ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · engineer · سائنس دان
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
بحر الدین یوسف حبیبی (25 جون 1936 – 11 ستمبر 2019) انڈونیشیائی فضائی انجینئر اور سیاست دان تھے، جو 1998 سے 1999 تک انڈونیشیا کے تیسرے صدر رہے، اور ان کی مختصر صدارت سوہارتو کے عہد سے جمہوری اصلاحات کے دور کا دروازہ ثابت ہوئی۔ 1 2
حکومت میں آنے سے پہلے انہوں نے انڈونیشیا کی ہوائی جہاز سازی کی صنعت قائم کی اور پہلے مقامی مسافر طیارے کے منصوبے کی قیادت کی، جس پر انڈونیشیائیوں نے انھیں «ٹیکنالوجی کا باپ» کا لقب دیا۔ 3
ابتدائی زندگی اور تعلیم
حبیبی جنوبی سولاویسی کے پارے پارے میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد بوگیس گورونتالی نژاد کسان اور والدہ یوگیاکارتا کی جاوی اشرافیہ سے تھیں، اور وہ آٹھ بچوں میں چوتھے تھے۔ 1
ان کے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ چودہ برس کے تھے۔ 1
انہوں نے ہالینڈ میں ڈیلفٹ یونیورسٹی میں فضائیات کی تعلیم شروع کی، مگر ہالینڈ اور انڈونیشیا کے درمیان مغربی نیو گنی کے تنازع نے انھیں جرمنی کی آخن یونیورسٹی منتقل ہونے پر مجبور کر دیا، جہاں 1960 میں انجینئرنگ کی ڈگری لی اور 1965 میں ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ 3
انجینئرنگ اور وزارت
جرمنی میں انہوں نے میسرشمٹ بولکو بلوم کمپنی میں کام کیا، حرارتی حرکیات اور ہوائی حرکیات میں اپنے نام سے منسوب نظریات وضع کیے، اور ایئر بس A300B کی تیاری میں حصہ لیا۔ 1
1974 میں صدر سوہارتو نے انھیں انڈونیشیا واپس بلایا، اور 1978 میں وہ وزیرِ تحقیق و ٹیکنالوجی بنے؛ اس منصب پر بیس برس رہتے ہوئے انہوں نے دس ریاستی اسٹریٹجک صنعتوں کی نگرانی کی اور ہزاروں طالب علموں کو بیرونِ ملک تعلیم کے لیے وظائف دیے۔ 3
ان کی قیادت میں سرکاری طیارہ ساز کمپنی نے 1995 میں N-250 نامی پہلا مقامی مسافر طیارہ بنایا، اگرچہ یہ منصوبہ تجارتی طور پر کامیاب نہ ہو سکا۔ 1
1990 میں وہ انڈونیشیائی مسلم دانشوروں کی تنظیم (ICMI) کے پہلے صدر منتخب ہوئے، جس نے انھیں ایک سیاسی بنیاد فراہم کی۔ 3 4
صدارت
مارچ 1998 میں حبیبی نائب صدر منتخب ہوئے، اور محض اکہتر دن بعد، 21 مئی 1998 کو، ایشیائی مالی بحران اور احتجاج کے درمیان سوہارتو مستعفی ہو گئے تو آئین کے مطابق حبیبی صدر بنے۔ 1
انہوں نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا، صحافت اور سیاسی جماعتوں پر پابندیاں ختم کیں، اور قبل از وقت انتخابات کا وعدہ کیا۔ 1
اگست 1999 میں مشرقی تیمور میں ریفرنڈم ہوا جس میں عوام نے بھاری اکثریت سے آزادی کا انتخاب کیا، یوں 1975 سے جاری انڈونیشیائی قبضہ ختم ہوا۔ 1
اکتوبر 1999 میں عوامی مشاورتی اسمبلی نے ان کی جواب دہی تقریر مسترد کر دی تو انہوں نے اپنی امیدواری واپس لے لی اور عبد الرحمن وحید ان کے جانشین بنے۔ 1
وفات اور ورثہ
صدارت کے بعد انہوں نے «حبیبی سینٹر» نامی آزاد تحقیقی ادارہ قائم کیا اور صدارتی مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 1
حبیبی 11 ستمبر 2019 کو جکارتا کے فوجی اسپتال میں دل کی ناکامی سے وفات پا گئے، حکومت نے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا، اور انھیں کالیباتا کے قومی ہیروز قبرستان میں ان کی اہلیہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ 4 2
ان کے نام پر انڈونیشیا اور مشرقی تیمور میں ادارے اور مقامات موجود ہیں، جن میں دیلی کا ایک پل اور پارے پارے کی ایک تیرتی مسجد شامل ہیں۔ 1
ماخذ
- اوپر مذکور معرّف ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی بعد کی ترمیمات مؤرخ ہوں گی اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کریں گی۔
تعلقات
- Died in
- جاكرتا
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جامعة شريف هداية الله الإسلامية الحكومية· عبد الکریم امر اللہ· آغوس سالم· أحمد محمد الطيب· ڈیڈی کوربوزیئر· حاجی عبد الملک کریم امر اللہ· کاسمان سنگودیمیدجو· کی باگوس ہادیکوسومو
ماخذ
- B. J. Habibie — English Wikipedia
- B. J. Habibie — Wikidata Q76156
- B. J. Habibie — Arabic Wikipedia
- B. J. Habibie — Indonesian Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “بی جے حبیبی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/bj-habibie/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.