حسن تقی زادہ

حسن تقي زاده

–

تبريز

تبریز کے ایرانی سیاست دان اور عالم (1878–1970): ایک سید زادے جنہوں نے ملا کی تربیت پائی، پھر نمایاں آئینی نائب، ایران کی ڈیموکریٹک پارٹی کے بانی، برلن جلاوطنی میں «کاوہ» کے مدیر، اور بعد میں وزیرِ خزانہ، سفیر اور سینیٹ کے صدر بنے؛ قدیم ایرانی تقاویم پر ان کی تحقیقات آج بھی مرجع ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · عالم · writer
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: محمد طاہر بن عاشور · علی المیرغنی · عبد الحمید خان بھاشانی · علاؤالدین خان · محمد الصالح بن مراد

مکان میں

تبريز

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سید حسن تقی زادہ (27 ستمبر 1878 – 28 جنوری 1970) تبریز کے ایرانی سیاست دان، سفارت کار اور عالم تھے جن کا ستر سالہ سفر آئینی انقلاب سے سینیٹ کی صدارت تک پھیلا ہوا تھا، اور قدیم ایرانی تقاویم پر ان کی تحقیقات آج بھی مرجع ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعليم

    وہ تبریز میں 30 رمضان 1295 (27 ستمبر 1878) کو سید تقی اردوبادی کے ہاں پیدا ہوئے، جو حسینی سید اور نمایاں عالم تھے، نجف میں شیخ مرتضیٰ انصاری سے پڑھے تھے اور برسوں تبریز میں امامِ نماز رہے۔ بیٹے نے پانچ سال کی عمر میں قرآن مکمل کیا، روایتی دینی مدارس میں اس حد تک ترقی کی کہ تقلید کی حاجت نہ رہی، اور عقلی علوم کی طرف متوجہ ہوئے: 1893 سے 1901 تک کلاسیکی و جدید طب، طبیعیات اور تشریح پڑھی، ایک شیخی عالم کے پاس شیخ احمد احسائی کی کتابیں پڑھیں، والد کی خواہش کے خلاف خفیہ فرانسیسی سیکھی، اور تبریز کے امریکی اسکول میں دو سال انگریزی پڑھی۔ 2 1

    1898 سے انہوں نے طبیعیات پڑھائی، محمد علی تربیت کے ساتھ دواخانہ اور لیتوگرافی چھاپہ خانہ چلایا، اپنی حلقہ کے ساتھ «تربیت» کتب خانہ اور اسکول منصوبے قائم کیے، 1903-04 میں «گنجینۂ فنون» جریدہ نکالا، اور 1904-05 میں قفقاز، استنبول، مصر اور بیروت کا سفر کر کے قاہرہ کے اخبار «حکمت» میں ایران کے احوال پر اپنا رسالہ شائع کیا۔ 2 1

    آئینی سال

    1906 میں تبریز کے تاجروں نے انہیں پہلی مجلس کا نائب منتخب کیا اور وہ اس کے نمایاں خطیبوں میں شامل ہو گئے۔ جب جون 1908 میں محمد علی شاہ کی بغاوت نے مجلس بند کی تو انہوں نے برطانوی سفارت خانے میں پناہ لی اور انگلستان پہنچے، جہاں ایڈورڈ گرانویل براؤن کے ساتھ آئین نوازوں کے لیے حمایت جٹائی۔ 1909 میں انہوں نے ایران کی ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد کی رہنمائی کی اور دوسری مجلس میں اس کے دھڑے کی قیادت کی، جہاں دین و سیاست کی علیحدگی کے دفاع پر نجف کی حوزہ سے ان کے «سیاسی فساد» کا فرمان آیا، جیسا کہ ایرانیکا کا مدخل درج کرتا ہے اور فارسی مضمون ڈیموکریٹوں اور ان کے قائد کے خلاف فتوے کی روایت سے تصدیق کرتا ہے۔ 2 3 1

    جلاوطنی، «کاوہ» اور واپسی

    1910 میں وہ ایران چھوڑ کر قسطنطنیہ اور یورپ گئے، جون 1913 سے انیس ماہ نیویارک رہے، اور جنوری 1915 میں برلن پہنچے جہاں ساتھی جلاوطنوں کے ساتھ بااثر جریدہ «کاوہ» (1916-1922) نکالا جو قومی خودمختاری اور سیکولر و تعلیمی اصلاح پر زور دیتا تھا۔ 1922 میں ماسکو میں مذاکرات کیے، 1923 میں ایک جرمن شہری سے شادی کی، اور جولائی 1924 میں ایران واپس آئے۔ 1

    پہلوی عشرے

    رضا شاہ اور محمد رضا شاہ کے ادوار میں وہ مسلسل مجالس کے نائب، خراسان کے گورنر جنرل (1928)، لندن میں وزیر مختار (1929)، سڑکوں و مواصلات کے وزیر (1930) اور وزیرِ خزانہ (1930-1933) رہے، جس دوران 1933 کی تیل رعایت کی توسیع میں حصہ لیا جسے بعد میں مجلس میں انہوں نے ایسا امر کہا جس میں ان کے دستخط ناگزیر تھے۔ انہوں نے لندن کے اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز اور کیمبرج میں پڑھایا، 1941 سے برطانیہ میں سفیر رہے، 1946 میں آذربائیجان مسئلے پر اقوامِ متحدہ میں ایران کے وفد کی صدارت کی، اور 1949 سے سینیٹ میں بیٹھے اور طویل عرصہ اس کے صدر رہے؛ فارسی مضمون کے مطابق وہ 1967 میں کام سے کنارہ کشی تک سینیٹر رہے۔ ان کی علمی پیداوار ساتھ ساتھ جاری رہی: «قدیم ایرانی تقاویم» (1938)، مانویت اور تقویم پر مطالعات، اور خود نوشت سوانح جسے انہوں نے «زندگیِ طوفانی» یعنی طوفانی زندگی کا نام دیا۔ 1 3

    وہ 28 جنوری 1970 کو تہران میں وفات پائے؛ جنازہ سپہ سالار مسجد سے اٹھا اور ظہیر الدولہ قبرستان میں دفن ہوئے۔ 3 2

    مصادر

    • اوپر مذکور معرّفہ مصادر کے ادارے، data/source/ میں درج۔
    • اس مضمون کی نظرثانیاں مؤرخ ہونی چاہئیں، اور ہر واقعہ بدلنے والے مصدر کا نام لینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    تبريز

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ملك البهلوان مدينة تبريز· ملك جلال الدين أذربيجان· عود جلال الدين إلى تبريز وملكه كنجة· احمد شاہ قاجار· باقر خان· ایرج میرزا· محمد علی شاہ قاجار· شیخ محمد خیابانی

    ماخذ

    1. Hassan Taqizadeh — English Wikipedia
    2. Hassan Taqizadeh — Encyclopaedia Iranica
    3. Hassan Taqizadeh — Persian Wikipedia
    • Hassan Taqizadeh — Wikidata Q957476
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حسن تقی زادہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hassan-taqizadeh/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ملك البهلوان مدينة تبريز

    Muḥammad al-Bahlawān ibn Īldigiz took Tabrīz in Azerbaijan, succeeding his father's hold on it and its dependencies.