ایک نظر میں
- کردار
- عالم · سیاست دان
- خطہ
- levant-iraq
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
محمد امین الحسینی (تقریباً 1897ء–1974ء) انتدابی فلسطین کے فلسطینی عرب قوم پرست اور مسلمان رہنما تھے: 1921ء سے 1937ء تک یروشلم کے مفتی اعظم، سپریم مسلم کونسل کے صدر، اور 1936ء–1939ء کی بغاوت کے دوران عرب ہائر کمیٹی کے رہنما۔ انگریزی مقالہ انھیں ایک نہایت متنازع شخصیت قرار دیتا ہے اور درج کرتا ہے کہ مورخین اس پر اختلاف رکھتے ہیں کہ صیہونیت سے ان کی شدید مخالفت قوم پرستی پر مبنی تھی یا یہود دشمنی پر، یا دونوں پر 1 2.
ابتدائی زندگی
وہ یروشلم میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد طاہر الحسینی شہر کے مفتی تھے اور ان کے سوتیلے بھائی کامل نے بھی یہ عہدہ سنبھالا۔ ان کا سنِ پیدائش غیر یقینی ہے: انگریزی مقالہ مطر کے حوالے سے لکھتا ہے کہ انھوں نے خود سرکاری دستاویزات میں 1895ء اور 1896ء دونوں لکھے، مجوزہ تاریخیں 1893ء سے 1897ء تک ہیں، اور مقالہ تقریباً 1897ء اختیار کرتا ہے؛ عربی مقالہ اور ویکی ڈیٹا 1895ء دیتے ہیں۔ انھوں نے یروشلم میں تعلیم پائی اور 1912ء میں قاہرہ جا کر جامعہ الازہر اور رشید رضا کے دار الدعوۃ والارشاد میں مختصر مدت تعلیم حاصل کی۔ پہلی عالمی جنگ میں وہ عثمانی فوج میں رہے اور پھر یروشلم واپس آئے 1 3 2.
مفتی اور بغاوت
1920ء کے نبی موسیٰ فسادات میں ان کے کردار پر سزا کے بعد معافی ملی، اور 1921ء میں ہائی کمشنر ہربرٹ سیموئل نے انھیں یروشلم کا مفتی اعظم مقرر کیا؛ وہ 1937ء تک اس عہدے پر رہے اور سپریم مسلم کونسل کی صدارت کی۔ 1937ء میں عرب ہائر کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے 1936ء–1939ء کی بغاوت کی قیادت پر برطانوی گرفتاری سے بچ کر وہ لبنان اور پھر عراق گئے، جہاں انھوں نے 1941ء کی رشید علی بغاوت کی حمایت کی 1 2.
جنگ کے سال اور اس کے بعد
عراق سے وہ فاشسٹ اٹلی اور پھر نازی جرمنی گئے، جہاں انگریزی مقالے کے مطابق انھوں نے دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانیہ کے خلاف جرمن حکومت سے تعاون کیا، عرب آزادی کی حمایت اور فلسطین میں یہودی قومی وطن کی مخالفت کے لیے اڈولف ہٹلر سے ملاقات کی، اور پروپیگنڈا نشریات اور جرمن حمایت یافتہ یونٹوں کی بھرتی میں حصہ لیا؛ مقالہ ہولوکاسٹ کے بارے میں ان کے علم و کردار اور ان کے مقاصد پر تاریخی اختلاف کو تفصیل سے اور نسبت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ جنگ کے بعد وہ فرانس میں زیرِ حراست رہے، قاہرہ فرار ہوئے، 1947ء کے تقسیم منصوبے کی مخالفت کی، 1948ء کی جنگ کے لیے جیش الجہاد المقدس کھڑا کیا اور غزہ میں ستمبر 1948ء کی کل فلسطین حکومت میں شریک ہوئے۔ وہ 4 جولائی 1974ء کو بیروت میں انتقال کر گئے اور وہیں دفن ہوئے، کیونکہ اسرائیل نے حرم شریف میں تدفین کی اجازت نہیں دی 2 1.
عقیدہ
کوئی دو آزاد متن ان کے لیے ذاتی طور پر کوئی مسلک نہیں بتاتے: انگریزی مقالے کا معلوماتی خانہ سنی اور حنفی دیتا ہے، عربی مقالہ انھیں «حنفیہ» کے زمرے میں رکھتا ہے، اور ویکی ڈیٹا اسلام دیتا ہے۔ مفتی کا عہدہ ایک منصب ہے، اثبات نہیں، اور ان کے استاد کا مسلک ان کی شہادت نہیں۔ اس لیے ان کا عقیدہ نامعلوم درج کیا گیا ہے 1 2 4.
تعلقات
- Born in
- القدس
- Studied under
- السيد محمد رشيد رضا
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
المسجد الأقصى· الحرم القدسي الشريف· قبة الصخرة· مسجد عمر· حائط البراق (الحائط الغربي)· إحراق المسجد الأقصى (1969)· حملة أتسز بن أوق على الشام· اضطرابات حائط البراق (1929)
ماخذ
- Amin al-Husseini — Urdu Wikipedia
- Amin al-Husseini — English Wikipedia
- Amin al-Husseini — Arabic Wikipedia
- Amin al-Husseini — Wikidata Q164745
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “أمين الحسيني”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/amin-al-husseini/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.