ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · writer
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
فوزیہ کوفی (پیدائش 1975ء) بدخشاں سے تعلق رکھنے والی افغان سیاست دان، مصنفہ اور خواتین کے حقوق کی کارکن ہیں، نسلی طور پر تاجک۔ 1 وہ 2005ء سے 2021ء تک ولوسی جرگہ کی رکن اور افغان پارلیمنٹ کی پہلی خاتون سیکنڈ ڈپٹی اسپیکر رہیں، خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا قانون تیار کیا، اور طالبان کے ساتھ حکومتی امن مذاکراتی ٹیم کی رکن رہیں۔ 1 2
جوانی اور تعلیم
ان کے والد پچیس برس رکنِ پارلیمنٹ رہے اور افغان جنگ (1979ء–1989ء) کے اختتام پر مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ 1 وہ ایک کثیر الازدواج خاندان میں پیدا ہوئیں؛ مضمون ان کی یادداشتوں کے حوالے سے لکھتا ہے کہ پیدائش کے دن انھیں لڑکی ہونے کی وجہ سے دھوپ میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا، مگر وہ بچ گئیں۔ 1 انھوں نے والدین کو راضی کر کے اسکول جانا شروع کیا — خاندان کی واحد لڑکی جو اسکول گئی — طب کی تعلیم شروع کی مگر 1996ء کے بعد طالبان کی خواتین کی تعلیم پر پابندی نے اسے روک دیا؛ 2001ء کے بعد انھوں نے پریسٹن یونیورسٹی سے بزنس و مینجمنٹ میں ماسٹرز مکمل کیا۔ 1
یونیسیف اور سیاست میں داخلہ
2001ء سے انھوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے «بیک ٹو اسکول» مہم چلائی، اور 2002ء سے 2004ء تک یونیسیف میں چائلڈ پروٹیکشن آفیسر کے طور پر بے گھر افراد اور پسماندہ خواتین و بچوں کے ساتھ کام کیا۔ 1
پارلیمنٹ اور خواتین کا قانون
2005ء کے انتخابات میں وہ بدخشاں سے ولوسی جرگہ کے لیے منتخب ہوئیں اور افغانستان کی تاریخ کی پہلی خاتون سیکنڈ ڈپٹی اسپیکر بنیں؛ 2010ء میں دوبارہ منتخب ہوئیں۔ 1 پارلیمنٹ میں ان کی توجہ خواتین کے حقوق اور دور دراز دیہات کو اسکولوں اور کلینکوں سے جوڑنے والی سڑکوں پر رہی۔ 1 2009ء میں انھوں نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے (EVAW) کا قانون تیار کیا؛ 2013ء میں پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے پر قدامت پسند ارکان نے اسے روکا اور دعویٰ کیا کہ اس کے بعض آرٹیکل اسلام کے خلاف ہیں — یہ دعویٰ انھی کا بیان کے طور پر درج ہے — جبکہ یہ فرمان صوبوں اور عدالتوں میں نافذ ہوتا رہا۔ 1 بعد میں وہ افغانستان کی خواتین، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ رہیں۔ 1
امن مذاکرات، حملے اور جلاوطنی
کوفی کئی قاتلانہ حملوں میں بچیں، جن میں 8 مارچ 2010ء کو تورا بورا کے قریب ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔ 1 2020ء میں وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی 21 رکنی حکومتی ٹیم میں شامل ہوئیں؛ 14 اگست 2020ء کو پروان صوبے سے واپسی پر کابل کے قریب مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی اور گولی ان کے بازو میں لگی۔ 1 اگست 2021ء میں طالبان کے قبضے کے بعد انھیں کابل میں نظر بند کیا گیا، پھر وہ افغانستان چھوڑ کر اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ 1 2024ء میں پارلیمنٹیرینز فار گلوبل ایکشن نے انھیں ڈیفینڈر آف ڈیموکریسی ایوارڈ دیا اور انھیں ایک سرکردہ افغان سیاست دان اور خواتین کے حقوق کی پرعزم حامی قرار دیا جن کا کام انھیں نشانہ بناتا رہا۔ 2
تصانیف
مآخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مآخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر ترامیم مؤرخہ ہونی چاہئیں اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· عبد اللہ عبد اللہ· احمد شاہ مسعود· اشرف غنی· برہان الدین ربانی
ماخذ
- Fawzia Koofi — English Wikipedia
- Fawzia Koofi — Parliamentarians for Global Action, Defender of Democracy Award 2024
- Fawzia Koofi — Wikidata Q3065252
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “فوزیہ کوفی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fawzia-koofi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.