ببرک کارمل

ببرك كارمل

–

افغان کمیونسٹ سیاست دان، جو 1929ء میں کابل کے قریب کماری میں سلطان حسین کے نام سے پیدا ہوئے۔ انھوں نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کی تاسیس میں حصہ لیا اور اس کے پرچم دھڑے کی قیادت کی؛ سوویت مداخلت نے حفیظ اللہ امین کے قتل کے بعد دسمبر 1979ء میں انھیں سربراہِ مملکت بنا دیا۔ 1986ء میں معزولی اور ماسکو جلاوطنی تک اقتدار میں رہے، 1991ء میں افغانستان واپس آئے اور پھر مستقل روانہ ہو گئے، اور دسمبر 1996ء میں ماسکو میں جگر کے کینسر سے انتقال کر گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي · عبدالرحمن یوسفی · عبد الجواد فالاتوري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات1996

    خلاصہ

    ببرک کارمل (6 جنوری 1929ء – 1 یا 3 دسمبر 1996ء) افغان کمیونسٹ سیاست دان تھے۔ کابل کے قریب کماری میں سلطان حسین کے نام سے پیدا ہوئے، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کی تاسیس میں شریک ہوئے اور اس کے پرچم دھڑے کی قیادت کی۔ دسمبر 1979ء کی سوویت مداخلت نے حفیظ اللہ امین کے قتل کے بعد انھیں افغانستان کا سربراہ بنا دیا؛ 1986ء میں ماسکو نے انھیں ہٹا دیا، اور ایک عشرے بعد ماسکو ہی میں ان کا انتقال ہوا۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 6 جنوری 1929ء کو صوبہ کابل کے گاؤں کماری میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد محمد حسین شاہی افغان فوج کے جنرل اور پکتیا و ہرات کے سابق گورنر تھے۔ جرمن بولنے والے نجات اسکول میں پڑھے، 1951ء سے جامعہ کابل کے کالج آف لا اینڈ پولیٹیکل سائنس میں تعلیم پائی، 1953ء میں طلبہ سرگرمیوں پر گرفتار ہوئے، 1956ء میں رہا ہوئے اور 1960ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔ جیل میں میر اکبر خیبر سے دوستی ہوئی جنھوں نے انھیں مارکسزم سے روشناس کرایا؛ رہائی پر انھوں نے اپنا نام ببرک کارمل رکھا، پشتو میں «مزدوروں کا ساتھی»۔ 1

    کمیونسٹ سیاست

    پی ڈی پی اے جنوری 1965ء میں نور محمد ترہ کئی کے گھر قائم ہوئی اور کارمل اس سال پارلیمان کے لیے منتخب ہونے والے اس کے چار ارکان میں سے ایک تھے۔ 1967ء میں جماعت کی تقسیم پر انھوں نے ترہ کئی کے خلق دھڑے کے مقابل پرچم دھڑے کی قیادت کی۔ پرچم دھڑے نے 1973ء میں محمد داؤد خان کے اقتدار میں حصہ لیا، لیکن ستر کی دہائی کے وسط سے داؤد نے ان کی صفائی شروع کر دی؛ 1978ء کے ثور انقلاب کے بعد خلق دھڑے نے پرچم کی صفائی کی اور کارمل پراگ میں چیکوسلواک خفیہ پولیس کے تحفظ میں جلاوطن رہے۔ 1

    حکمرانی، 1979ء–1986ء

    1979ء کے آخر میں کے جی بی انھیں ماسکو لے گئی، اور دسمبر 1979ء میں سوویت افواج نے بغاوت کر کے امین کو قتل کیا اور کارمل کو انقلابی کونسل اور وزرا کونسل کا سربراہ بنا دیا۔ انھوں نے «جمہوریہ افغانستان کے بنیادی اصول» جاری کیے، ترہ کئی و امین دور کے قیدیوں کے لیے عام معافی دی اور سرخ خلقی پرچم کی جگہ روایتی پرچم لگایا۔ انگریزی مضمون درج کرتا ہے کہ یہ پالیسیاں انھیں قبولیت نہ دلا سکیں — وہ بڑے پیمانے پر سوویت کٹھ پتلی سمجھے جاتے تھے — چنانچہ میخائل گورباچوف کے دور میں سوویت قیادت نے 1986ء میں انھیں محمد نجیب اللہ کے حق میں ہٹا کر ماسکو جلاوطن کر دیا۔ 1

    آخری سال اور وفات

    اناہیتا راتبزاد نے نجیب اللہ کو قائل کیا کہ کارمل کو 1991ء میں افغانستان واپسی کی اجازت دی جائے؛ وہ عبد الرشید دوستم کے ساتھی بنے اور شاید 1992ء میں نجیب اللہ حکومت کے خاتمے میں مدد کی، پھر دوبارہ ماسکو چلے گئے۔ 1996ء میں وہیں جگر کے کینسر سے انتقال کر گئے۔ انگریزی مضمون کا صدر ان کی وفات «1 یا 3 دسمبر 1996ء» بتاتا ہے اور متن «دسمبر 1996ء کے آغاز» کہتا ہے، جبکہ اس کا معلوماتی خانہ، عربی مضمون اور ویکی ڈیٹا 3 دسمبر دیتے ہیں؛ ڈیٹا ریکارڈ میں 3 دسمبر متنازع کے نشان کے ساتھ درج ہے۔ انھیں ہیرتان میں دفن کیا گیا۔ 1 2 3

    مذہبی ریکارڈ

    اس ریکارڈ کے لیے پڑھا گیا کوئی متن کارمل کے ذاتی ایمان کی کسی سمت گواہی نہیں دیتا۔ ویکی ڈیٹا کی منظم مذہبی قدر «الحاد» ہے اور عربی و اردو مضامین انھیں زمروں میں «افغان ملحدین» میں رکھتے ہیں، جبکہ اردو خانہ عمومی «اسلام» دیتا ہے اور عربی خانہ خالی ہے؛ زمرہ جات اور منظم اقدار شہادت نہیں، اور ان کی جماعت کا مارکسی پروگرام نظریہ ہے، ذاتی بیان نہیں۔ واحد ذاتی مذہبی متن الٹی سمت جاتا ہے: انگریزی مضمون درج کرتا ہے کہ کابل کے ایک اجلاس میں کارمل نے سوویت یونین کے لیے اپنی گرمجوشی کو اپنے مسلمان ایمان سے تشبیہ دی — یہ ایک منقول تشبیہ ہے جو کسی مکتب کی گواہی نہیں دیتی۔ لہٰذا ان کا ایمان «نامعلوم» درج ہے، بانی کے لیے نشان زد، اور مکمل صورتحال ڈیٹا فائل میں محفوظ ہے۔ 1 2 4 3

    ماخذ

    • اوپر جن متعین ماخذوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہوگی اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے گی۔

    ماخذ

    1. Babrak Karmal — English Wikipedia
    2. Babrak Karmal — Arabic Wikipedia
    3. Babrak Karmal — Wikidata Q63827
    4. Babrak Karmal — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ببرک کارمل”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/babrak-karmal/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-31.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔