فوزي القاوقجي

فوزي القاوقجي

–

طرابلس الشام

Arab military officer (1890–1977) from Tripoli who served in the Ottoman, Syrian and Iraqi armies and commanded the Arab Liberation Army in Palestine in 1948.

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
جرنیل
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: شیخ عبد المجید سندھی · محمد ادریس سنوسی · محمد الصالح بن مراد · عزير كول البشاوري · خان عبد الغفار خان

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    فوزی القاوقجی (1890–1977) طرابلس سے تعلق رکھنے والے ایک عرب فوجی افسر تھے جنہوں نے یکے بعد دیگرے عثمانی، سوری اور عراقی فوجوں میں خدمات انجام دیں، فرانسیسی اور برطانوی مینڈیٹ کے خلاف بغاوتوں میں لڑے، اور 1948 میں فلسطین میں عرب لبریشن آرمی کی قیادت کی 1 2۔

    زندگی اور کیریئر

    وہ 19 جنوری 1890 کو طرابلس الشام میں، جو اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھی، ایک ترکمان خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد ایک عثمانی افسر تھے۔ انہوں نے 1912 میں استنبول کی فوجی اکیڈمی سے گھڑسوار افسر کی حیثیت سے گریجویشن کیا، پہلی جنگِ عظیم میں عراق اور بئر سبع میں برطانویوں کے خلاف لڑے، اور جنگ کے بعد دمشق میں شاہ فیصل کی خدمت کی اور 1920 میں میسلون میں لڑے 1 2۔

    فرانسیسی مینڈیٹ کے تحت وہ سوری لشکر میں شامل ہوئے، فرانس میں مزید تربیت حاصل کی، اور حماہ میں گھڑسوار دستے کی قیادت کی، جہاں انہوں نے عظیم سوری بغاوت کے دوران اکتوبر 1925 کی بغاوت میں حصہ لیا؛ جلاوطنی کے بعد 1928 میں انہیں عام معافی ملی۔ اس کے بعد انہوں نے حجاز میں شاہ عبد العزیز کی اور 1932 سے عراق میں شاہ فیصل کی خدمت کی۔ 1936 میں انہوں نے اپنی عراقی کمیشن سے استعفا دیا اور فلسطین کی بغاوت کے دوران عرب رضاکاروں کی قیادت کرتے ہوئے وہاں گئے، نابلس–طولکرم–جنین مثلث میں کمان سنبھالی اور اسی سال کے آخر میں واپس چلے گئے 1۔

    1941 میں انہوں نے عراق میں رشید علی بغاوت کے دوران دوبارہ برطانویوں سے جنگ کی اور شدید زخمی ہوئے۔ دوسری جنگِ عظیم کا بقیہ عرصہ انہوں نے جرمنی میں گزارا، جہاں، انگریزی مضمون کے مطابق، انہیں ویرماخت میں کرنل کا عہدہ دیا گیا اور ان کا نام اور شہرت جرمن پروپیگنڈے میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوئی؛ مضمون گلبرٹ اشقر کے توسط سے ان کی یادداشتوں سے یہ بھی بیان کرتا ہے کہ جرمنوں نے ان پر وفاداری کے اعلان کے لیے دباؤ ڈالا اور انہوں نے انکار کر دیا۔ 1945 میں سوویت افواج نے انہیں گرفتار کیا اور 1947 میں رہا کر دیا گیا 1۔

    مارچ 1948 میں وہ عرب لیگ کی عرب لبریشن آرمی کے سربراہ کی حیثیت سے فلسطین میں داخل ہوئے اور زیادہ تر شمال میں لڑے؛ ان کی مہم یروشلم کے گرد امین الحسینی کی افواج کے ساتھ رقابت سے عبارت تھی۔ ان کا انتقال 5 جون 1977 کو بیروت میں ہوا 1۔

    عقیدہ

    یہاں جن مآخذ کی پیروی کی گئی ہے ان میں سے کوئی بھی ان کے لیے ذاتی طور پر کسی مسلک یا سلسلے کا نام نہیں لیتا: انگریزی مضمون میں کوئی مذہب بیان نہیں ہوا، اور عربی مضمون کے انفو باکس میں ان کا مذہب اسلام درج ہے جبکہ مسلک اور سلسلے کے خانے خالی ہیں۔ لہٰذا ان کی وابستگی نامعلوم درج ہے 1 2۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    طرابلس الشام

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    طرابلس الشام

    ماخذ

    1. Fawzi al-Qawuqji — English Wikipedia
    2. Fawzi al-Qawuqji — Arabic Wikipedia
    • Fawzi al-Qawuqji — Wikidata Q930186
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فوزي القاوقجي”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fawzi-al-qawuqji/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    طرابلس الشام