

    {1} {2} {3} {4}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Studied under
    احمد رضا خان بریلوی
    Member of
    قادریہ طریقہ
    Died in
    المدينة المنورة
    Buried in
    المدينة المنورة
    Parent of
    شاہ احمد نورانی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد القبلتين· المسجد النبوي· حرم المدينة· اليهودية في جزيرة العرب قبل الإسلام· المجتمع في المدينة عند الهجرة· آطام يثرب· إعادة الخطبة العباسية بالحرمين سنة 479· إمامة أبي بكر في مرض النبي

    ماخذ

    1. Abdul Aleem Siddiqi — Urdu Wikipedia
    2. Abdul Aleem Siddiqi — English Wikipedia
    3. Abdul Aleem Siddiqi — Arabic Wikipedia
    4. Abdul Aleem Siddiqi — Wikidata Q6777232
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبد العلیم صدیقی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdul-aleem-siddiqui/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد القبلتين

    The Banu Salama mosque of Medina, named 'of the two qiblas' because the qibla was turned in it: Ibn Zabala reports that a man of Banu Salama reached them at dawn prayer with word of the change and they turned mid-prayer to the Kaaba — while al-Zamakhshari and the sira tradition make the change fall at zuhr when the Prophet had prayed two rak'as with his Companions, then turned to face the Mizab, the men and women exchanging places; Ibn Hajar reconciles the reports, and al-Majd notes that on Ibn Zabala's version Quba mosque would better deserve the name. Ibn Zabala ascribes the mosque to Banu Sawad ibn Ghanm of Banu Salama by al-Midhad, against al-Matari's ascription to Banu Haram.