ایک نظر میں
- کردار
- سائنس دان · سیاست دان
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
سنی (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ابو بکر زین العابدین عبد الکلام (15 اکتوبر 1931 – 27 جولائی 2015) بھارتی ایرو اسپیس سائنس دان اور سیاست دان تھے، جنہوں نے 2002 سے 2007 تک بھارت کے گیارہویں صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، اور میزائل و لانچ وہیکل ٹیکنالوجی پر اپنے کام کی وجہ سے «بھارت کے میزائل مین» اور اپنی مقبولیت کی وجہ سے «عوام کے صدر» کہلائے۔ 1 2
انہوں نے چار دہائیوں تک DRDO اور اسرو میں سائنس دان و سائنس ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کیا، 1998 کے پوکھران-II جوہری تجربات میں مرکزی تنظیمی، تکنیکی و سیاسی کردار ادا کیا، اور 1997 میں بھارت کا سب سے بڑا شہری اعزاز بھارت رتن پایا۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
کلام رامیشورم میں ایک غریب تمل مسلم خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد زین العابدین ماراکایار کشتی کے مالک اور مقامی مسجد کے امام تھے، جو اپنی کشتی سے ہندو یاتریوں کو دھنوشکوڈی لے جایا کرتے تھے، اور والدہ اشیاما گھریلو خاتون تھیں؛ وہ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اور بچپن میں اخبار تقسیم کر کے خاندان کی مدد کرتے تھے۔ 2 3
ان کے اساتذہ انہیں روشن و محنتی طالب علم بتاتے تھے؛ انہوں نے راماناتھاپورم کے شوارتز ہائر سیکنڈری اسکول اور تیروچیراپالی کے سینٹ جوزف کالج سے تعلیم حاصل کی، جہاں سے 1954 میں طبیعیات میں گریجویشن کیا، پھر مدراس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ایرو اسپیس انجینئرنگ پڑھی؛ لڑاکا پائلٹ بننے کا ان کا خواب صرف ایک درجے سے رہ گیا، کیونکہ وہ اہلیت میں نویں نمبر پر رہے جبکہ آسامیاں صرف آٹھ تھیں۔ 2
سائنسی زندگی
1960 میں وہ DRDO میں بطور سائنس دان شامل ہوئے، پھر وکرم سارابھائی کے تحت خلائی تحقیق سے وابستہ ہوئے اور 1969 میں اسرو منتقل ہو گئے، جہاں وہ بھارت کے پہلے سیٹلائٹ لانچ وہیکل کے پروجیکٹ ڈائریکٹر بنے جس نے جولائی 1980 میں روہینی سیٹلائٹ کو مدار میں پہنچایا۔ 2
انہوں نے انٹیگریٹڈ گائیڈڈ میزائل ڈیولپمنٹ پروگرام کی قیادت کی جس میں اگنی اور پرتھوی میزائل تیار ہوئے؛ وہ 1992 سے 1999 تک وزیر اعظم کے چیف سائنٹیفک ایڈوائزر اور DRDO کے سیکرٹری رہے، اور مئی 1998 کے پوکھران-II تجربات میں راجگوپالا چدمبرم کے ساتھ چیف پروجیکٹ کوآرڈینیٹر تھے؛ 1998 میں انہوں نے امراضِ قلب کے ماہر سوماراجو کے ساتھ کم لاگت «کلام-راجو اسٹنٹ» بھی تیار کیا۔ 2
صدارت
2002 میں حکمران اتحاد نے انہیں صدارتی امیدوار نامزد کیا اور حزب اختلاف کانگریس نے بھی حمایت کی؛ وہ 15 جولائی 2002 کے انتخاب میں لکشمی سہگل کو بڑے فرق سے شکست دے کر 25 جولائی 2002 کو بھارت کے گیارہویں صدر بنے — اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے سائنس دان اور پہلے غیر شادی شدہ شخص؛ 2007 میں انہوں نے دوسری مدت کے لیے انتخاب لڑنے سے انکار کر دیا۔ 2 1
صدارت کے بعد وہ تدریس کی طرف لوٹ آئے، آئی آئی ایم شیلانگ سمیت متعدد اداروں میں وزیٹنگ پروفیسر رہے، اور 2012 میں نوجوانوں کے لیے انسدادِ بدعنوانی کی تحریک «وٹ کین آئی گیو» شروع کی۔ 2
دینی و روحانی آراء
یہ حصہ کلام کی آراء کو مصادر کی بیان کردہ صورت میں پیش کرتا ہے، عجائب گھر ان کا کوئی جائزہ نہیں لیتا۔
انگریزی مقالہ انہیں ایک عملی سنی مسلمان بتاتا ہے جن کی زندگی میں روزانہ نماز اور رمضان کے روزے لازمی جز تھے؛ ان کے والد، جو امام تھے، نے ان میں یہ عادات پختہ کی تھیں؛ وکی ڈیٹا بھی ان کا دین اسلامِ سنی درج کرتا ہے۔ 2 4
ان کے والد ہر شام راماناتھاسوامی مندر کے بڑے پجاری اور ایک گرجا کے پادری کے ساتھ بیٹھ کر جزیرے کے معاملات پر گفتگو کیا کرتے تھے، جس سے کلام نے بین المذاہب احترام و مکالمے کی قدر سیکھی؛ ان کا قول نقل ہوا ہے کہ «عظیم لوگوں کے لیے مذہب دوست بنانے کا ذریعہ ہے؛ چھوٹے لوگ مذہب کو لڑائی کا آلہ بناتے ہیں»؛ وہ ہندو روایات سے بھی واقف تھے، سنسکرت سیکھی اور بھگوت گیتا پڑھی، اور ہندو گرو پرمکھ سوامی مہاراج کو اپنا روحانی استاد مانتے تھے، جن سے ان کی چودہ برس میں آٹھ ملاقاتیں ہوئیں اور جن پر انہوں نے اپنی کتاب «ٹرانسینڈینس» (2015) لکھی۔ 2
موقف اور تنقید
اس حصے کو مصادر میں منقول موقف کی نمائش کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔
پوکھران-II کے ٹیسٹ سائٹ ڈائریکٹر کے. سنتانم نے کہا کہ تھرمو نیوکلیئر بم «ناکام» رہا تھا اور کلام پر غلط رپورٹ کا الزام لگایا؛ کلام اور چدمبرم نے یہ دعویٰ مسترد کیا۔ 2
مقالے کے مطابق کلام نے اپنے دور میں سزائے موت کی کمیوٹیشن کی اکیس درخواستوں میں سے صرف ایک پر فیصلہ دیا — دھننجوئے چیٹرجی کی درخواست مسترد کی، جو بعد میں پھانسی پائے — اور بیس درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں دیا، جن میں افضل گرو کی درخواست بھی تھی۔ 2
2011 میں انہوں نے تمل ناڈو کے کوڈنکولم جوہری بجلی گھر کی حمایت کی اور اس کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی، لیکن بعض مقامی لوگ ان کے بیانات سے مطمئن نہیں ہوئے۔ 2
تصانیف اور اعزازات
ان کی مشہور کتابوں میں «انڈیا 2020» (1998)، جو بھارت کو علم کی سپر پاور بنانے کی منصوبہ بندی پیش کرتی ہے، خود نوشت «ونگز آف فائر» (1999)، «اگنائٹڈ مائنڈز» (2002)، «مائی جرنی» (2013) اور «ٹرانسینڈینس» (2015) شامل ہیں۔ 2
انہیں پدما بھوشن (1981)، پدما وبھوشن (1990) اور بھارت رتن (1997) ملے، نیز ہوور میڈل (2008) اور وان براؤن ایوارڈ (2013) بھی۔ 2
وفات اور ورثہ
27 جولائی 2015 کو وہ شیلانگ میں آئی آئی ایم میں «قابلِ زیست کرۂ ارض کی تخلیق» پر لیکچر دیتے ہوئے گر پڑے اور اچانک دل کے دورے سے 83 برس کی عمر میں وفات پا گئے؛ حکومت نے سات روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا، اور 30 جولائی 2015 کو وہ رامیشورم میں مکمل ریاستی اعزاز کے ساتھ دفن ہوئے، جہاں ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے؛ 2017 میں وہاں ان کی یادگار افتتاح ہوئی۔ 2 1
بھارت میں ان کی سالگرہ 15 اکتوبر «یومِ طلبہ» کے طور پر منائی جاتی ہے، نئی دہلی کی ایک سڑک اور اڈیشہ کے میزائل ٹیسٹ مقام کا نام ان کے نام پر رکھا گیا، اور 2017 میں ناسا کے سائنس دانوں نے ایک نئے بیکٹیریا کا نام «سولی بیسیلس کالامی» ان کے اعزاز میں رکھا۔ 2
ذاتی زندگی
کلام زندگی بھر غیر شادی شدہ رہے، سادگی و دیانت کے لیے مشہور تھے، شراب سے پرہیز کرتے اور سبزی خور تھے؛ وہ تمل شاعری لکھتے، بینا بجاتے اور کرناٹک دھارمک موسیقی سنتے تھے؛ ان کے پاس کبھی ٹیلی ویژن نہیں رہا اور ان کی ذاتی ملکیت چند کتابوں، ایک بینا، کپڑوں، سی ڈی پلیئر اور لیپ ٹاپ تک محدود تھی۔ 2
حوالہ جات
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین مصادر، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مقالے کے بعد کے تراجم اور ترامیم کو واضح تواریخِ تجدید کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزہ درکار ہے۔
تعلقات
- Lived in
- دلهي
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)· افتتاح القلعة الحمراء بدلهي· حصار دلهي (١٨٥٧)
ماخذ
- A. P. J. Abdul Kalam — Urdu Wikipedia
- A. P. J. Abdul Kalam — English Wikipedia
- A. P. J. Abdul Kalam — Arabic Wikipedia
- A. P. J. Abdul Kalam — Wikidata Q9513
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الکلام”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/apj-abdul-kalam/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.