برہان الدین ربانی

برهان الدين رباني

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

كابل

افغان سیاست دان اور شریعت اسلامی کے استاد، جنھوں نے 1972ء سے جمعیت اسلامی کی قیادت کی اور افغانستان کے صدر رہے (1992ء–1996ء، اور پھر 2001ء کے اواخر میں مختصر مدت کے لیے، درمیان کے برسوں میں جلاوطنی میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدر کی حیثیت سے)۔ بعد ازاں وہ افغانستان نیشنل فرنٹ اور ہائی پیس کونسل کے سربراہ رہے اور 20 ستمبر 2011ء کو، اپنی اکہترویں سالگرہ کے دن، کابل میں اپنے گھر پر طالبان کے امن ایلچی کا روپ دھارے ایک خودکش بمبار کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · عالم
خطہ
persia-central-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزیز بوتفلیقہ · عبدالرحمن یوسفی · عبد القدیر خان

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    برہان الدین ربانی (20 ستمبر 1940ء – 20 ستمبر 2011ء) افغان سیاست دان اور شریعت اسلامی کے استاد تھے، جنھوں نے 1972ء سے جمعیت اسلامی کی قیادت کی اور افغانستان کے صدر رہے (1992ء–1996ء)، اس کے بعد 2001ء تک جلاوطنی میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدر رہے اور اسی سال مختصر مدت کے لیے دوبارہ صدر بنے۔ بعد ازاں وہ افغانستان نیشنل فرنٹ اور ہائی پیس کونسل کے سربراہ رہے، اور اپنی اکہترویں سالگرہ کے دن کابل میں اپنے گھر پر قتل ہوئے۔ 1 2

    تعلیم اور جمعیت اسلامی

    ربانی بدخشاں کے ضلع فیض آباد کے گاؤں یفتال میں محمد یوسف کے ہاں ایک تاجک خاندان میں پیدا ہوئے۔ اپنے صوبے میں تعلیم کے بعد انھوں نے کابل کی دارالعلوم شرعیہ (ابو حنیفہ) اسکول میں پڑھا، پھر جامعہ کابل سے اسلامی قانون اور الٰہیات میں 1963ء میں سند حاصل کی اور وہیں استاد مقرر ہوئے۔ قاہرہ کی جامعہ الازہر سے انھوں نے اسلامی فلسفے میں ماسٹرز اور صوفی شاعر عبد الرحمن جامی پر مقالے کے ساتھ ڈاکٹریٹ کی، اور سید قطب کو فارسی میں منتقل کرنے والے اولین افغانوں میں سے تھے۔ 1972ء میں وہ جمعیت اسلامی کے سربراہ منتخب ہوئے؛ 1974ء میں جب پولیس انھیں جامعہ سے گرفتار کرنے آئی تو ان کے طلبہ نے انھیں فرار ہونے میں مدد دی۔ 1 2

    جامعہ میں ان کی بنائی ہوئی جماعت نے اس وقت کے طلبہ گلبدین حکمتیار اور احمد شاہ مسعود کو اپنی طرف مائل کیا، جو بعد میں سوویت افغان جنگ کے دو سرکردہ مجاہد کمانڈر بنے؛ ربانی کی افواج 1992ء میں کابل میں داخل ہونے والی پہلی مجاہد افواج تھیں۔ 1

    صدارت اور جلاوطنی

    جون 1992ء میں کمیونسٹ حکومت کے خاتمے پر ربانی اسلامی دولت افغانستان کے صدر بنے، اور ستمبر 1996ء میں طالبان کے کابل پر قبضے تک ان کی حکومت خانہ جنگی کے باوجود دارالحکومت پر قابض رہی۔ پھر انھوں نے تسلیم شدہ حکومت کی جلاوطنی میں قیادت کی اور شمالی اتحاد کے سیاسی سربراہ رہے۔ 2001ء میں طالبان کے زوال کے بعد وہ واپس آئے اور 13 نومبر سے 22 دسمبر 2001ء تک دوبارہ صدر رہے، جب بون کانفرنس نے حامد کرزئی کو عبوری رہنما منتخب کیا۔ 1

    آخری برس اور قتل

    ربانی نے اس کے بعد افغانستان نیشنل فرنٹ کی قیادت کی، جو کرزئی حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن تھی، اور 2010ء میں ہائی پیس کونسل کے سربراہ بنے جسے طالبان سے مذاکرات کا کام سونپا گیا تھا۔ 20 ستمبر 2011ء کو، اپنی اکہترویں سالگرہ کے دن، طالبان کے امن ایلچی کا روپ دھارے ایک خودکش بمبار نے کابل میں ان کے گھر پر اپنی پگڑی میں چھپے دھماکہ خیز مواد سے انھیں قتل کر دیا۔ وہ کابل کے وزیر اکبر خان قبرستان میں دفن ہوئے، اور کرزئی نے انھیں «شہید امن» کا خطاب دیا؛ ہائی پیس کونسل میں ان کے جانشین ان کے صاحبزادے صلاح الدین ربانی بنے۔ 1 2

    مذہبی ریکارڈ

    عربی مضمون کے معلوماتی خانے میں ربانی کا مذہب اسلام سنی اور فقہی مذہب حنفی درج ہے، اور اس کا متن ان کے قبیلے کو نسلی طور پر سنی تاجک بیان کرتا ہے۔ انگریزی مضمون ان کے کسی مسلک کا نام نہیں لیتا: اس میں ابو حنیفہ کے نام کے اسکول میں ان کی تعلیم، شریعت اور اسلامی الٰہیات کی ان کی استادی، الازہر کی ڈاکٹریٹ اور ان کی جماعتی قیادت درج ہے — یہ تربیت، عہدہ اور وابستگی ہے، جو بذات خود مسلک ثابت نہیں کرتی۔ عجائب گھر کے اس اصول کے تحت کہ مسلک اسی وقت درج ہوتا ہے جب دو آزاد متن اس کا نام لیں، ان کا مذہب نامعلوم درج ہے اور عربی شہادتیں ڈیٹا فائل میں محفوظ ہیں تاکہ مؤسس فیصلہ کر سکے۔ 1 2

    Sources

    • The defined source entities cited above, recorded in data/source/.
    • Revisions of this article must be dated, and must name the source that changed each fact.

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    كابل
    Died in
    كابل
    Buried in
    كابل

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· عبد اللہ عبد اللہ· احمد شاہ مسعود· اشرف غنی· فوزیہ کوفی

    ماخذ

    1. Burhanuddin Rabbani — English Wikipedia
    2. Burhanuddin Rabbani — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “برہان الدین ربانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/burhanuddin-rabbani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون

    The Mahdi's and Rashid's agents took Sijistan's atawa from Rutbil as strength allowed, posting their own men over the marches Islam had lost. Under al-Ma'mun at Khurasan the atawa came doubled, Kabul was opened, its king showed Islam and obedience, the governor's agent entered, the post-road was joined, and fresh myrobalan was sent him from it — and the land held steady for a time.