چودھری خلیق الزماں

تشودري خليق الزمان

–

پاکستانی سیاست دان (1889ء–1973ء) جن کا تعلق چنار سے تھا؛ آل انڈیا مسلم لیگ کے سرکردہ رہنماؤں میں سے تھے جنھوں نے 1940ء میں قرارداد لاہور کی تائید کی، اور پاکستان کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ (پاکستان) کے پہلے صدر (1948ء–1950ء)، مشرقی بنگال کے گورنر (1953ء–1954ء) بطور فیروز خان نون کے جانشین، انڈونیشیا و فلپائن میں پاکستان کے سفیر، اور یادداشت «شاہراہ پاکستان» (1961ء) کے مصنف۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحمید خان بھاشانی · شیخ عبد المجید سندھی · محمد ادریس سنوسی · محمد الصالح بن مراد · محمد طاہر بن عاشور

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    چودھری خلیق الزماں (25 دسمبر 1889ء – 18 مئی 1973ء) پاکستانی سیاست دان تھے، آل انڈیا مسلم لیگ کے سرکردہ رہنماؤں اور پاکستان کے بانیوں میں سے ایک۔1 انھوں نے مارچ 1940ء میں قرارداد لاہور کی تائید کی، مسلم لیگ (پاکستان) کے پہلے صدر رہے، 1953ء–1954ء میں مشرقی بنگال کے گورنر بنے، اور اپنی یادداشت «شاہراہ پاکستان» میں تحریک پاکستان کا احوال قلم بند کیا۔1

    ابتدائی زندگی

    وہ متحدہ صوبوں کے ضلع مرزا پور کے قدیم قصبے چنار میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد چودھری محمد زمان ریونیو افسر تھے۔1 ان کے چھوٹے بھائی سلیم الزماں صدیقی (1897ء–1994ء) سائنس دان و محقق تھے۔1

    تحریک پاکستان

    14 اگست 1947ء کو آزادی کے لمحے وہ ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی کے مسلم لیگ رکن کی حیثیت سے موجود تھے اور ان چار افراد میں سے ایک تھے جنھوں نے پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں اس اسمبلی سے خطاب کیا؛ دیگر تین نہرو، راجندر پرساد اور رادھا کرشنن تھے۔1 نومبر 1947ء میں وہ پاکستان ہجرت کر آئے، مسلم لیگ (پاکستان) کے چیف آرگنائزر مقرر ہوئے اور 1948ء سے 1950ء تک اس کے پہلے صدر رہے۔1

    گورنری و سفارت

    31 مارچ 1953ء سے مئی 1954ء تک وہ مشرقی بنگال کے گورنر رہے؛ اس عہدے پر وہ فیروز خان نون کے جانشین بنے اور ان کے بعد اسکندر مرزا آئے۔2 1954ء میں وہ انڈونیشیا و فلپائن میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے۔1

    «شاہراہ پاکستان»

    1961ء میں ان کی انگریزی یادداشت «Pathway to Pakistan» شائع ہوئی، جس کا اردو نسخہ «شاہراہ پاکستان» 1967ء میں آیا؛ یہ کتاب تحریک پاکستان پر معلومات کا نادر خزانہ سمجھی جاتی ہے۔1 اس میں انھوں نے لکھا کہ دو قومی نظریہ تقسیم کے بعد ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا، اور جناح خود 11 اگست 1947ء کی تقریر میں اسے خیرباد کہہ چکے تھے۔1

    وفات و اعتراف

    ان کی وفات 18 مئی 1973ء کو ہوئی؛ وکی ڈیٹا ان کی وفات کا مقام کراچی بتاتا ہے۔3 1990ء میں پاکستان پوسٹ نے «Pioneers of Freedom» سلسلے میں ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔1

    حوالہ جات

    {1} {2} {4} {3}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Successor of
    ملک فیروز خان نون

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ملک فیروز خان نون

    ماخذ

    1. Chaudhry Khaliquzzaman — Urdu Wikipedia
    2. Chaudhry Khaliquzzaman — English Wikipedia
    3. Chaudhry Khaliquzzaman — Wikidata Q5088105
    4. Chaudhry Khaliquzzaman — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “چودھری خلیق الزماں”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/chaudhry-khaliquzzaman/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ملک فیروز خان نون

    پاکستانی سیاست دان و مصنف (1893ء–1970ء)، پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم (دسمبر 1957ء – اکتوبر 1958ء)، جن کے دور میں پاکستان نے گوادر سلطنت مسقط و عمان سے خریدا۔ اس سے پہلے مشرقی بنگال کے گورنر (1950ء–1953ء)، پنجاب کے وزیر اعلیٰ (1953ء–1955ء) اور حسین شہید سہروردی کی کابینہ میں وزیر خارجہ رہے؛ آزادی سے قبل لندن میں ہندوستان کے ہائی کمشنر اور وائسرائے کی ایگزیکیٹو کونسل کے رکن تھے۔