أمين الحسيني

أمين الحسيني

–

القدس

Palestinian Arab nationalist and Muslim leader (c. 1897–1974) who served as Grand Mufti of Jerusalem from 1921 to 1937, led the Arab Higher Committee, spent the Second World War in Axis Europe, and remained a central, contested figure in Palestinian politics until 1948 and after.

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · سیاست دان
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحمید خان بھاشانی · عبد الماجد دریابادی · شیخ عبد المجید سندھی · عبد الله الموسوي الشيرازي · فوزي القاوقجي

مکان میں

القدس

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد امین الحسینی (تقریباً 1897ء–1974ء) انتدابی فلسطین کے فلسطینی عرب قوم پرست اور مسلمان رہنما تھے: 1921ء سے 1937ء تک یروشلم کے مفتی اعظم، سپریم مسلم کونسل کے صدر، اور 1936ء–1939ء کی بغاوت کے دوران عرب ہائر کمیٹی کے رہنما۔ انگریزی مقالہ انھیں ایک نہایت متنازع شخصیت قرار دیتا ہے اور درج کرتا ہے کہ مورخین اس پر اختلاف رکھتے ہیں کہ صیہونیت سے ان کی شدید مخالفت قوم پرستی پر مبنی تھی یا یہود دشمنی پر، یا دونوں پر 1 2.

    ابتدائی زندگی

    وہ یروشلم میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد طاہر الحسینی شہر کے مفتی تھے اور ان کے سوتیلے بھائی کامل نے بھی یہ عہدہ سنبھالا۔ ان کا سنِ پیدائش غیر یقینی ہے: انگریزی مقالہ مطر کے حوالے سے لکھتا ہے کہ انھوں نے خود سرکاری دستاویزات میں 1895ء اور 1896ء دونوں لکھے، مجوزہ تاریخیں 1893ء سے 1897ء تک ہیں، اور مقالہ تقریباً 1897ء اختیار کرتا ہے؛ عربی مقالہ اور ویکی ڈیٹا 1895ء دیتے ہیں۔ انھوں نے یروشلم میں تعلیم پائی اور 1912ء میں قاہرہ جا کر جامعہ الازہر اور رشید رضا کے دار الدعوۃ والارشاد میں مختصر مدت تعلیم حاصل کی۔ پہلی عالمی جنگ میں وہ عثمانی فوج میں رہے اور پھر یروشلم واپس آئے 1 3 2.

    مفتی اور بغاوت

    1920ء کے نبی موسیٰ فسادات میں ان کے کردار پر سزا کے بعد معافی ملی، اور 1921ء میں ہائی کمشنر ہربرٹ سیموئل نے انھیں یروشلم کا مفتی اعظم مقرر کیا؛ وہ 1937ء تک اس عہدے پر رہے اور سپریم مسلم کونسل کی صدارت کی۔ 1937ء میں عرب ہائر کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے 1936ء–1939ء کی بغاوت کی قیادت پر برطانوی گرفتاری سے بچ کر وہ لبنان اور پھر عراق گئے، جہاں انھوں نے 1941ء کی رشید علی بغاوت کی حمایت کی 1 2.

    جنگ کے سال اور اس کے بعد

    عراق سے وہ فاشسٹ اٹلی اور پھر نازی جرمنی گئے، جہاں انگریزی مقالے کے مطابق انھوں نے دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانیہ کے خلاف جرمن حکومت سے تعاون کیا، عرب آزادی کی حمایت اور فلسطین میں یہودی قومی وطن کی مخالفت کے لیے اڈولف ہٹلر سے ملاقات کی، اور پروپیگنڈا نشریات اور جرمن حمایت یافتہ یونٹوں کی بھرتی میں حصہ لیا؛ مقالہ ہولوکاسٹ کے بارے میں ان کے علم و کردار اور ان کے مقاصد پر تاریخی اختلاف کو تفصیل سے اور نسبت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ جنگ کے بعد وہ فرانس میں زیرِ حراست رہے، قاہرہ فرار ہوئے، 1947ء کے تقسیم منصوبے کی مخالفت کی، 1948ء کی جنگ کے لیے جیش الجہاد المقدس کھڑا کیا اور غزہ میں ستمبر 1948ء کی کل فلسطین حکومت میں شریک ہوئے۔ وہ 4 جولائی 1974ء کو بیروت میں انتقال کر گئے اور وہیں دفن ہوئے، کیونکہ اسرائیل نے حرم شریف میں تدفین کی اجازت نہیں دی 2 1.

    عقیدہ

    کوئی دو آزاد متن ان کے لیے ذاتی طور پر کوئی مسلک نہیں بتاتے: انگریزی مقالے کا معلوماتی خانہ سنی اور حنفی دیتا ہے، عربی مقالہ انھیں «حنفیہ» کے زمرے میں رکھتا ہے، اور ویکی ڈیٹا اسلام دیتا ہے۔ مفتی کا عہدہ ایک منصب ہے، اثبات نہیں، اور ان کے استاد کا مسلک ان کی شہادت نہیں۔ اس لیے ان کا عقیدہ نامعلوم درج کیا گیا ہے 1 2 4.

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القدس
    Studied under
    السيد محمد رشيد رضا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    المسجد الأقصى· الحرم القدسي الشريف· قبة الصخرة· مسجد عمر· حائط البراق (الحائط الغربي)· إحراق المسجد الأقصى (1969)· حملة أتسز بن أوق على الشام· اضطرابات حائط البراق (1929)

    ماخذ

    1. Amin al-Husseini — Urdu Wikipedia
    2. Amin al-Husseini — English Wikipedia
    3. Amin al-Husseini — Arabic Wikipedia
    4. Amin al-Husseini — Wikidata Q164745
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “أمين الحسيني”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/amin-al-husseini/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    المسجد الأقصى

    The Aqsa mosque on Jerusalem's south-east corner as al-Muqaddasi saw it: Davidic foundations of ten-cubit carved blocks, Abd al-Malik's superstructure 'finer than the Damascus mosque' until an Abbasid-era earthquake felled the roofed part save the mihrab; too costly for the treasury, the caliph had each provincial amir rebuild one arcade — leaving a visible 'seam' — and Abdallah ibn Tahir added fifteen marble arcades; twenty-six doors, the greatest plated in gilded brass, the domes of the Chain, the Ascension and the Prophet on its platform.