ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · عالم
- خطہ
- persia-central-asia
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
برہان الدین ربانی (20 ستمبر 1940ء – 20 ستمبر 2011ء) افغان سیاست دان اور شریعت اسلامی کے استاد تھے، جنھوں نے 1972ء سے جمعیت اسلامی کی قیادت کی اور افغانستان کے صدر رہے (1992ء–1996ء)، اس کے بعد 2001ء تک جلاوطنی میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدر رہے اور اسی سال مختصر مدت کے لیے دوبارہ صدر بنے۔ بعد ازاں وہ افغانستان نیشنل فرنٹ اور ہائی پیس کونسل کے سربراہ رہے، اور اپنی اکہترویں سالگرہ کے دن کابل میں اپنے گھر پر قتل ہوئے۔ 1 2
تعلیم اور جمعیت اسلامی
ربانی بدخشاں کے ضلع فیض آباد کے گاؤں یفتال میں محمد یوسف کے ہاں ایک تاجک خاندان میں پیدا ہوئے۔ اپنے صوبے میں تعلیم کے بعد انھوں نے کابل کی دارالعلوم شرعیہ (ابو حنیفہ) اسکول میں پڑھا، پھر جامعہ کابل سے اسلامی قانون اور الٰہیات میں 1963ء میں سند حاصل کی اور وہیں استاد مقرر ہوئے۔ قاہرہ کی جامعہ الازہر سے انھوں نے اسلامی فلسفے میں ماسٹرز اور صوفی شاعر عبد الرحمن جامی پر مقالے کے ساتھ ڈاکٹریٹ کی، اور سید قطب کو فارسی میں منتقل کرنے والے اولین افغانوں میں سے تھے۔ 1972ء میں وہ جمعیت اسلامی کے سربراہ منتخب ہوئے؛ 1974ء میں جب پولیس انھیں جامعہ سے گرفتار کرنے آئی تو ان کے طلبہ نے انھیں فرار ہونے میں مدد دی۔ 1 2
جامعہ میں ان کی بنائی ہوئی جماعت نے اس وقت کے طلبہ گلبدین حکمتیار اور احمد شاہ مسعود کو اپنی طرف مائل کیا، جو بعد میں سوویت افغان جنگ کے دو سرکردہ مجاہد کمانڈر بنے؛ ربانی کی افواج 1992ء میں کابل میں داخل ہونے والی پہلی مجاہد افواج تھیں۔ 1
صدارت اور جلاوطنی
جون 1992ء میں کمیونسٹ حکومت کے خاتمے پر ربانی اسلامی دولت افغانستان کے صدر بنے، اور ستمبر 1996ء میں طالبان کے کابل پر قبضے تک ان کی حکومت خانہ جنگی کے باوجود دارالحکومت پر قابض رہی۔ پھر انھوں نے تسلیم شدہ حکومت کی جلاوطنی میں قیادت کی اور شمالی اتحاد کے سیاسی سربراہ رہے۔ 2001ء میں طالبان کے زوال کے بعد وہ واپس آئے اور 13 نومبر سے 22 دسمبر 2001ء تک دوبارہ صدر رہے، جب بون کانفرنس نے حامد کرزئی کو عبوری رہنما منتخب کیا۔ 1
آخری برس اور قتل
ربانی نے اس کے بعد افغانستان نیشنل فرنٹ کی قیادت کی، جو کرزئی حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن تھی، اور 2010ء میں ہائی پیس کونسل کے سربراہ بنے جسے طالبان سے مذاکرات کا کام سونپا گیا تھا۔ 20 ستمبر 2011ء کو، اپنی اکہترویں سالگرہ کے دن، طالبان کے امن ایلچی کا روپ دھارے ایک خودکش بمبار نے کابل میں ان کے گھر پر اپنی پگڑی میں چھپے دھماکہ خیز مواد سے انھیں قتل کر دیا۔ وہ کابل کے وزیر اکبر خان قبرستان میں دفن ہوئے، اور کرزئی نے انھیں «شہید امن» کا خطاب دیا؛ ہائی پیس کونسل میں ان کے جانشین ان کے صاحبزادے صلاح الدین ربانی بنے۔ 1 2
مذہبی ریکارڈ
عربی مضمون کے معلوماتی خانے میں ربانی کا مذہب اسلام سنی اور فقہی مذہب حنفی درج ہے، اور اس کا متن ان کے قبیلے کو نسلی طور پر سنی تاجک بیان کرتا ہے۔ انگریزی مضمون ان کے کسی مسلک کا نام نہیں لیتا: اس میں ابو حنیفہ کے نام کے اسکول میں ان کی تعلیم، شریعت اور اسلامی الٰہیات کی ان کی استادی، الازہر کی ڈاکٹریٹ اور ان کی جماعتی قیادت درج ہے — یہ تربیت، عہدہ اور وابستگی ہے، جو بذات خود مسلک ثابت نہیں کرتی۔ عجائب گھر کے اس اصول کے تحت کہ مسلک اسی وقت درج ہوتا ہے جب دو آزاد متن اس کا نام لیں، ان کا مذہب نامعلوم درج ہے اور عربی شہادتیں ڈیٹا فائل میں محفوظ ہیں تاکہ مؤسس فیصلہ کر سکے۔ 1 2
Sources
- The defined source entities cited above, recorded in
data/source/. - Revisions of this article must be dated, and must name the source that changed each fact.
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· عبد اللہ عبد اللہ· احمد شاہ مسعود· اشرف غنی· فوزیہ کوفی
ماخذ
- Burhanuddin Rabbani — English Wikipedia
- Burhanuddin Rabbani — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “برہان الدین ربانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/burhanuddin-rabbani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.