فوزیہ کوفی

فوزیه کوفی

بذخشان → كابل

افغان سیاست دان، خواتین کے حقوق کی کارکن اور مصنفہ، 1975ء میں بدخشاں میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے یونیسیف میں چائلڈ پروٹیکشن آفیسر کے طور پر کام کیا (2002ء–2004ء)، 2005ء میں بدخشاں سے ولوسی جرگہ کی رکن منتخب ہوئیں اور افغان پارلیمنٹ کی پہلی خاتون سیکنڈ ڈپٹی اسپیکر بنیں۔ انھوں نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا قانون تیار کیا (2009ء)، کئی قاتلانہ حملوں میں بچیں، دوحہ میں طالبان کے ساتھ حکومتی مذاکراتی ٹیم کی رکن رہیں، اور 2021ء سے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    فوزیہ کوفی (پیدائش 1975ء) بدخشاں سے تعلق رکھنے والی افغان سیاست دان، مصنفہ اور خواتین کے حقوق کی کارکن ہیں، نسلی طور پر تاجک۔ 1 وہ 2005ء سے 2021ء تک ولوسی جرگہ کی رکن اور افغان پارلیمنٹ کی پہلی خاتون سیکنڈ ڈپٹی اسپیکر رہیں، خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا قانون تیار کیا، اور طالبان کے ساتھ حکومتی امن مذاکراتی ٹیم کی رکن رہیں۔ 1 2

    جوانی اور تعلیم

    ان کے والد پچیس برس رکنِ پارلیمنٹ رہے اور افغان جنگ (1979ء–1989ء) کے اختتام پر مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ 1 وہ ایک کثیر الازدواج خاندان میں پیدا ہوئیں؛ مضمون ان کی یادداشتوں کے حوالے سے لکھتا ہے کہ پیدائش کے دن انھیں لڑکی ہونے کی وجہ سے دھوپ میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا، مگر وہ بچ گئیں۔ 1 انھوں نے والدین کو راضی کر کے اسکول جانا شروع کیا — خاندان کی واحد لڑکی جو اسکول گئی — طب کی تعلیم شروع کی مگر 1996ء کے بعد طالبان کی خواتین کی تعلیم پر پابندی نے اسے روک دیا؛ 2001ء کے بعد انھوں نے پریسٹن یونیورسٹی سے بزنس و مینجمنٹ میں ماسٹرز مکمل کیا۔ 1

    یونیسیف اور سیاست میں داخلہ

    2001ء سے انھوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے «بیک ٹو اسکول» مہم چلائی، اور 2002ء سے 2004ء تک یونیسیف میں چائلڈ پروٹیکشن آفیسر کے طور پر بے گھر افراد اور پسماندہ خواتین و بچوں کے ساتھ کام کیا۔ 1

    پارلیمنٹ اور خواتین کا قانون

    2005ء کے انتخابات میں وہ بدخشاں سے ولوسی جرگہ کے لیے منتخب ہوئیں اور افغانستان کی تاریخ کی پہلی خاتون سیکنڈ ڈپٹی اسپیکر بنیں؛ 2010ء میں دوبارہ منتخب ہوئیں۔ 1 پارلیمنٹ میں ان کی توجہ خواتین کے حقوق اور دور دراز دیہات کو اسکولوں اور کلینکوں سے جوڑنے والی سڑکوں پر رہی۔ 1 2009ء میں انھوں نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے (EVAW) کا قانون تیار کیا؛ 2013ء میں پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے پر قدامت پسند ارکان نے اسے روکا اور دعویٰ کیا کہ اس کے بعض آرٹیکل اسلام کے خلاف ہیں — یہ دعویٰ انھی کا بیان کے طور پر درج ہے — جبکہ یہ فرمان صوبوں اور عدالتوں میں نافذ ہوتا رہا۔ 1 بعد میں وہ افغانستان کی خواتین، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ رہیں۔ 1

    امن مذاکرات، حملے اور جلاوطنی

    کوفی کئی قاتلانہ حملوں میں بچیں، جن میں 8 مارچ 2010ء کو تورا بورا کے قریب ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔ 1 2020ء میں وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی 21 رکنی حکومتی ٹیم میں شامل ہوئیں؛ 14 اگست 2020ء کو پروان صوبے سے واپسی پر کابل کے قریب مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی اور گولی ان کے بازو میں لگی۔ 1 اگست 2021ء میں طالبان کے قبضے کے بعد انھیں کابل میں نظر بند کیا گیا، پھر وہ افغانستان چھوڑ کر اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ 1 2024ء میں پارلیمنٹیرینز فار گلوبل ایکشن نے انھیں ڈیفینڈر آف ڈیموکریسی ایوارڈ دیا اور انھیں ایک سرکردہ افغان سیاست دان اور خواتین کے حقوق کی پرعزم حامی قرار دیا جن کا کام انھیں نشانہ بناتا رہا۔ 2

    تصانیف

    ان کی سوانحی یادداشتیں پہلے «میری بیٹیوں کے نام خطوط» (2011ء) اور امریکہ میں «دی فیورڈ ڈاٹر» (2012ء) کے عنوان سے شائع ہوئیں۔ 1 انھیں 2013ء میں بی بی سی کی «100 خواتین» میں شامل کیا گیا۔ 1

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترامیم مؤرخہ ہونی چاہئیں اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    بذخشان
    Lived in
    كابل

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· عبد اللہ عبد اللہ· احمد شاہ مسعود· اشرف غنی· برہان الدین ربانی

    ماخذ

    1. Fawzia Koofi — English Wikipedia
    2. Fawzia Koofi — Parliamentarians for Global Action, Defender of Democracy Award 2024
    • Fawzia Koofi — Wikidata Q3065252
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فوزیہ کوفی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fawzia-koofi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون

    The Mahdi's and Rashid's agents took Sijistan's atawa from Rutbil as strength allowed, posting their own men over the marches Islam had lost. Under al-Ma'mun at Khurasan the atawa came doubled, Kabul was opened, its king showed Islam and obedience, the governor's agent entered, the post-road was joined, and fresh myrobalan was sent him from it — and the land held steady for a time.